کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل دوم: سیدنا عثمان کا اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مطیع ہونا، ان کا لوگوں کے سامنے عذر خواہی کرنااور لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرنا اور ان کے مناقب
حدیث نمبر: 12271
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنْ وَجَدْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَضَعُوا رِجْلَيَّ فِي الْقَيْدِ فَضَعُوهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سعد سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تمہیں کتاب اللہ میں سے یہ اجازت ملتی کہ تم میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دو تو تم ایسا کر سکتے ہو۔
حدیث نمبر: 12272
عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ قَالَ شَهِدْتُ الدَّارَ يَوْمَ أُصِيبَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاطَّلَعَ عَلَيْهِمْ اطِّلَاعَةً فَقَالَ ادْعُوا لِي صَاحِبَيْكُمُ اللَّذَيْنِ أَلَبَّاكُمْ عَلَيَّ فَدُعِيَا لَهُ فَقَالَ نَشَدْتُكُمَا اللَّهَ أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ ضَاقَ الْمَسْجِدُ بِأَهْلِهِ فَقَالَ ”مَنْ يَشْتَرِي هَذِهِ الْبُقْعَةَ مِنْ خَالِصِ مَالِهِ فَيَكُونَ فِيهَا كَالْمُسْلِمِينَ وَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ“ فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ خَالِصِ مَالِي فَجَعَلْتُهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُكُمَا اللَّهَ أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ لَمْ يَكُنْ فِيهَا بِئْرٌ يُسْتَعْذَبُ مِنْهُ إِلَّا رُومَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ يَشْتَرِيهَا مِنْ خَالِصِ مَالِهِ فَيَكُونَ دَلْوُهُ فِيهَا كَدَلْوِ الْمُسْلِمِينَ وَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ“ فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ خَالِصِ مَالِي وَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ هَلْ تَعْلَمَانِ أَنِّي صَاحِبُ جَيْشِ الْعُسْرَةِ قَالَا اللَّهُمَّ نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ثمامہ بن حزن قشیری سے مروی ہے کہ جس روز سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، میں اس روز ان کے مکان پر حاضر تھا، عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی طرف جھانک کر کہا: لوگو تم اپنے ان دو سرکردہ آدمیوں کو بلاؤ، جنہوں نے تمہیں میرے خلاف اکسایاہے۔ پس جب انہیں بلایا گیا تو انھوں نے کہا: میں آپ لوگوں کو اللہ کاواسطہ دے کر پوچھتا ہوں آیا تم جانتے ہو کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اور نمازیوں کے لیے مسجد تنگ ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی ایسا آدمی ہے جو اپنے خالص مال سے اس قطعہ زمین کو خرید کر مسجد میں شامل کردے اور اس کا اس قطعۂ زمین پر کوئی استحقاق نہ ہو، بلکہ وہ عام مسلمانوں کی طرح ہی اس پر حق رکھتا ہو اور اسے اس کے عوض جنت میں اس سے بہتر جگہ ملے گی۔ تو میں نے اپنے خالص ذاتی مال سے وہ قطعہ خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیا، لیکن اب حال یہ ہے کہ تم لوگ مجھے اس مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنے سے بھی روکتے ہو۔ پھر کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو رومہ کے کنوئیں کے علاوہ کوئی کنواں شیریں پانی کا نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو اپنے ذاتی مال سے یہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دے اور اس میں اس کا حصہ بھی عام مسلمانوں کی طرح ہی ہو، اس کے عوض اس کے لیے جنت میں اس سے بہتر کنواں ہو گا۔ تو میں نے یہ کنوں اپنے ذاتی مال سے خریدا تھا، لیکن اب حال یہ ہے کہ تم مجھے اس سے پانی تک پینے نہیں دیتے۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ میں جیش العسرۃ یعنی غزوہ تبوک کے لشکر کو تیار کرنے والا ہوں؟ لوگوں نے کہا: اللہ گواہ ہے کہ یہ سب باتیں درست ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گوناگوں مناقب ہیں۔
حدیث نمبر: 12273
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَشْرَفَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الْقَصْرِ وَهُوَ مَحْصُورٌ فَقَالَ أَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حِرَاءٍ إِذَا اهْتَزَّ الْجَبَلُ فَرَكَلَهُ بِقَدَمِهِ ثُمَّ قَالَ ”اسْكُنْ حِرَاءُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ“ وَأَنَا مَعَهُ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ قَالَ أَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ إِذْ بَعَثَنِي إِلَى الْمُشْرِكِينَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ ”هَذِهِ يَدِي وَهَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ“ فَبَايَعَ لِي فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ قَالَ أَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ يُوَسِّعُ لَنَا بِهَذَا الْبَيْتِ فِي الْمَسْجِدِ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ“ فَابْتَعْتُهُ مِنْ مَالِي فَوَسَّعْتُ بِهِ الْمَسْجِدَ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ قَالَ وَأَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جَيْشِ الْعُسْرَةِ قَالَ ”مَنْ يُنْفِقُ الْيَوْمَ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً“ فَجَهَّزْتُ نِصْفَ الْجَيْشِ مِنْ مَالِي فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ وَأَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رُومَةَ يُبَاعُ مَاؤُهَا ابْنَ السَّبِيلِ فَابْتَعْتُهَا مِنْ مَالِي فَأَبَحْتُهَا لِابْنِ السَّبِيلِ قَالَ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ محصور تھے، تو وہ مکان کے اوپر سے جھانکے اور کہا: لوگو! میں تم کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم میں سے کوئی اس وقت موجود تھا، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حراء پر تھے اور پہاڑ جھومنے لگ گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا قدم مبارک پہاڑ پر مار کر فرمایا تھا: اے حراء! ٹھہر جا، تیرے اوپر صرف نبی، صدیق یا شہید موجود ہیں۔ اس وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، کئی لوگوں نے ان کی تصدیق کی۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر اس آدمی سے پوچھتا ہوں، جو بیعت رضوان کے دن حاضر تھا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے مشرکین مکہ کی طرف قاصد بنا کر روانہ کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیعت لیتے اور کرتے وقت فرمایا تھا: یہ میرا ہاتھ ہے اور یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف سے بیعت لی تھی، کئی لوگوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی،پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس آدمی کو اللہ کاواسطہ دے کر پوچھتا ہوں، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس وقت موجود ہو، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کون ہے جو مسجد کے ساتھ والے گھر کو خرید کر مسجد میں شامل کرے اور اسے اس کے عوض جنت میں گھر ملے گا۔ تو میں نے اپنے ذاتی مال سے وہ جگہ خرید کر مسجد کو وسیع کر دیا تھا، بہت سے لوگوں نے اس دعوے کی بھی تصدیق کی، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس آدمی کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، جو جیش العسرہ یعنی غزوہ تبوک کے لشکر کے موقع پر موجود تھا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: کون ہے، جو آج اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور اس کا یہ عمل اللہ کے ہاں مقبول ہو۔ تو میں نے اپنے ذاتی مال سے آدھے لشکر کی ضروریات کا انتظام کر دیا تھا، بہت سے لوگوں نے اس منقبت کی بھی تصدیق کی۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ کیا کوئی جانتا ہے کہ رومہ کا پانی مسافروں کو قیمتاً دیا جاتا تھا، میں نے اپنے ذاتی مال سے اسے خرید کر مسافروں کے لیے وقف کر دیا تھا۔ بہت سے لوگوں نے اس کی بھی تصدیق کی۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی شہادت کی پیشین گوئی کر دی تھی۔
حدیث نمبر: 12274
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ فَدَخَلَ مَدْخَلًا كَانَ إِذَا دَخَلَهُ يَسْمَعُ كَلَامَهُ مَنْ عَلَى الْبَلَاطِ قَالَ فَدَخَلَ ذَلِكَ الْمَدْخَلَ وَخَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ إِنَّهُمْ يَتَوَعَّدُونِي بِالْقَتْلِ آنِفًا قَالَ قُلْنَا يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ وَبِمَ يَقْتُلُونَنِي إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا فَيُقْتَلُ بِهَا“ فَوَاللَّهِ مَا أَحْبَبْتُ أَنَّ لِي بِدِينِي بَدَلًا مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ وَلَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا فِي إِسْلَامٍ قَطُّ وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا فَبِمَ يَقْتُلُونَنِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو امامہ بن سہل سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں محصور تھے، وہ اپنے گھر کے ایک ایسے مقام میں آئے، جہاں سے آواز باہر سنی جاسکتی تھی، وہ اس جگہ پر گئے اور ہماری طرف جھانکا اور کہا: اب یہ لوگ مجھے قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں، ہم نے کہا: اے امیر المومنین! ان کے مقابلے میں آپ کے لیے اللہ کافی ہے، انہوں نے پھر کہا: یہ لوگ مجھے کیونکر قتل کریں گے، جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کا خون اِن تین صورتوں کے علاوہ کسی بھی صورت میں حلال نہیں: کوئی آدمی اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو جائے، یا شادی شدہ ہو کر زنا کرے، یا کسی کو قتل کر دے تو اسے اس کے بدلے میں قتل کر دیا جائے۔ اللہ کی قسم! اللہ نے جب سے مجھے ہدایت دی ہے، میں نے اپنے دین کے مقابلے میں کسی دین کو پسند نہیں کیا، اور میں نے قبل ازاسلام یا بعد ازاسلام کبھی بھی زنانہیں کیا اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے، پھر یہ لوگ میرے قتل کے درپے کیوں ہیں؟