کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب چہارم: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دوران رونما ہونے والے بعض واقعات کا بیان جرعہ کے دن والا واقعہ
حدیث نمبر: 12264
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ عَنْ أَبِي ثَوْرٍ قَالَ بَعَثَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجَرَعَةِ بِسَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ فَخَرَجُوا إِلَيْهِ فَرَدُّوهُ قَالَ فَكُنْتُ قَاعِدًا مَعَ أَبِي مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةَ فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ مَا كُنْتُ أَرَى أَنْ يَرْجِعَ لَمْ يُهْرِقْ فِيهِ دَمًا قَالَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ وَلَكِنْ قَدْ عَلِمْتُ لَتَرْجِعَنَّ عَلَى عَقِبَيْهَا لَمْ يُهْرِقْ فِيهَا مَحْجَمَةَ دَمٍ وَمَا عَلِمْتُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا إِلَّا عَلِمْتُهُ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصْبِحُ مُؤْمِنًا ثُمَّ يُمْسِي مَا مَعَهُ مِنْهُ شَيْءٌ وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ مَا مَعَهُ مِنْهُ شَيْءٌ يُقَاتِلُ فِئَتَهُ الْيَوْمَ وَيَقْتُلُهُ اللَّهُ غَدًا يَنْكُسُ قَلْبُهُ تَعْلُوهُ أَسْتُهُ قَالَ فَقُلْتُ أَسْفَلُهُ قَالَ أَسْتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو ثور سے مروی ہے کہ جرعہ کے روز سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا، لیکن لوگ ان کی طرف آئے اور انہیں واپس کر دیا، میں (ابو ثور) سیدنا ابو مسعود واور سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ وہ بغیر خون بہائے یوں ہی واپس لوٹ آئے گا، ان کی بات سن کر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن میں تو اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ لشکر بغیر خون خرابہ کیے یوں ہی اپنی ایڑیوں پر واپس آجائے گا، میں تو یہ بات اس وقت سے جانتا ہوں، جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حیات تھے، بلکہ یہاں تک حالات پیدا ہوجائیں گے کہ ایک آدمی ایمان کی حالت میں صبح کر ے گا، لیکن جب شام ہوگی تو وہ ایمان سے فارغ ہو چکا ہو گا اور ایک آدمی ایمان کی حالت میں شام کر ے گا، اور صبح تک اس کے پاس ایمان نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہے گی، ایک آدمی اپنے ہی گروہ سے لڑائی کرے گا اور اگلے دن اللہ تعالیٰ اسے قتل کر دے گا اور اس کے دل کو الٹ دے گا اور اس کی دبر اس کے اوپر ہوگی۔ میں نے کہا: نچلی والی طرف اوپر ہو گی؟ انھوں نے کہا: دبر کہہ رہا ہوں، دبر۔
وضاحت:
فوائد: … کوفہ کے پاس ایک مقام کا نام جرعہ ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں یہاں ایک فتنہ پیش آیا تھا۔
حافظ ابن کثیر البدایۃ والنھایۃ میں اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مقصود یہ ہے کہ سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ مدینہ واپس آ گئے اور فتنہ ختم ہو گیا، اس چیز سے اہل کوفہ کو تعجب ہوا ور انھوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ وہ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کو ان کا مسئول بنا دیں، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے عذر اور شبہے کو ختم کرنے کے لیے ایسے ہی کیا تھا۔
حافظ ابن کثیر البدایۃ والنھایۃ میں اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مقصود یہ ہے کہ سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ مدینہ واپس آ گئے اور فتنہ ختم ہو گیا، اس چیز سے اہل کوفہ کو تعجب ہوا ور انھوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ وہ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کو ان کا مسئول بنا دیں، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے عذر اور شبہے کو ختم کرنے کے لیے ایسے ہی کیا تھا۔
حدیث نمبر: 12265
عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ جُنْدُبٌ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجَرَعَةِ وَثَمَّ رَجُلٌ قَالَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَيُهْرَاقَنَّ الْيَوْمَ دِمَاءٌ قَالَ قَالَ الرَّجُلُ كَلَّا وَاللَّهِ قَالَ هَلَّا قُلْتَ بَلَى وَاللَّهِ قَالَ كَلَّا وَاللَّهِ إِنَّهُ لَحَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِيهِ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكَ جَلِيسَ سَوْءٍ مُنْذُ الْيَوْمَ تَسْمَعُنِي أَحْلِفُ وَقَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْهَانِي قَالَ ثُمَّ قُلْتُ مَالِي وَلِلْغَضَبِ قَالَ فَتَرَكْتُ الْغَضَبَ وَأَقْبَلْتُ أَسْأَلُهُ قَالَ وَإِذَا الرَّجُلُ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جندب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جرعہ والے دن وہاں ایک آدمی تھا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! آج ضرور ضرور کشت و خون ہوگا، اس کی بات سن کر ایک اور آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! ہر گز نہیں، پہلا شخص کہنے لگا: تم نے یوں کیوں نہیں کہا کہ اللہ کی قسم ہاں ضرور کشت و خون ہوگا؟ دوسرے نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا ہرگز نہیں ہوگا، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث ہے، جو آپ نے مجھ سے خود بیان کی تھی، میں نے کہا: آج آپ میرے برے ہم نشین ہیں۔ میں ایک بات کی قسم اٹھا رہا ہوں اور آپ مجھے سن بھی رہے ہیں، جبکہ اس بارے میں تونے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بھی سنی ہوئی ہے اور مجھے آپ روک بھی نہیں رہے۔ پھر میں نے سوچا کہ اس میں غصہ کرنے کی کیا ضرورت ہے، چنانچہ میں نے ناراضگی دور کر دی اور میں اس ساتھی کی طرف لپکا اور اس سے سوال کرنے لگ گیا۔ پھر پتا چلا کہ وہ آدمی حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ تھے۔