کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
حدیث نمبر: 12241
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْيَشْكُرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أُمِّي تُحَدِّثُ أَنَّ أُمَّهَا انْطَلَقَتْ إِلَى الْبَيْتِ حَاجَّةً وَالْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ لَهُ بَابَانِ قَالَتْ فَلَمَّا قَضَيْتُ طَوَافِي دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ بَعْضَ بَنَيْكِ بَعَثَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ وَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَكْثَرُوا فِي عُثْمَانَ فَمَا تَقُولِينَ فِيهِ قَالَتْ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَهُ لَا أَحْسِبُهَا إِلَّا قَالَتْ ثَلَاثَ مَرَّارٍ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْنِدٌ فَخِذَهُ إِلَى عُثْمَانَ وَإِنِّي لَأَمْسَحُ الْعَرَقَ عَنْ جَبِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ الْوَحْيَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ وَلَقَدْ زَوَّجَهُ ابْنَتَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى إِثْرِ الْأُخْرَى وَإِنَّهُ لَيَقُولُ ”اكْتُبْ عُثْمَانَ“ قَالَتْ مَا كَانَ اللَّهُ لِيُنْزِلَ عَبْدًا مِنْ نَبِيِّهِ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ إِلَّا عَبْدًا عَلَيْهِ كَرِيمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمر بن ابراہیم یشکری نے اپنی ماں سے بیان کیا اور انھوں نے اپنی ماں سے روایت کی ہے کہ وہ حج کے لیے بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئیں، ان دنوں بیت اللہ کے دو درواز ے ہوتے تھے، وہ کہتی ہیں: جب میں نے اپنا طواف مکمل کیا تو میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور میں نے کہا: آپ کا ایک بیٹا آپ کو سلام کہہ رہا تھا، یہ جو لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں بہت سی باتیں کر رہے ہیں، ان کے بارے میں آپ کیا کہیں گی؟سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو، جن پر وہ لعنت کرے، یہ بات انہوں نے تین بار دوہرائی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں دیکھا کہ آپ کی ران مبارک سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ملی ہوئی تھی، جبکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی ٔ مبارک سے پسینہ صاف کر رہی تھی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا نزول ہورہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یکے بعد دیگرے اپنی دو بیٹیوں کا نکاح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کیا تھا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: عثمان! وحی لکھو۔ پھر انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے ہاں ایسا بلند مرتبہ اپنے کسی مقرب بندے کو ہی دیتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12241
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عمر بن ابراهيم اليشكري لايعرف، اخرجه الطبراني في الاوسط : 3770، والبخاري في التاريخ الكبير : 1/ 26 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26247 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26777»
حدیث نمبر: 12242
عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ أَنَّهُ دَخَلَ الدَّارَ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فِيهَا وَأَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَسْتَأْذِنُ عُثْمَانَ فِي الْكَلَامِ فَأَذِنَ لَهُ فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ بَعْدِي فِتْنَةً وَاخْتِلَافًا أَوْ قَالَ اخْتِلَافًا وَفِتْنَةً“ فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”عَلَيْكُمْ بِالْأَمِينِ وَأَصْحَابِهِ“ وَهُوَ يُشِيرُ إِلَى عُثْمَانَ بِذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو حبیبہ سے روایت ہے کہ وہ اس گھر میں داخل ہوئے، جس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ محصور تھے اور اس نے سنا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کچھ کہنے کی اجازت طلب کر رہے تھے، جب انہوں نے اجازت دی تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی اور پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوسنا ہے، آپ فرما رہے تھے کہ تم میرے بعد فتنوں اور اختلافات کو پاؤ گے۔ کسی آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس وقت ہمارا کون ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس امانت دار اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑے رہنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرماتے ہوئے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد ِ خلافت کے آخر میں جو فتنہ نمودار ہوا، اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حق پر تھے اور یہی ان کو زیب دیتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12242
