کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فصل دوم: سید نا علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
حدیث نمبر: 12292
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ اشْتَكَى عَلِيًّا النَّاسُ قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِينَا خَطِيبًا فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ”أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَشْكُوا عَلِيًّا فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَأَخْشَنُ فِي ذَاتِ اللَّهِ أَوْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعد خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں شکایتیں کیں، سو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگو! تم علی کے شکوے مت کیا کرو، وہ اللہ کی ذات کے بارے میں یا اللہ تعالیٰ کی راہ میں بہت سخت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12292
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «زينب بنت كعب مختلف في صحبتھا، روي عنھا ابنا اخويھا، وزكرھا ابن حبان في الثقات ، واخرج لھا اصحاب السنن، اخرجه الحاكم: 1/ 68، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11839»
حدیث نمبر: 12293
عَنْ عَمْرِو بْنِ شَأْسٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عَلِيٍّ إِلَى الْيَمَنِ فَجَفَانِي فِي سَفَرِي ذَلِكَ حَتَّى وَجَدْتُ فِي نَفْسِي عَلَيْهِ فَلَمَّا قَدِمْتُ أَظْهَرْتُ شِكَايَتَهُ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى بَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ذَاتَ غُدْوَةٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا رَآنِي أَمَدَّنِي عَيْنَيْهِ يَقُولُ حَدَّدَ إِلَيَّ النَّظَرَ حَتَّى إِذَا جَلَسْتُ قَالَ ”يَا عَمْرُو وَاللَّهِ لَقَدْ آذَيْتَنِي“ قُلْتُ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أُوذِيَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”بَلَى مَنْ آذَى عَلِيًّا فَقَدْ آذَانِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمر و بن شاس اسلمی رضی اللہ عنہ ، جو کہ اصحابِ حدیبیہ میں سے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں یمن کی جانب گیا، دوران سفر انہوں نے میرے ساتھ کچھ سختی کی، اس سے مجھے دل میں بہت کوفت ہوئی، جب میں واپس آیا تو میں نے اعلانیہ مسجد میں ان کا شکوہ کردیا، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچ گئی، میں ایک دن صبح کے وقت مسجد میں داخل ہو ا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے ہمراہ تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نظریں مجھ پر گاڑھ دیں، پھر میں بیٹھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمرو! اللہ کی قسم! تو نے مجھے تکلیف دی ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ آپ کو ایذا پہنچاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جس نے علی کو ایذا دی، اس نے درحقیقت مجھے تکلیف پہنچائی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12293
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، الفضل بن معقل ليس بمشھور، وترجم له البخاري وابن ابي حاتم ولم يذكرا فيه جرحا ولاتعديلا، اخرجه الحاكم: 3/122، والبزار: 2561، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15960 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16056»
حدیث نمبر: 12294
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ السَّلُولِيُّ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَلَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِيٌّ“ وَقَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ”لَا يَقْضِي عَنِّي دَيْنِي إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا یحییٰ بن آدم سلولی رضی اللہ عنہ ، جو کہ حجۃ الوداع کے موقع پر حاضرتھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں، میری طرف سے ادائیگی یا تو میں خود کروں گا، یا علی کرے گا۔ ابن ابی بکیر کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: میرا قرضہ میں خود ادا کروں گا یا میری طرف سے علی ادا کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12294
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف ومتنه منكر، ابو اسحاق السبيعي شھر بالتدليس اضافة الي انه قد تغير بأخرة، وسماعه من حبشي بن جنادة لا يثبت من طريق صحيحة، اخرجه الترمذي: 3719، وابن ماجه: 119 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17505 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17645»
حدیث نمبر: 12295
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ ”لَا يُبْغِضُكَ مُؤْمِنٌ وَلَا يُحِبُّكَ مُنَافِقٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کوئی مومن تجھ سے بغض نہیں رکھ سکتا اور کوئی منافق تجھ سے محبت نہیں کر سکتا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی محبت ایمان اور نفاق کے لیے معیار ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12295
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه الترمذي: 3717، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26507 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27040»
حدیث نمبر: 12296
