کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب سوم: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر بعض لوگوں کے اعتراضات اور ان کا دفاع
حدیث نمبر: 12261
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ مِصْرَ يَحُجُّ الْبَيْتَ قَالَ فَرَأَى قَوْمًا جُلُوسًا فَقَالَ مَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ فَقَالَ مَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ فَقَالُوا قُرَيْشٌ قَالَ فَمَنِ الشَّيْخُ فِيهِمْ قَالُوا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ يَا ابْنَ عُمَرَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ أَوْ أَنْشُدُكَ أَوْ نَشَدْتُكَ بِحُرْمَةِ هَذَا الْبَيْتِ أَتَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَتَعْلَمُ أَنَّهُ غَابَ عَنْ بَدْرٍ فَلَمْ يَشْهَدْهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَتَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَكَبَّرَ الْمِصْرِيُّ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ تَعَالَ أُبَيِّنْ لَكَ مَا سَأَلْتَنِي عَنْهُ أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ عَفَا عَنْهُ وَغَفَرَ لَهُ وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهَا مَرِضَتْ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَكَ أَجْرُ رَجُلٍ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمُهُ“ وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ وَكَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ فَضَرَبَ بِهَا يَدَهُ عَلَى يَدِهِ وَقَالَ ”هَذِهِ لِعُثْمَانَ“ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ اذْهَبْ بِهَذَا الْآنَ مَعَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن موہب سے مروی ہے کہ ایک آدمی مصر سے بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے آیا، اس نے کچھ لوگوں کو بیٹھے دیکھا اور ان کے بارے میں پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے بتلایا کہ یہ قریشی ہیں، اس نے پوچھا کہ ان میں سب سے بزرگ شخص کا کیا نام ہے؟ لوگوں نے بتلایا کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس آدمی نے کہا: اے عبداللہ بن عمر! میں آپ سے ایک بات پوچھتا ہوں، یا اس نے یوں کہا میں آپ کو بیت اللہ کی حرمت کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ جانتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ غزوۂ احد کے دن میدان جنگ سے فرار ہوگئے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، اس نے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ غزوہ ٔ بدرمیں شریک نہیں ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس نے مزید پوچھا: کیا آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیعت ِ رضوان میں بھی شامل نہیں تھے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔یہ باتیں سن کر اس مصری نے خوشی کے طور پر اللہ اکبر کہا، اس کے اس انداز کو دیکھ کر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ادھر آؤ ذرا،تونے مجھ سے جو باتیں پوچھی ہیں، میں تجھ پر ان کی حقیقت واضح کرتا ہوں، جہاں تک احد کے دن ان کے فرار ہونے کی بات ہے تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ نے ان کو معاف کر دیا ہے، جہاں تک غزوۂ بدر میں شامل نہ ہونے کی بات ہے تو تجھے معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی ان کے نکاح میں تھیں، ان دنوں وہ مریض تھیں،تو اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: تمہیں شرکائے بدر کے برابر ثواب اور حصہ ملے گا۔ باقی رہی ان کے بیعت رضوان سے غیر حاضر ی تو تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ اس وقت وادی ٔ مکہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر اگر کوئی دوسر ا آدمی معتبر ہوتا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کو اہل مکہ کی طرف نمائندہ بنا کر روانہ فرماتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنا نمائندہ بنا کر مکہ والوں کی طرف بھیجا تھا او ربیعت رضوان سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے جانے کے بعد ہوئی تھی، یہ وضاحت کر کے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اس آدمی کے ہاتھ پر مارا اور کہا: یہ ہے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کی حقیقت، اب اس کو اپنے ساتھ لے اور چلا جا۔
وضاحت:
فوائد: … غزوۂ احد میں صحابۂ کرام کو میدان چھوڑنا پڑ گیا تھا،لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ خطا معاف کر دی تھی، جیسا کہ اگلی حدیث میں مذکورہ آیت سے معلوم ہورہا ہے۔
غزوۂ بدر میں شرکت نہ کرنے کے باوجود سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو مال غنیمت میں سے حصہ عطا کرنا، یہ دامادِ رسول کا خصوصی امتیاز تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12261
