کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل سوم: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے شرم و حیا ء اور فرشتوں کا ان سے شرمانے کا بیان
حدیث نمبر: 12251
عَنْ سَالِمِ ابْنِ أَبِي جَمِيعٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ وَذَكَرَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَشِدَّةَ حَيَائِهِ فَقَالَ إِنْ كَانَ لَيَكُونُ فِي الْبَيْتِ وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ فَمَا يَضَعُ عَنْهُ الثَّوْبَ لِيُفِيضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ يَمْنَعُهُ الْحَيَاءُ أَنْ يُقِيمَ صُلْبَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو جمیع سالم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:حسن نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے شدت حیا کا تذکرہ کیا اور کہا:وہ گھر میں ہوتے اور دروازہ بند ہوتا، تب بھی اپنے اوپر پانی ڈالنے کے لیے کپڑا نہیں اتارتے تھے اور حیاء کی وجہ سے وہ اپنی پشت کو سیدھا نہیں کر پاتے تھے۔
حدیث نمبر: 12252
عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَجِيلَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ جَارِيَةٌ تَضْرِبُ بِالدُّفِّ فَدَخَلَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَدَخَلَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَأَمْسَكَتْ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن ابی اوفی ٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں ایک بچی دف بجا رہی تھی، اتنے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، پس وہ اندر آ گئے، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آنے کی اجازت طلب کی، وہ بھی داخل ہو گئے، ان کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے آنے کی اجازت طلب کی تو وہ لڑکی دف بجانے سے رک گئی، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عثمان باحیا آدمی ہیں۔
حدیث نمبر: 12253
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعُثْمَانَ حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ فَأَذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ كَذَلِكَ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ قَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَجَلَسَ وَقَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ”اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ“ فَقَضَى إِلَيَّ حَاجَتِي ثُمَّ انْصَرَفْتُ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي لَمْ أَرَكَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ“ وَقَالَ اللَّيْثُ وَقَالَ جَمَاعَةُ النَّاسِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ”أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ يَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعید بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی چادر اوڑھے اپنے بستر پر لیٹے ہوئے تھے اور اسی حالت میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اندر آنے کی اجازت دے دی اور ان کی ضرورت پوری کردی، ان کے چلے جانے کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، انہیں اجازت دے دی گئی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی حالت میں رہے، ان کی ضرورت پوری کردی اور وہ چلے گئے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آگئے اور انہوں نے حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سید ھے ہوکر بیٹھ گئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم بھی اپنے کپڑے اچھی طرح اپنے اوپر سمیٹ لو، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری ضرورت پوری کی اور میں چلا گیا، یہ فرق دیکھ کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی آمد پر وہ اہتمام نہیں کیا، جو عثمان رضی اللہ عنہ کی آمد پر کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عثمان رضی اللہ عنہ انتہائی شرم و حیا والے آدمی ہیں، اگر میں ان کو اسی حالت میں آنے کی اجازت دے دیتا تو مجھے اندیشہ تھا کہ وہ اپنی آمد کا مقصد بیان نہیں کر سکیں گے۔راوی حدیث لیث کہتے ہیں: اہل علم کی ایک جماعت نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: کیا میں ایسے آدمی سے حیا نہ کروں کہ جس سے اللہ کے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 12254
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا كَاشِفًا عَنْ فَخِذِهِ فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى حَالِهِ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى حَالِهِ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَأَرْخَى عَلَيْهِ ثِيَابَهُ فَلَمَّا قَامُوا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَأَذِنْتَ لَهُمَا وَأَنْتَ عَلَى حَالِكَ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ أَرْخَيْتَ عَلَيْكَ ثِيَابَكَ فَقَالَ ”يَا عَائِشَةُ أَلَا أَسْتَحْيِي مِنْ رَجُلٍ وَاللَّهِ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَسْتَحْيِي مِنْهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ران سے کپڑا ہٹا ہوا تھا، اتنے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، انہیں اجازت دے دی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح بیٹھے رہے، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آنے کی اجازت طلب کی، انہیں بھی آنے کی اجازت دے دی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح بیٹھے رہے، ان کے بعد جب عثمان رضی اللہ عنہ نے آنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے اپنے اوپر کپڑے کر لیے۔ جب سب لوگ چلے گے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی اور آپ نے ان حضرات کو آنے کی اجازت دے دی، جبکہ آپ اسی حالت میں ہی تشریف فرما رہے، لیکن جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حاضر ہونے کی اجازت طلب کی تو آپ نے اپنے اوپر کپڑے کر لیے، اس فرق کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! کیا میں اس آدمی سے حیا نہ کروں، کہ اللہ کی قسم! جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 12255
عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ وَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَذِنَ لَهُمْ وَجَاءَ عَلِيٌّ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَاسْتَأْذَنَ فَتَجَلَّلَ ثَوْبَهُ ثُمَّ أَذِنَ لَهُ فَتَحَدَّثُوا سَاعَةً ثُمَّ خَرَجُوا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَخَلَ عَلَيْكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعَلِيٌّ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ وَأَنْتَ عَلَى هَيْئَتِكَ لَمْ تَتَحَرَّكْ فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ تَجَلَّلْتَ ثَوْبَكَ فَقَالَ ”أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک روز میرے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا کپڑا پنی رانوں کے درمیان کرلیا،سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور اپنی اسی حالت میں بیٹھے رہے، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بھی اندر آنے کی اجازت دے دی اور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اسی حالت میں بیٹھے رہے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی، انہیں بھی اجازت دی گئی اور اللہ کے رسول اپنی اسی حالت میں بیٹھے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ اور صحابہ آئے اور انھوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بھی اجازت دے دی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی حالت پر تشریف فرما رہے، ان کے بعد جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کپڑوں کو سنبھال کر ترتیب دی اور اس کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اندر آنے کی اجازت دی، یہ لوگ کچھ دیر باتیں کرتے رہے، اس کے بعد جب یہ لوگ اٹھ کر چلے گئے تو میں عائشہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کی خدمت میں سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر ، سیدنا علی اور دوسرے صحابہ تشریف لائے ، لیکن آپ نے کوئی حرکت نہ کی بلکہ اپنی اسی حالت میں بیٹھے رہے، لیکن جب جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو آپ نے کپڑوں کو سمیٹ کر ترتیب دے دی، اس فرق کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں ایسے شخص کا حیا نہ کروں کہ جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ان فرمودات ِ نبویہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں ان کی توقیر کا بیان ہے، چونکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ انتہائی حیادار تھے، ان کی طبیعت میں صفت ِ حیا بدرجۂ اتم پائی جاتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ان کی اس طبیعت کا لحاظ رکھا اور مزید سنجیدگی اختیار کی، ان احادیث سے مطلق طور پر سیدنا عثمان کا صدیق و فاروق پر افضل ہونا لازم نہیں آتا، کیونکہ یہ ان کی جزوی فضیلت ہے، جس کی وجہ سے وہ دوسرے صحابہ سے ممتاز تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان ممتاز صحابۂ کرام کی آمد پر جو فرق کیا ہے، ہر سلیم الفطرت اور حیادار آدمی اس کو سمجھتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان ممتاز صحابۂ کرام کی آمد پر جو فرق کیا ہے، ہر سلیم الفطرت اور حیادار آدمی اس کو سمجھتا ہے۔