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ لِي أَيُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ قُلْتُ مَعَاذَ اللَّهِ أَوْ سُبْحَانَ اللَّهِ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ سَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو عبداللہ جدلی کہتے ہیں: میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے مجھ سے کہا: کیا تمہارے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برا بھلا کہا جا رہا ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی پناہ، یا کہا: سبحان اللہ! بڑا تعجب ہے، یا اسی قسم کا کوئی کلمہ کہا، (یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برا بھلا کہا جائے) انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے علی کو برا بھلا کہا، اس نے یقینا مجھے برا بھلا کہا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12296
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه الحاكم: 3/ 121، والطبراني في الكبير : 23/737، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26748 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27284»
حدیث نمبر: 12297
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَاللَّهِ إِنَّهُ مِمَّا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهُ لَا يُبْغِضُنِي إِلَّا مُنَافِقٌ وَلَا يُحِبُّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے خصوصی طور پر جو باتیں بیان کی، ان میں سے ایک یہ تھی: مجھ سے بغض صرف منافق رکھے گا اور مجھ سے محبت صرف مومن کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12297
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 78، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 642 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 642»
حدیث نمبر: 12298
عَنِ الْمِنْهَالِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] قَالَ جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ فَاجْتَمَعَ ثَلَاثُونَ فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا قَالَ فَقَالَ لَهُمْ ”مَنْ يَضْمَنُ عَنِّي دَيْنِي وَمَوَاعِيدِي وَيَكُونُ مَعِي فِي الْجَنَّةِ وَيَكُونُ خَلِيفَتِي فِي أَهْلِي“ فَقَالَ رَجُلٌ لَمْ يُسَمِّهِ شَرِيكٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْتَ كُنْتَ بَحْرًا مَنْ يَقُومُ بِهَذَا قَالَ ثُمَّ قَالَ لِآخَرَ قَالَ فَعَرَضَ ذَلِكَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب یہ آیت {وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَکَ الْأَقْرَبِینَ} … اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ نازل ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خاندان کے لوگوں کو جمع کیا، تیس آدمی جمع ہو گئے، انہوں نے کھایا پیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم میں سے کون ہے، جو میرے قرض کی ادائیگی اور میرے وعدوں کو پورا کرنے کی ضمانت دے گا، اس کے نتیجہ میں وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا اور میرے اہل میں میرا خلیفہ ہوگا؟ ایک آدمی نے جواباً کہا: اللہ کے رسول! آپ تو سمندر ہیں، کون ان ذمہ داریوں کو ادا کر سکتا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی اور کو بھی یہ بات کہی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی بات جب اپنے اہل بیت پر پیش کی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں اس کی ضمانت دیتا ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12298
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله النخعي ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 883 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 883»
حدیث نمبر: 12299
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ خَدِيجَةَ عَلِيٌّ وَقَالَ مَرَّةً أَسْلَمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سب سے پہلے نماز پڑھنے والے یا ان کے بعد سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12299
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف بھذه السياقة، ابو بلج يحيي بن سليم يقبل حديثه فيما لا ينفرد به، اخرجه الترمذي: 3734، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3542 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3542»
حدیث نمبر: 12300
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا نَقُولُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ خَيْرُ النَّاسِ ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ وَلَقَدْ أُوتِيَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ ثَلَاثَ خِصَالٍ لَأَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ زَوَّجَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ وَوَلَدَتْ لَهُ وَسَدَّ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَهُ فِي الْمَسْجِدِ وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں کہا کرتے تھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب لوگوں سے افضل ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو تین ایسی خصوصیات نصیب ہوئی ہیں کہ اگر مجھے ان میں سے کوئی ایک مل جاتی تووہ مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہوتی، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی کی ان سے شادی کی،ان سے ان کی اولاد ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے دروازے کے علاوہ مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر وادئیے اور خیبر کے روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جھنڈا عطا فرمایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12300
