کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت او رنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزہ کا بیان
حدیث نمبر: 12316
عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ ”لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ“ قَالَ فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوكُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا فَقَالَ ”أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ“ فَقَالَ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ قَالَ فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ فَقَالَ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا فَقَالَ ”انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبروالے دن فرمایا: میں کل یہ جھنڈا ایک ایسے آدمی کو تھماؤں گا، جس کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گاوہ آدمی اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ لوگ ساری رات اسی شش و پنج میں رہے کہ ان میں سے کسے یہ جھنڈا دیا جائے گا؟ صبح ہوئی تو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہر ایک کو توقع تھی کہ جھنڈا اسے ملے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ اے اللہ کے رسول! ان کی آنکھیں دکھتی ہیں، لوگوں کو انہیں لانے کے لیے بھیجا گیا، جب ان کو لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب لگایا اور ان کے حق میں دعا فرمائی، وہ فوراً یوں ٹھیک ہوگئے کہ گویا انہیں کوئی تکلیف نہ تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جھنڈا تھما دیا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول!ـ میں ان کے ساتھ اس وقت تک قتال کرتا رہوں، یہاں تک کہ وہ ہماری طرح مسلمان ہو جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اطمینان کے ساتھ روانہ ہو جاؤ، یہاں تک کہ ان کے سامنے جا پہنچو، تم سب سے پہلے ان کو اسلام کی دعوت دینا اور انہیں بتلانا کہ اسلام میں ان پر اللہ کے فلاں فلاں حق واجب ہیں، اللہ کی قسم! اگر تیرے ذریعے اللہ تعالیٰ ایک آدمی کو ہدایت دے دے تو یہ تیرے لیے بیش قیمت سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 12317
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ حَدَّثَنِي أَبِي بُرَيْدَةُ قَالَ حَاصَرْنَا خَيْبَرَ فَأَخَذَ اللِّوَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَانْصَرَفَ وَلَمْ يُفْتَحْ لَهُ ثُمَّ أَخَذَهُ مِنَ الْغَدِ فَخَرَجَ فَرَجَعَ وَلَمْ يُفْتَحْ لَهُ وَأَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ شِدَّةٌ وَجَهْدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي دَافِعٌ اللِّوَاءَ غَدًا إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَيُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَرْجِعُ حَتَّى يُفْتَحَ لَهُ“ فَبِتْنَا طَيِّبَةً أَنْفُسَنَا أَنَّ الْفَتْحَ غَدًا فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْغَدَاةَ ثُمَّ قَامَ قَائِمًا فَدَعَا بِاللِّوَاءِ وَالنَّاسُ عَلَى مَصَافِّهِمْ فَدَعَا عَلِيًّا وَهُوَ أَرْمَدُ فَتَفَلَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَفَعَ إِلَيْهِ اللِّوَاءَ وَفُتِحَ لَهُ قَالَ بُرَيْدَةُ وَأَنَا فِيمَنْ تَطَاوَلَ لَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے خیبر کا محاصرہ کیا، جھنڈا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا، وہ واپس آ گئے اور فتح نہیں ہوئی، دوسرے دن پھر جھنڈا ان ہی کے پاس رہا، اس دن بھی وہ لوٹ آئے اور فتح نہ ہو سکی، اس روز لوگوں کو کافی تکلیف اور مشقت کا سامنا کرنا پڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کل یہ جھنڈا ایسے آدمی کے حوالے کروں گا کہ اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، و ہ فتح کے بغیر واپس نہیں آئے گا۔ ہم نے خوشی خوشی میں رات گزاری کہ کل فتح ہو جائے گی، جب صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جھنڈا منگوایا، لوگ صفوں میں بیٹھے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلوایا، ان کی آنکھیں دکھتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب مبارک لگایا اور جھنڈا ان کے حوالے کیا، ان کے ہاتھوں فتح نصیب ہوئی۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جھنڈا حاصل کرنے کی خواہش میں جن لوگوں نے گردنیں اٹھائی ہوئی تھیں، میں بھی انہی میں شامل تھا۔
حدیث نمبر: 12318
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الرَّايَةَ فَهَزَّهَا ثُمَّ قَالَ ”مَنْ يَأْخُذُهَا بِحَقِّهَا“ فَجَاءَ فُلَانٌ فَقَالَ أَنَا قَالَ ”أَمِطْ“ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ ”أَمِطْ“ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ لَأُعْطِيَنَّهَا رَجُلًا لَا يَفِرُّ هَاكَ يَا عَلِيُّ“ فَانْطَلَقَ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ وَفَدَكَ وَجَاءَ بِعَجْوَتِهِمَا وَقَدِيدِهِمَا قَالَ مُصْعَبٌ بِعَجْوَتِهَا وَقَدِيدِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جھنڈا پکڑ کر لہرایا اور فرمایا: کون ہے جو اس جھنڈے کو لے کر اس کا حق ادا کرے گا؟ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: جی میں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہٹ جاؤ۔ پھر ایک اور آدمی آیا ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بھی ہٹ جاؤ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کو عزت سے نوازا ہے، میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا، جو میدان جنگ سے فرار نہیں ہوگا، اے علی! یہ لو جھنڈا۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جھنڈا تھامے روانہ ہو گئے تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں خیبر اور فدک فتح کرا دیا اور وہ وہاں کی عجوہ نامی کھجور اور دھوپ میں خشک کیا ہوا گوشت لے کر واپس لوٹے۔
