کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل چہارم: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی صفات اور ان کے بعض خطبوں کا بیان
حدیث نمبر: 12256
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا أَنَا بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مُتَّكِئٌ عَلَى رِدَائِهِ فَأَتَاهُ سَقَّاءَانِ يَخْتَصِمَانِ إِلَيْهِ فَقَضَى بَيْنَهُمَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ بِوَجْنَتِهِ نَكَتَاتُ جُدَرِيٍّ وَإِذَا شَعْرُهُ قَدْ كَسَا ذِرَاعَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حسن بن ابی حسن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنی چادر پر ٹیک لگا کر بیٹھے تھے، اسی دوران دو آدمی جو لوگوں کو پانی پلانے کا کام کرتے، اپنے ایک جھگڑے کا فیصلہ کرانے کے لیے ان کی خدمت میں آئے، آپ نے ان کے درمیان فیصلہ کردیا، اس کے بعد میں آپ کے پاس آیا اور آپ کو بغور دیکھا، میں کیا دیکھتا ہوں کہ آپ خوبصورت چہرے والے آدمی تھے اور آپ کے رخسار پر چیچک کے کچھ داغ تھے اور آپ کے بالوں نے آپ کے بازوؤں کو ڈھانپ رکھا تھا۔
حدیث نمبر: 12257
وَعَنْ أُمِّ مُوسَى قَالَتْ كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ أَجْمَلِ النَّاسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ام موسیٰ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ لوگوں میں بہت خوبصورت آدمی تھے۔
حدیث نمبر: 12258
وَعَنْ أُمِّ غُرَابٍ عَنْ بُنَانَةَ قَالَتْ: مَا خَضَبَ عُثْمَانُ قَطُّ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
بنانہ سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے بالوں کو کبھی رنگا نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 12259
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ زَاهِرٍ أَبَا رُوَاعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ فَقَالَ: إِنَّا وَاللّٰهِ! قَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، وَكَانَ يَعُودُ مَرْضَانَا، وَيَتْبَعُ جَنَائِزَنَا، وَيَغْزُو مَعَنَا، وَيُوَاسِينَا بِالْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ، وَإِنَّ نَاسًا يُعْلِمُونِي بِهِ، عَسٰى أَنْ لَا يَكُونَ أَحَدُهُمْ رَآهُ قَطُّ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عباد بن زاہرسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ نے کہا:’ اللہ کی قسم! ہمیں سفر وحضر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں رہنے کا شرف حاصل ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے مریضوں کی عیادت کرتے تھے، ہمارے جنازوں میں شرکت کرتے تھے، ہمارے ساتھ مل کر لڑائی کرتے تھے اور کوئی چیز تھوڑی ہوتی یا زیادہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اس میں شریک کیا کرتے تھے۔ اب کچھ لوگ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کچھ باتیں سکھاتے ہیں حالانکہ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تک نہ ہو۔
حدیث نمبر: 12260
عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: شَهِدْتُ عُثْمَانَ یَأْمُرُ فِيْ خُطْبَتِهِ بِقَتْلِ الْکِلَابِ وَذَبْحِ الْحَمَامِ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حسن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، آپ نے اپنے خطبہ میں کتوں کو قتل کرنے اور کبوتروں کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