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ھشام بن سعد ضعّفوه، يكتب حديثه للمتابعات، ولا يحتج به، اخرجه ابويعلي: 5601، وابن ابي شيبة: 12/ 9 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4797 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4797»
حدیث نمبر: 12301
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الرَّقِيمِ الْكِنَانِيِّ قَالَ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ زَمَنَ الْجَمَلِ فَلَقِينَا سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ بِهَا فَقَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَدِّ الْأَبْوَابِ الشَّارِعَةِ فِي الْمَسْجِدِ وَتَرْكِ بَابِ عَلِيٍّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن رقیم کنانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:جنگ جمل کے دنوں میں ہم مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے اور سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہماری ملاقات ہوئی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیئے جائیں، البتہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا دروازہ کھلا رہنے دیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12301
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة عبد الله بن الرقيم، وعبدُ الله بن شريك مختلف فيه، أخرجه النسائي في الخصائص : 41 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1511 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1511»
حدیث نمبر: 12302
عَنْ أَبِي حَسَّانَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَأْمُرُ بِالْأَمْرِ فَيُؤْتَى فَيُقَالُ قَدْ فَعَلْنَا كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ الْأَشْتَرُ إِنَّ هَذَا الَّذِي تَقُولُ قَدْ تَفَشَّى فِي النَّاسِ أَفَشَيْءٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا خَاصَّةً دُونَ النَّاسِ إِلَّا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْهُ فَهُوَ فِي صَحِيفَةٍ فِي قِرَابِ سَيْفِي قَالَ فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى أَخْرَجَ الصَّحِيفَةَ قَالَ فَإِذَا فِيهَا ”مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ قَالَ وَإِذَا فِيهَا إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي أُحَرِّمُ الْمَدِينَةَ حَرَامٌ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْهَا وَحِمَاهَا كُلُّهُ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمَنْ أَشَارَ بِهَا وَلَا تُقْطَعُ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِيرَهُ وَبُجْمَلُ فِيهَا السِّلَاحُ لِقِتَالٍ وَقَالَ وَإِذَا فِيهَا الْمُؤْمِنُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو حسان سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کسی کا م کا حکم دیتے تو لوگ وہ کام کر لینے کے بعد آ کر کہتے کہ ہم نے وہ کام کر لیا، یہ سن کر وہ کہتے: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا ہے، اشتر نے ان سے کہا: آپ کی یہ بات اب لوگوں میں عام ہوچکی ہے، اگر اللہ کے رسول نے آپ سے کچھ فرمایا ہوتو اسے بیان کردیا کریں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عام لوگوں سے ہٹ کر مجھے خاص کر کے کچھ نہیں فرمایا، البتہ صرف ایک بات ہے جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے اور وہ میری تلوار کے نیام میں لکھی ہوئی موجود ہے، لوگ اس کا اصرار کرتے رہے، یہاں تک کہ انہوں نے وہ تحریر نکال دی، اس میں لکھا تھا کہ جو شخص بدعت جاری کر ے یا بدعتی کو پناہ دے تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس کی فرضی اور نفلی عبادت قبول نہیں ہوگی۔ اور اس میں یہ بات بھی لکھی ہوئی تھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا تھا اور میں مدینہ منورہ کوحرم قرار دیتا ہوں اس کے دو میدانوں کے درمیان والا سارا علاقہ حرام ہے۔ اس کی چراگاہ کی گھاس نہ کاٹی جائے اس کے شکار کو بھگایا نہ جائے۔ اس کی گری ہوئی چیز کوئی نہ اٹھائے مگر اس کا اعلان کرنے والا۔ (وہ اٹھا سکتا ہے اس کا کوئی درخت نہ کاٹا جائے۔ ہاں آدمی اپنے اونٹ کو پتے ڈال سکتا ہے۔ لڑائی کے لیے اس میں ہتھیار نہ اٹھایا جائے۔ اس صحیفہ میں یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کے خون برابر ہیں۔ ان میں ادنیٰ آدمی کسی کو پناہ دے سکتا۔ وہ کافروں کے خلاف ایک ہاتھ کی طرح اکٹھے اور جماعت ہیں۔ مومن کو کافر کے بدلے میں اور ذمی کو اس کے عہد و پیمان کے دوران قتل نہیں کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12302
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه مختصرا ابوداود: 2035، والنسائي: 8/ 24، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 959»
حدیث نمبر: 12303
عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ وَأَنَا أَسْمَعُ نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِوَادٍ يُقَالُ لَهُ وَادِي خُمٍّ فَأَمَرَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّاهَا بِهَجِيرٍ قَالَ فَخَطَبَنَا وَظُلِّلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبٍ عَلَى شَجَرَةِ سَمُرَةٍ مِنَ الشَّمْسِ فَقَالَ ”أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَوْ لَسْتُمْ تَشْهَدُونَ أَنِّي أَوْل اللَّهُ عَلَيْكَ وَرَسُولُهُ“ قَالُوا بَلَى قَالَ ”فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ عَلِيًّا مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساتھ ایک وادی میں اترے، اس کو وادی خُم کہتے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کا حکم دیا اور سخت گرمی میں ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور دھوپ سے بچانے کے لیے کیکر کے درخت پر کپڑا ڈال کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے نہیں ہو، یا کیا تم یہ گواہی نہیں دیتے کہ میں ہر مومن کے اس کے نفس سے بھی زیادہ قریب ہوں؟ صحابہ نے کہا: جی کیوں نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جس کا دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے، اے اللہ! تو اس سے دشمنی رکھ، جو علی سے دشمنی رکھتا ہے اور تو اس کو دوست رکھ، جو علی کو دوست رکھتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … غدیر خم: علامہ سندھی نے کہا: یہ گھنے اور بکثرت درختوں والی جگہ ہے، جو جحفہ سے تین میل کے فاصلے پر ہے، اس کے پاس ایک مشہور جوہڑ ہے، وہ اسی جگہ کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ اس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور ان کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مناسبت کا بیان ہے۔ ملا علی قاری نے کہا: اس کا معنی یہ ہے: میں جس سے دوستی کرتا ہوں، علی بھی اس سے دوستی رکھتا ہے یا جو مجھے دوست بنائے گا، علی اس کو دوست بنائے گا۔ لفظ مولٰی کا اطلاق کئی معانی پر ہوتا ہے، جیسے ربّ، مالک، سیّد، مُنعِم، جس پر انعام کیاجائے، آزاد کنندہ، آزاد شدہ، غلام، ناصر، محِب، تابع، پڑوسی، چچا زاد، حلیف، عقد والا، وغیرہ۔ امام شافعی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد اسلام کی دوستی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ حدیث بیان کرنے کا سبب یہ ہے کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: تم میرے دوست نہیں ہو، میرے دوست تو رسول اللہ ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ردّ کرتے ہوئے فرمایا: میں جس کا دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے۔
شیعہ لوگوں کا خیال ہے کہ لفظ مولٰی کے معانی متصرف کے ہیں، یعنی جن امور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تصرف کرنے کا حق حاصل تھا، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی حاصل تھا، مومنوں کے معاملات بھی ایک چیز تھی، اس لیے سیدنا علی بھی امام ہوں گے۔ لیکن طیبی نے کہا: ولایت کو اس امامت پر محمول نہیں کیا جا سکتا، جس کا معنی مومنوں کے امور میں تصرف کرنا ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زندگی میں مستقل اور واحد متصرف تھے(اس وصف میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کوئی دوسرا شریک نہ تھا)، اس لیے ولایت کو محبت اور اسلام دوستی پر محمول کرنا چاہیے۔ (ملخص از مرقاۃ المفاتیح: ۱۰/ ۴۶۳، ۴۶۴)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: شیعہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث نقل کرتے ہیں: ((اِنَّہُ خَلِیْفَتِیْ مِنْ بَعْدِیْ۔)) … میرے بعد وہ خلیفہ ہوں گے۔
لیکن یہ روایت کسی طرح بھی صحیح نہیںہے، بلکہ یہ ان شیعوں کی باطل روایات میں سے ہے۔ تاریخی واقعہ بھی اس کی تکذیب پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اگر یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول ہوتی تو ایسے ہی واقع ہوتا کہ سب سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنتے اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ نہ بنتے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان وحی ہوتا ہے اور وحی میں جو بات جیسے بیان کی جاتی ہے، وہ اسی طرح واقع ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی مخالفت بھی نہیں کرتا۔ میں نے ضعیفہ (۴۹۲۳، ۴۹۳۲) میں اس قسم کی مرویات ذکر کر کے ان کا بطلان واضح کیا ہے۔ (صحیحہ: ۱۷۵۰)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12303
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه البزار: 2537، والطبراني في الكبير : 5092، والنسائي في الكبري : 8469 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19325 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19540»
حدیث نمبر: 12304
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ اسْتَشْهَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ فَقَالَ أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ“ قَالَ فَقَامَ سِتَّةَ عَشَرَ رَجُلًا فَشَهِدُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے گواہی طلب کی اور کہا: میں اس آدمی کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ! میں جس کا دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے، اے اللہ! جو علی کو دوست رکھے تو بھی اسے اپنا دوست رکھ اور جو علی سے عداوت رکھے تو بھی اس سے عداوت رکھ۔ یہ سن کر سولہ آدمی کھڑے ہوئے اور انھوں نے یہ شہادت دی (کہ واقعی انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12304
