کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل چہارم: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا خواب اور اپنے قتل کے دن سے دوسروں کو مطلع کرنا اور شہادت کی تیاری اور صبر کا بیان
حدیث نمبر: 12277
عَنْ نَائِلَةَ بِنْتِ الْفَرَافِصَةِ امْرَأَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ نَعَسَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانُ فَأَغْفَى فَاسْتَيْقَظَ فَقَالَ لَيَقْتُلَنَّنِي الْقَوْمُ قُلْتُ كَلَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَبْلُغْ ذَاكَ إِنَّ رَعِيَّتَكَ اسْتَعْتَبُوكَ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِي وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالُوا تُفْطِرُ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ نائلہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ امیر المومنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اونگھ آئی اور سو گئے، پھر جب بیدار ہوئے تو انھوں نے کہا: یہ لوگ یقینا مجھے قتل کر ڈالیں گے، میں نے کہا: ان شاء اللہ ہر گزنہیں، ابھی تک ایسا معاملہ نہیں ہے، آپ کی رعایا آپ کو محض ڈرا دھمکا رہی ہے، انہوں نے کہا: میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ آج رات تم ہمارے ہاں روزہ افطار کر و گے۔
حدیث نمبر: 12278
عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَعْتَقَ عِشْرِينَ مَمْلُوكًا وَدَعَا بِسَرَاوِيلَ فَشَدَّهَا عَلَيْهِ وَلَمْ يَلْبَسْهَا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ وَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَارِحَةَ فِي الْمَنَامِ وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَإِنَّهُمْ قَالُوا لِي اصْبِرْ فَإِنَّكَ تُفْطِرُ عِنْدَنَا الْقَابِلَةَ ثُمَّ دَعَا بِمُصْحَفٍ فَنَشَرَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقُتِلَ وَهُوَ بَيْنَ يَدَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو سعید مسلم سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بیس غلام آزاد کیے اور شلوار منگوا کر پہن لی، اس سے پہلے آپ نے دورِ جاہلیت میں یا قبول اسلام کے بعد کبھی بھی شلوار نہیں پہنی تھی، پھر انھوں نے کہا: میں نے آج رات خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے، انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ صبر کرنا، آئندہ رات تم ہمارے ہاں روزہ افطار کرو گے۔ اس کے بعد انہوں نے قرآن مجید کا مصحف منگوایا اور اپنے سامنے کھول کر رکھ لیا، پھر وہ اس حال میں شہید ہو گئے کہ مصحف ان کے سامنے کھلا ہوا تھا۔