کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فصل: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بد خواہی کے الزام کی براء ت
حدیث نمبر: 12263
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ جَاءَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ فَشَكَوْا سُوءَاتِ عُثْمَانَ قَالَ فَقَالَ لِي أَبِي اذْهَبْ بِهَذَا الْكِتَابِ إِلَى عُثْمَانَ فَقُلْ لَهُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَكَوْا سُوءَاتِكَ وَهَذَا أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَةِ فَمُرْهُمْ فَلْيَأْخُذُوا بِهِ قَالَ فَأَتَيْتُ عُثْمَانَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ قَالَ فَلَوْ كَانَ ذَاكِرًا عُثْمَانَ بِشَيْءٍ لَذَكَرَهُ يَوْمَئِذٍ يَعْنِي بِسُوءٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن علی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کچھ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عاملوں کی شکایت کی، میرے والد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: تم یہ تحریر لے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاں جاؤ اور ان سے کہو کہ لوگ آپ کے عاملوں کی شکایتیں کر رہے ہیں، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صدقات کے بارے میں حکم ہے، انہیں حکم دیجئے کہ وہ اس کے مطابق صدقات وصول کریں، پس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا اور ان سے اس بات کا ذکر کیا، اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ برا اظہار خیال کرنا ہوتا تو اسی دن کر دیتے۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی روایت کے مطابق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ تحریر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو واپس کر دی تھی۔
حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: ممکن ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس تحریر میں مندرج احکام کا علم ہو، اس لیے وہ اس کا مطالعہ کرنے سے مستغنی ہوں، حمیدی نے الجمع میں کہا: بعض راویوں نے ابن عیینہ کا یہ قول نقل کیا ہے: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تو اس کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہ تھا کہ وہ سیدناعثمان رضی اللہ عنہ کو منع کریں، لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی تحریر ان کو واپس کر دی، کیونکہ ان کو ان احکام کا علم تھا،سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اقدام سے یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ حکام کی خیر خواہی کرنی چاہیے اور اس کے پیروکاروں میں پیدا ہونے والے فساد سے اس کو متنبہ کرنا چاہیے۔
اور یہ بھی احتمال ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے نزدیک ان کے عاملین پر کوئی اعتراض ثابت ہی نہ ہوا ہو، یا اگر ثابت ہوا ہو تو تدبیر کا تقاضا یہ ہو کہ حاملیں پر فوراً انکار نہ کیا جائے، یا اس اعتراض کا تعلق مستحبات سے تھا، نہ کہ واجبات سے، اس لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی ان کو معذور سمجھا اور ان کے بارے میں برا اظہارِ خیال نہ کیا۔
علامہ سندھی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: ممکن ہے کہ یہ تحریر واپس کر دینے کی یہ وجہ ہو کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سمجھا ہو کہ ان کے عاملین ان احکام پر عمل کر رہے ہیں، اس لیے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، سو انھوں نے اس کو واپس کرنے کا حکم دے دیا اور انھوں نے جان لیا کہ لوگوں کی اس شکایت کا تعلق عمال کے ظلم سے نہیں ہے، بلکہ مال کی محبت اور انفاق کی کراہیت سے ہے، یا ممکن ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی رائے یہ ہو کہ واقعی ان عاملین کو معزول کر دینا چاہیے، اب ان کو یہ تحریر فائدہ نہیں دے گا، پس انھوں نے ان کو معزول کرنے کا ارادہ کر لیا، ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ اس تحریر کے احکام پر عمل کرنے سے اعراض کر رہے ہیں، وہ ایسے گمان سے دور تھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12263
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 3111 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1196 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1196»