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه الطبراني في الكبير : 4996 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23143 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23531»
حدیث نمبر: 12305
عَنْ رِيَاحِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ جَاءَ رَهْطٌ إِلَى عَلِيٍّ بِالرَّحْبَةِ فَقَالُوا السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مَوْلَانَا قَالَ كَيْفَ أَكُونُ مَوْلَاكُمْ وَأَنْتُمْ قَوْمٌ عَرَبٌ قَالُوا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ يَقُولُ ”مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ هَذَا مَوْلَاهُ“ قَالَ رِيَاحٌ فَلَمَّا مَضَوْا تَبِعْتُهُمْ فَسَأَلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ قَالُوا نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ رَأَيْتُ قَوْمًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَدِمُوا عَلَى عَلِيٍّ فِي الرَّحْبَةِ فَقَالَ مَنِ الْقَوْمُ قَالَ مَوَالِيكَ أَيْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ریاح بن حارث سے مروی ہے کہ لوگوں کی ایک جماعت رحبہ کے مقام پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور انھوں نے کہا: اے ہمارے مولی! تم پر سلامتی ہو، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہارا مولیٰ کیسے ہوسکتا ہوں، تم تو عرب قوم ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہم نے غدیر خم کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے سنا تھا کہ میں جس کا مولیٰ ہوں، یہ علی بھی اس کا مولیٰ ہے۔ ریاح کہتے ہیں: جب وہ لوگ چلے گئے تو میں ان کے پیچھے ہولیا اور میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے بتلایا کہ یہ انصاری لوگ ہیں، ان میں سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
۔ (دوسری سند) ریاح کہتے ہیں: میں نے انصاریوں کی ایک جماعت دیکھی، وہ رحبہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟انہوں نے کہا، اے امیر المومنین! ہم آپ کے دوست ہیں، پھر مذکورہ حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12305
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه بنحوه ابن ابي شيبة: 12/ 60، والطبراني: 4052، 4053 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23563)_x000D_ انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23959»
حدیث نمبر: 12306
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الرَّحْبَةِ يَنْشُدُ النَّاسَ أَنْشُدُ اللَّهَ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ ”مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ“ لَمَّا قَامَ فَشَهِدَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ بَدْرِيًّا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَحَدِهِمْ فَقَالُوا نَشْهَدُ أَنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ ”أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجِي أُمَّهَاتُهُمْ“ فَقُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رحبہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہہ رہے تھے: میں اس آدمی کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں، جس نے غدیر خم والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں جس کا دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے۔ وہ اٹھ کر گواہی دے، یہ بات سن کر بارہ بدری صحابہ کھڑے ہوئے وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے، گویا میں ان میں سے ہر ایک کو دیکھ رہا ہوں، ان سب نے کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے غدیر خم کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کیا میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟ اور کیا میری ازواج ان کی مائیں نہیں ہیں؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! بالکل بات ایسے ہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جس کا دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے، اے اللہ! تو اس آدمی کو دوست رکھ، جو علی کو دوست رکھتا ہے اور جو اس سے عداوت رکھے، تو بھی اس سے عداوت رکھ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12306
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، اخرجه ابويعلي: 567، والبزار: 632 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 961 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 961»
حدیث نمبر: 12307
