حدیث نمبر: 12267
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ قَالَ ثَنَا شَهْرٌ قَالَ حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فَرَغَ مِنْ خِدْمَتِهِ أَوَى إِلَى الْمَسْجِدِ فَكَانَ هُوَ بَيْتَهُ يَضْطَجِعُ فِيهِ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ لَيْلَةً فَوَجَدَ أَبَا ذَرٍّ نَائِمًا مُنْجَدِلًا فِي الْمَسْجِدِ فَنَكَتَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرِجْلِهِ حَتَّى اسْتَوَى جَالِسًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَا أَرَاكَ نَائِمًا“ قَالَ أَبُو ذَرٍّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ أَنَامُ هَلْ لِي مِنْ بَيْتٍ غَيْرُهُ فَجَلَسَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ ”كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنْهُ“ قَالَ إِذَنْ أَلْحَقَ بِالشَّامِ فَإِنَّ الشَّامَ أَرْضُ الْهِجْرَةِ وَأَرْضُ الْمَحْشَرِ وَأَرْضُ الْأَنْبِيَاءِ فَأَكُونُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِهَا قَالَ لَهُ ”كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنَ الشَّامِ“ قَالَ إِذَنْ أَرْجِعَ إِلَيْهِ فَيَكُونَ هُوَ بَيْتِي وَمَنْزِلِي قَالَ لَهُ ”كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنْهُ الثَّانِيَةَ“ قَالَ إِذَنْ آخُذَ سَيْفِي فَأُقَاتِلَ عَنِّي حَتَّى أَمُوتَ قَالَ فَكَشَّرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَثْبَتَهُ بِيَدِهِ قَالَ ”أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ“ قَالَ بَلَى بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَنْقَادُ لَهُمْ حَيْثُ قَادُوكَ وَتَنْسَاقُ لَهُمْ حَيْثُ سَاقُوكَ حَتَّى تَلْقَانِي وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت سے فارغ ہو نے کے بعد وہ مسجد میں چلے جاتے، بس مسجد ہی ان کا گھر تھا، وہ وہاں لیٹ جاتے، ایک رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور ان کو مسجد زمین پر لیٹے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں مبارک سے ان کو ذرا دبایا، وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میں تمہیں یہاں سوتے دیکھ رہاہوں؟ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میر ا اس کے سوا کوئی اور گھر ہے؟ میں یہاں نہ سوؤں تو کہاں سوؤں؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس بیٹھ گئے اور ان سے فرمایا: اس وقت تیرا کیا حال ہوگا، جب لوگ تجھے یہاں سے نکال دیں گے؟ انہوں نے کہا: میں شام کی طرف چلا جاؤں گا، کیونکہ شام ارض ہجرت ہے، ارض محشراور انبیائے کرام کا علاقہ ہے، اس طرح میں وہاں کا باشندہ بن جاؤںـ گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ تجھے شام سے بھی نکال دیں گے تو تمہارا کیا حال ہوگا؟ انہوں نے کہا: تب میں مدینہ کی طرف واپس آجاؤں گا، یہی میرا گھر اور یہی میرا ٹھکانہ ہوگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ تمہیں دوسری مرتبہ یہاں سے بھی نکال دیں گے تو تمہارا کیا حال ہوگا؟ انہوں نے کہا: تب میں اپنی تلوار اٹھالوں گا اور مرتے دم تک اپنا دفاع کروں گا، ان کی یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا دئیے اور اپنا ہاتھ مبارک ان پر رکھا اور فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر کام نہ بتلا دوں؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ضرور فرمائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہیں جہاں لے کر جائیں، ان کے ساتھ چلتے رہنا، یہاں تک کہ اسی حالت میں تم مجھ سے آ ملنا۔
وضاحت:
فوائد: … حقیقت ِ حال یہ تھی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی چھ برسوںمیں فتوحات کی وسعت اور مال غنیمت کی فراوانی نے عیش و تنعّم کو عام کر دیا، شام کا ملک اس دنیاداری سے سب سے زیادہ متاثر تھا، سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ برملا ان امراء اور دولت مندوں کے خلاف وعظ کرتے رہتے تھے، جس سے نظام حکومت میں خلل پڑتا تھا، اس لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی استدعا پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو مدینہ بلوا لیا، مگر اب مدینہ بھی وہ اگلا مدینہ نہ رہا تھا، بیرونی لوگوںکے بڑے بڑے محل تیار ہو چکے تھے، اس لیے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے یہاں سے بھی دل برداشتہ ہو کر ربذہ نام کے ایک گاؤں میں اقامت اختیار کی۔