حدیث نمبر: 12319
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ كَانَ أَبِي يَسْمُرُ مَعَ عَلِيٍّ فَكَانَ عَلِيٌّ يَلْبَسُ ثِيَابَ الصَّيْفِ فِي الشِّتَاءِ وَثِيَابَ الشِّتَاءِ فِي الصَّيْفِ فَقِيلَ لَهُ لَوْ سَأَلْتَهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيَّ وَأَنَا أَرْمَدُ يَوْمَ خَيْبَرَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَمِدٌ فَتَفَلَ فِي عَيْنَيَّ وَقَالَ ”اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ“ فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا بَعْدُ قَالَ وَقَالَ ”لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَيُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَيْسَ بِفَرَّارٍ“ قَالَ فَتَشَرَّفَ لَهَا النَّاسُ قَالَ فَبَعَثَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے والد، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ رات کو بیٹھے باتیں کیا کرتے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سردیوں میں گرمی والے اور گرمیوں میں سردی والے کپڑے پہنا کرتے تھے، کسی نے میرے والد سے کہا کہ آپ ان سے اس کی وجہ تو دریافت کریں، چنانچہ انہوں نے ان سے اس بارے میں کہا تو انہوں نے کہا: خیبر کے روز میری آنکھیں دکھتی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلوایا اور میری آنکھوں میں اپنا لعاب مبارک لگایا اور مجھے دعادیتے ہوئے فرمایا: یا اللہ! اس سے گرمی سردی کا احساس دور کر دے۔ چنانچہ اس دن سے مجھے نہ گرمی محسوس ہوتی ہے اور نہ سردی، نیز اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: میں یہ جھنڈا یسے آدمی کو عطا کر وں گا، جسے اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت رکھتے ہیں اور وہ میدان جنگ سے شکست کھا کر فرار ہونے والا نہیں۔ چنانچہ جھنڈا دئیے جانے کے وقت اس کو حاصل کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بہت سے اصحاب نے گردنیں اوپر کو اٹھائیں اور اس وقت آپ نے وہ جھنڈا مجھے عطا فرما دیا۔
حدیث نمبر: 12320
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ ”لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ“ فَتَطَاوَلْنَا لَهَا فَقَالَ ”ادْعُوا لِي عَلِيًّا“ فَأُتِيَ بِهِ أَرْمَدَ فَبَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ} [آل عمران: 61] دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ ”اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا، جسے اللہ اور اسکے رسول سے محبت اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ ہم سب نے جھنڈا حاصل کرنے کی خواہش میں گردنیں اٹھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی کو بلاؤ۔ پس انہیں لایا گیا، لیکن ان کی آنکھیں دکھتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب مبارک لگایا اور جھنڈا ان کے حوالے کر دیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں فتح نصیب فرمائی اور جب یہ آیت {نَدْعُ أَبْنَائَنَا وَأَبْنَائَکُمْ}نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین کو بلایا اور فرمایا: یااللہ! یہ لوگ میرے اہل ہیں۔
حدیث نمبر: 12321
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ ”لَأَدْفَعَنَّ الرَّايَةَ إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ“ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ فَمَا أَحْبَبْتُ الْإِمَارَةَ قَبْلَ يَوْمَئِذٍ فَتَطَاوَلْتُ لَهَا وَاسْتَشْرَفْتُ رَجَاءَ أَنْ يَدْفَعَهَا إِلَيَّ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ دَعَا عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَامُ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ فَقَالَ ”قَاتِلْ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتَّى يُفْتَحَ عَلَيْكَ“ فَسَارَ قَرِيبًا ثُمَّ نَادَى يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَامَ أُقَاتِلُ قَالَ ”حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے دن فرمایا: اب میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا، جسے اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے، اس لیے کہ اس کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ فتح نصیب فرمائے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ میں نے اس واقعہ سے پہلے کبھی امارت کی خواہش نہیں کی تھی، اس روز جھنڈا حاصل کرنے کی خواہش میں میں نے بھی گردن اوپر کو اٹھائی اور اونچا ہو ہو کر دیکھنے لگا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ جھنڈا مجھے عطا فرما دیں، لیکن جب دوسرا دن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلوا کر جھنڈا انہیں تھمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان سے قتال کرتے رہنا، یہاں تک کہ آپ فتح یاب ہو جائیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تھوڑ ا سا چلنے کے بعد کہا: اے اللہ کے رسول! بھلا میں ان سے کس بات پر قتال کروں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بات پر قتال کرو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیں، وہ لوگ جب یہ کام کر لیں تو وہ اپنے خون اور اموال کو مجھ سے بچا لیں گے، مگر ان کے حق کے ساتھ اور ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔
وضاحت:
فوائد: … غزوۂ خیبر کی تفصیلات میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس خصوصیت کا ذکر ہو چکا ہے، یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بڑی شہادتیں ہیں۔