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ أَنَّهُ شَهِدَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الرَّحْبَةِ قَالَ أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدَهُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ إِلَّا قَامَ وَلَا يَقُومُ إِلَّا مَنْ قَدْ رَآهُ فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا فَقَالُوا قَدْ رَأَيْنَاهُ وَسَمِعْنَاهُ حَيْثُ أَخَذَ بِيَدِهِ يَقُولُ ”اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ“ فَقَامَ إِلَّا ثَلَاثَةٌ لَمْ يَقُومُوا فَدَعَا عَلَيْهِم750 مَرَّةً فَأَصَابَتْهُمْ دَعْوَتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رحبہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، انھوں نے کہا: میں اس آدمی کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جو غدیر خم والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، وہ کھڑا ہو جائے، یہ بات سن کر بارہ آدمی کھڑے ہو گئے، سب نے کہا:ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا ہاتھ بھی پکڑا ہوا تھا: یا اللہ! جو اس علی سے دوستی رکھے تو بھی اسے اپنا دوست رکھ، جو اس سے عداوت رکھے تو بھی ا س سے عداوت رکھ، جو اس کی مدد کرے تو بھی ا س کی مدد کر اور جو اسے چھوڑ جائے تو بھی اسے چھوڑ دے۔ صرف تین آدمی نہیں اٹھے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان پر بددعا کی اور ان کی بددعاان کو لگ گئی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12307
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره دون قوله: وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ وھذا اسناد ضعيف لجھالة الوليد بن عقبة وسماك بن عبيد، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 964»
حدیث نمبر: 12308
عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا فِي الرَّحْبَةِ وَهُوَ يَنْشُدُ النَّاسَ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ وَهُوَ يَقُولُ مَا قَالَ فَقَامَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو عمر زاذان کہتے ہیں:میں نے رحبہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر کہہ رہے تھے کہ جو آدمی غدیر خم کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے جو آپ نے فرمایا (جواب سے آپ کے اس فرمان کی سمجھ آرہی ہے) پس تیرہ آدمی کھڑے ہو گئے اور انھوں نے یہ گواہی دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میں جس کا دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12308
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 641 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 641»
حدیث نمبر: 12309
عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ وَعَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ قَالَا نَشَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ فِي الرَّحْبَةِ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ إِلَّا قَامَ قَالَ فَقَامَ مِنْ قِبَلِ سَعِيدٍ سِتَّةٌ وَمِنْ قِبَلِ زَيْدٍ سِتَّةٌ فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ ”أَلَيْسَ اللَّهُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ“ قَالُوا بَلَى قَالَ ”اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سعید بن وہب اور زیدبن یثیع کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رحبہ میں لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہا کہ جس کسی نے غدیر خم کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، وہ اٹھ کر کھڑا ہوجائے، پس سعید کی طرف سے چھ اور زید کی جانب سے بھی چھ آدمی کھڑے ہو گئے اور ان سب نے گواہی دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غدیر خم کے روز سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق فرماتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا مومنین پر اللہ کا حق زیادہ نہیں؟ صحابہ نے کہا: جی بالکل، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! میں جس کا دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے، یا اللہ! جو اس سے دوستی رکھے تو بھی اس سے دوستی رکھ اور جو اس سے عداوت رکھے تو بھی اس سے عداوت رکھ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12309
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه البزار: 2541، والطبراني: 4970 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 950 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 950»
حدیث نمبر: 12310
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرٍو مَرَّ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ يَعْنِي عَنْ سَعِيدٍ وَزَيْدٍ وَزَادَ فِيهِ ”وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سعید اور زید یہ بھی روایت کرتے ہیں، اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! جو علی کی مدد کرے، تو بھی اس کی مدد کر اور جو اس کو چھوڑ دے، تو بھی اس کو چھوڑ دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12310
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 951»
حدیث نمبر: 12311
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ نَشَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ فَقَامَ خَمْسَةٌ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سعید بن وہب سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اللہ کا واسطہ دیا، توپانچ چھ صحابہ کھڑے ہوئے اور انھوں نے یہ گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں جس کا دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12311
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23107 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23495»