کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فصل چہارم: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امام علی رضی اللہ عنہ کے حق میں فرمانا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، … ۔
حدیث نمبر: 12312
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ قُلْتُ لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ حَدِيثٍ وَأَنَا أَهَابُكَ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْهُ فَقَالَ لَا تَفْعَلْ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا عَلِمْتَ أَنَّ عِنْدِي عِلْمًا فَسَلْنِي عَنْهُ وَلَا تَهَبْنِي قَالَ فَقُلْتُ قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ حِينَ خَلَّفَهُ بِالْمَدِينَةِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ سَعْدٌ خَلَّفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا بِالْمَدِينَةِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُخَلِّفُنِي فِي الْخَالِفَةِ فِي النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فَقَالَ ”أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى“ قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَدْبَرَ عَلِيٌّ مُسْرِعًا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى غُبَارِ قَدَمَيْهِ يَسْطَعُ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ فَرَجَعَ عَلِيٌّ مُسْرِعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سعد بن مالک یعنی سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا: میں آپ سے ایک حدیث کی بابت دریافت کرنا چاہتا ہوں، لیکن آپ سے ہیبت زدہ بھی ہوں،انہوں نے کہا: بھتیجے! ایسا نہ کرو، اگر تم جانتے ہو کہ میرے پا س کسی چیز کا علم ہے تو پوچھ لو اور مجھ سے مت ڈرو، میں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے مدینہ ـ میں چھوڑ گئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ تبوک کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے مدینہ میں چھوڑا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے پیچھے رہ جانے والے بچوں اور عورتوں میں چھوڑ کر جارہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تمہارا میرے ساتھ وہی تعلق ہو جو ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام سے تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسو ل! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ خوشی خوشی تیزی سے واپس ہوگئے، گویا کہ اب بھی میں ان کے قدموں سے اڑتا غبار دیکھ رہا ہوں۔ حماد راوی کے الفاظ یہ ہیں:یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تیزی سے واپس ہولیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12312
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه مسلم: 2404، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1490»
حدیث نمبر: 12313
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْكِي يَقُولُ تُخَلِّفُنِي مَعَ الْخَوَالِفِ فَقَالَ ”أَوَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا النُّبُوَّةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نکلے ،یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثنیۂ وداع تک پہنچے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے کہا: آپ مجھے پیچھے رہ جانے والوں یعنی عورتوں اور بچوں میں چھوڑ ے جارہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ تمہارا میرے ساتھ وہی تعلق ہو، جو ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام سے تھا، ما سوائے نبوت کے فرق کے؟
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12313
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1463»
حدیث نمبر: 12314
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخَلِّفَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَهُ عَلِيٌّ مَا يَقُولُ النَّاسُ فِيَّ إِذَا خَلَّفْتَنِي قَالَ فَقَالَ ”مَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ أَوْ لَا يَكُونُ بَعْدِي نَبِيٌّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (غزوۂ تبوک کے موقع پر ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے چھوڑ جانے کا ارادہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ مجھے یوں پیچھے چھوڑ جائیں گے تو لوگ میرے بارے میں کیا کہیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتمہیں یہ پسند نہیں کہ تمہارا تعلق میرے ساتھ وہی ہو، جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام کا تھا، الایہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12314
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه الترمذي: 3730 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14638 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14693»
حدیث نمبر: 12315
عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ عَلِيٍّ فَقَالَ لَهَا رَفِيقِي أَبُو سَهْلٍ كَمْ لَكِ قَالَتْ سِتَّةٌ وَثَمَانُونَ سَنَةً قَالَ مَا سَمِعْتِ مِنْ أَبِيكِ شَيْئًا قَالَتْ حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ ”أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
موسیٰ جہنی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فاطمہ بنت علی کی خدمت میں گیا،میرے رفیق ابو سہل نے ان سے کہا: آپ کی عمر کتنی ہے؟ انہوں نے کہا: چھیاسی برس، ابو سہل نے کہا: آپ نے اپنے والد (سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) کے بارے میں کیا کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تمہارا مجھ سے وہی مقام ہے، جو ہارون علیہ السلام کا موسی علیہ السلام سے تھا، الایہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مطلق طور پر افضل ہونا لازم نہیں آتا، بلکہ ان احادیث میں خلیفۂ چہارم کی ایک فضیلت بیان کی گئی ہے اور ان احادیث کا یہ مطلب بھی نہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفۂ بلا فصل ہوں گے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کا تعلق اس موقع سے ہے، جب غزوۂ تبوک کے موقع پر ان کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا تھا، آپ خود غور کریں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ہارون علیہ السلام سے تشبیہ دی جا رہی ہے، جبکہ اہل تاریخ کے نزدیک ہارون علیہ السلام، موسی علیہ السلام کی زندگی میں ہی فوت ہو گئے تھے اور موسی علیہ السلام نے ان کو اس وقت اپنا نائب بنایا تھا، جب وہ اپنے ربّ سے سرّ و مناجات کرنے کے لیے گئے تھے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جیسے ہارون علیہ السلام کا استخلاف عارضی طور پر تھا، اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس نیابت کا تعلق ان پچاس دنوں سے تھا، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں موجود نہیں تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12315
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه النسائي في الكبري : 8143، والطبراني: 24/384، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27081 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27621»