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 3130، 3698، 4066 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5772 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5772»
حدیث نمبر: 12262
عَنْ شَقِيقٍ قَالَ لَقِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ فَقَالَ لَهُ الْوَلِيدُ مَا لِي أَرَاكَ قَدْ جَفَوْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَبْلِغْهُ أَنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنِ قَالَ عَاصِمٌ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ وَلَمْ أَتَخَلَّفْ يَوْمَ بَدْرٍ وَلَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَانْطَلَقَ فَخَبَّرَ ذَلِكَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَقَالَ أَمَّا قَوْلُهُ إِنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنِ فَكَيْفَ يُعَيِّرُنِي بِذَنْبٍ وَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ {إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ} وَأَمَّا قَوْلُهُ إِنِّي تَخَلَّفْتُ يَوْمَ بَدْرٍ فَإِنِّي كُنْتُ أُمَرِّضُ رُقَيَّةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَاتَتْ وَقَدْ ضَرَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِي وَمَنْ ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ فَقَدْ شَهِدَ وَأَمَّا قَوْلُهُ إِنِّي لَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِنِّي لَا أُطِيقُهَا وَلَا هُوَ فَأْتِهِ فَحَدِّثْهُ بِذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
شقیق سے مروی ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ولید بن عقبہ سے ملاقات ہوئی، ولید نے ان سے کہا: کیا بات ہے کہ آپ امیر المومنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بے مروتی کا سلوک کرتے ہیں، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: میری یہ بات ان تک پہنچا دو کہ میں یوم عینین یعنی احد کے دن فرار نہیں ہوا تھا اور نہ میں غزوۂ بدر میں پیچھے رہا اور نہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے طریقے کو ترک کیا ہے۔ اس کے بعد ولید، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے ان امور کا ذکر کیا، انہوں نے جواباً کہا: ان کا کہنا کہ میں(ابن عوف رضی اللہ عنہ ) عینین یعنی احد کے دن فرار نہیں ہوا تھا، سوال یہ ہے کہ وہ مجھے ایسی کوتاہی پر کیوں عار دلاتے ہیں،جس کو اللہ تعالیٰ معاف کر چکا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {إِنَّ الَّذِینَ تَوَلَّوْا مِنْکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّہُمُ الشَّیْطَانُ بِبَعْضِ مَا کَسَبُوْا وَلَقَدْ عَفَا اللّٰہُ عَنْہُمْ} … بے شک وہ لوگ جو تم میں سے اس دن پیٹھ پھیر گئے جب دو جماعتیں بھڑیں، شیطان نے انھیں ان بعض اعمال ہی کی وجہ سے پھسلایا جو انھوں نے کیے تھے اور بلاشبہ یقینا اللہ نے انھیں معاف کر دیا۔ (سورۂ آل عمران: ۱۵۵) ان کا یہ کہنا کہ وہ غزوہ ٔ بدر سے پیچھے نہیں رہے تھے تو میں تو سیدہ رقیہ بنت ِ رسول رضی اللہ عنہا کی تیمارداری میں مصروف تھا اور انہیں دنوں وہ انتقال کر گئی تھیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اسی قدر حصہ عطافرمایا تھا، جس قدر شرکائے بدر کو دیاتھا، اب جس کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حصہ دیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو حاضر سمجھا گیا اور ان کایہ کہنا کہ انھوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے طریقے کو ترک نہیں کیا، تو گزارش یہ ہے کہ میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا، تم جا کر یہ باتیں ان سے بیان کردینا۔ 1 عمر رضی اللہ عنہ کے طریقہ کی طاقت نہیں، کا مطلب یہ ہے عمر فاروق رضی اللہ عنہ دنیا سے بہت زیادہ بے رغبت، آخرت کی بہت زیادہ فکر کرنے والے، رعایا پر بہت زیادہ مشفق، ان کا بہت زیادہ خیال رکھنے والے، مظلوم کو انصاف دلانے والے، خوف زدہ کو امن مہیا کرنے والے، دیندار اور اہل فضل کے لیے نہایت نرم اور طلم و ستم کرنے والوں پر نہایت سخت تھے۔
عثمان غنی رضی اللہ عنہ کہنا چاہتے ہیں کہ اتنی اعلیٰ صفات اختیار کرنے کی میرے اندر طاقت نہیں ہے۔ [دیکھیں مسند محقق، جلد:۱، ص: ۵۲۶] (عبداللہ رفیق)
وضاحت:
فوائد: … احد کے پاس ایک پہاڑ کا نام عَیْنَیْن ہے، یہ وہی پہاڑ ہے، جس پر تیر اندازوں کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی، غزوۂ احد کو غزوہ عینین بھی کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12262
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه الطبراني: 135، والبزار: 395 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 490»