کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فصل ہفتم: شیعہ لو گوں کاسیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنا اور خارجی لوگوں کا ان سے بغض رکھنا
حدیث نمبر: 12325
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”إِنَّ فِيكَ مِنْ عِيسَى مَثَلًا أَبْغَضَتْهُ يَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلِ الَّذِي لَيْسَ بِهِ أَلَا وَإِنَّهُ يَهْلِكُ فِيَّ اثْنَانِ مُحِبٌّ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي أَلَا إِنِّي لَسْتُ بِنَبِيٍّ وَلَا يُوحَى إِلَيَّ وَلَكِنِّي أَعْمَلُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا اسْتَطَعْتُ فَمَا أَمَرْتُكُمْ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ فَحَقٌّ عَلَيْكُمْ طَاعَتِي فِيمَا أَحْبَبْتُمْ وَكَرِهْتُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلا کر فرمایا: تم عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہہ ہو، یہود کو ان سے اس قدر بغض تھاکہ انہوں نے ان کی والدہ پر بہتان لگادیا اور نصاریٰ نے ان سے اس قدر محبت کی کہ انہیں وہ درجہ دے دیا، جس پر وہ فائز نہیں تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: خبردار! دو قسم کے لوگ میری وجہ سے ہلاکت سے دوچار ہوں گے، ایک تو مجھ سے محبت کرنے والے، وہ فرط محبت میں میرے متعلق ایسی ایسی باتیں کریں گے، جو درحقیقت مجھ میں نہیں ہیں اور دوسرے مجھ سے بغض رکھنے والے، وہ میری مخالفت میں آکر مجھ پر الزامات لگانے سے بھی نہیں چوکیں گے، خبردار! میں نہ نبی ہوں اور نہ میری طرف وحی آتی ہے، البتہ میں اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت کے مطابق عمل کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتا ہوں، پس میں جب تک تمہیں اللہ کی اطاعت کا حکم دوں تو تمہیں اچھا لگے یا نہ لگے اس بارے میں میرے حکم کی تعمیل تم پر لازم ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12325
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف الحكم بن عبد الملك القرشي ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1377»
حدیث نمبر: 12326
عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ إِنَّ الشِّيعَةَ يَزْعُمُونَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْجِعُ قَالَ كَذَبَ أُولَئِكَ الْكَذَّابُونَ لَوْ عَلِمْنَا ذَاكَ مَا تَزَوَّجَ نِسَاؤُهُ وَلَا قَسَمْنَا مِيرَاثَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے کہا: شیعہ لوگوں کا خیال ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ دوبارہ واپس تشریف لائیں گے، انہوں نے کہا: یہ لوگ جھوٹے ہیں،جھوٹی باتیں کرتے ہیں، اگر یہ بات ہمارے علم میں ہوتی تو سیدنا علی کی ازواج شادی نہ کرتیں اور نہ ہم ان کی میراث کو تقسیم کرتے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی روایات تو ضعیف ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ کئی شیعہ نے ان سے محبت کا اظہار کرنے میں غلوّ سے کام لیا اور وہ شرعی حد سے تجاوز کر گئے اور اپنی کئی خود ساختہ بدعات کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کی آل کو آڑ بنا لیا۔
اور خوارج اس قدر مخالف ہو گئے کہ انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور خوارج کی آپس میں جنگیںہونے لگ گئیں، دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۸۲۲) اور اس کے بعد والی احادیث اور ابواب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12326
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، اخرجه الطبراني في الكبير : 2560 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1266 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1266»