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه الحاكم: 3/99، وابن ابي شيبة: 12/ 50 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8541 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8522»
حدیث نمبر: 12243
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِتْنَةً فَمَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ ”يُقْتَلُ فِيهَا هَذَا الْمُقَنَّعُ يَوْمَئِذٍ مَظْلُومًا“ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک فتنہ کا ذکر کیا، اس دوران ایک آدمی کا وہاں سے گزر ہوا، اس کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دنوں یہ آدمی، جو کپڑا ڈھانپ کر جا رہا ہے، مظلومیت کی حالت میں قتل ہوگا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں نے جا کر دیکھا تو وہ آدمی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ وہ فتنہ تھا، جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری ایام میں ظاہر ہوا اور اس کی انتہا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کی صورت میں نکلی۔ {اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔}
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12243
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، اخرجه الترمذي: 3708، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5953 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5953»
حدیث نمبر: 12244
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنِ ابْنِ حَوَالَةَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ دَوْمَةٍ وَعِنْدَهُ كَاتِبٌ لَهُ يُمْلِي عَلَيْهِ فَقَالَ ”أَلَا أَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ“ قُلْتُ لَا أَدْرِي مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً فِي الْأُولَى ”نَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ“ قُلْتُ لَا أَدْرِي فِيمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَأَكَبَّ عَلَى كَاتِبِهِ يُمْلِي عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ”أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ“ قُلْتُ لَا أَدْرِي مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ وَفِي رِوَايَةٍ ”نَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ“ قُلْتُ لَا أَدْرِي فِيمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَأَكَبَّ عَلَى كَاتِبِهِ يُمْلِي عَلَيْهِ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِي الْكِتَابِ عُمَرُ فَقُلْتُ إِنَّ عُمَرَ لَا يُكْتَبُ إِلَّا فِي خَيْرٍ ثُمَّ قَالَ ”أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ“ قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ ”يَا ابْنَ حَوَالَةَ كَيْفَ تَفْعَلُ فِي فِتْنَةٍ تَخْرُجُ فِي أَطْرَافِ الْأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِي بَقَرٍ“ قُلْتُ لَا أَدْرِي مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ قَالَ ”وَكَيْفَ تَفْعَلُ فِي أُخْرَى تَخْرُجُ بَعْدَهَا كَأَنَّ الْأُولَى فِيهَا انْتِفَاجَةُ أَرْنَبٍ“ قُلْتُ لَا أَدْرِي مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ قَالَ ”اتَّبِعُوا هَذَا“ قَالَ وَرَجُلٌ مُقَفٍّ حِينَئِذٍ قَالَ فَانْطَلَقْتُ فَسَعَيْتُ وَأَخَذْتُ بِمَنْكِبَيْهِ فَأَقْبَلْتُ بِوَجْهِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ هَذَا قَالَ ”نَعَمْ“ قَالَ وَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ٹیلہ کے سائے میں تشریف فرماتھے، ایک کاتب آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے کچھ لکھوا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن حوالہ! کیا میں تیرا نام بھی لکھوا دوں۔ میں نے کہا: میں اس بارے کچھ نہیں جانتا کہ اللہ اور اس کے رسول نے میرے لیے کیا پسند ہے؟ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اعراض کر لیا، اسماعیل راوی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن حوالہ! کیا ہم تیرا اندراج بھی کر لیں؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نہیں جانتا کہ کس چیز میں اندراج کیا جا رہا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اعراض کر لیا، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن حوالہ! کیا ہم تیرا نام بھی لکھ لیں؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نہیں جانتا کہ کس چیز میں نام لکھے جا رہے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کاتب کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے املاء کرواتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن حوالہ! کیا ہم تیرا نام بھی لکھ لیں؟ میں نے کہا: میں نہیں جانتا کہ اللہ اور اس کا رسول میرے لیے کیا پسند کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اعراض کر لیا اور اپنے کاتب پر متوجہ ہو کر لکھواتے رہے۔ پھر جب میں نے دیکھا تو اس کتاب میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نام لکھا ہوا تھا، میں نے دل میں کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نام تو خیر والے امور میں ہی لکھا جا سکتا ہے، اتنے میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابن حوالہ! کیا ہم تیرا نام بھی لکھ لیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن حوالہ! اس فتنے میں تو کیا کرے گا، جو گائے کے سینگوں کی طرح (بہت سخت اور مشکلات والا) ہو گا اور زمین کے اطراف و اکناف میں پھیل جائے گا؟ میں نے کہا: میں نہیں جانتا کہ اللہ اور اس کے رسول میرے لیے کس چیز کو ترجیح دیتے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا تو اس دوسرے فتنے میں کیا کرے گا، جو اس کے بعد رونما ہو گا اور (وہ اس قدر سخت ہو گا کہ پہلا تو اس کے مقابلے میں خرگوش کی چھلانگ (کی طرح بہت ہلکا اور مختصر) ہی نظر آئے گا؟ میں نے کہا: مجھے پتہ نہیں ہے کہ اللہ اور اس کا رسول میرے لیے کیا پسند کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت اس شخص کی پیروی کرنا۔ اس وقت ایک آدمی جا رہا تھا اور اس کی پیٹھ ہماری طرف تھی، میں چلا اور دوڑا اور اس کے کندھوں کو پکڑ کر اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آدمی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ پس وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میںدو فتنوں کی وضاحت کی گئی ہے، حدیث نمبر (۱۲۲۴۷) سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جس فتنے میں شہید ہونا تھا، اس سے مراد پہلا فتنہ تھا، اس فتنے کے بعد تو فتنوں کا ایسا تسلسل شروع ہوا کہ جس نے تھمنے کا نام تک نہیں لیا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12244
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه الطيالسي: 1249، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17004 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17129»
حدیث نمبر: 12245
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ كُنَّا مُعَسْكِرِينَ مَعَ مُعَاوِيَةَ بَعْدَ قَتْلِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَامَ كَعْبُ بْنُ مُرَّةَ الْبَهْزِيُّ فَقَالَ لَوْلَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا قُمْتُ هَذَا الْمَقَامَ فَلَمَّا سَمِعَ بِذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَجْلَسَ النَّاسَ فَقَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عَلَيْهِ مُرَجَّلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَتَخْرُجَنَّ فِتْنَةٌ مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ أَوْ مِنْ بَيْنِ رِجْلَيْ هَذَا هَذَا يَوْمَئِذٍ وَمَنِ اتَّبَعَهُ عَلَى الْهُدَى“ قَالَ فَقَامَ ابْنُ حَوَالَةَ الْأَزْدِيُّ مِنْ عِنْدِ الْمِنْبَرِ فَقَالَ إِنَّكَ لَصَاحِبُ هَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَحَاضِرٌ ذَلِكَ الْمَجْلِسَ وَلَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي فِي الْجَيْشِ مُصَدِّقًا كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ تَكَلَّمَ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جبیر بن نفیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ہم سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی معیت میں ایک لشکر میں تھے، سیدنا کعب بن مرہ بہزی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انھوں نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک بات نہ سنی ہوتی تو میں اس جگہ کھڑا نہ ہوتا، سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام سنا تو لوگوں کو بٹھا دیا۔ انہوں نے کہا: ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مستقبل میں اس آدمی کے قدموں سے ایک بہت بڑا فتنہ نمودار ہوگا، ان دنوں یہ شخص اور اس کے پیروکار ہدایت پر ہوں گے۔ یہ سن کر سیدنا ابن حوالہ ازدی رضی اللہ عنہ منبر کے قریب سے اٹھے اور کہا: کیا تم نے یہ حدیث خود سنی تھی؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا ابن حوالہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اس محفل میں میں بھی حاضر تھا، اگر مجھے معلوم ہوتا کہ اس لشکر میں کوئی میری تصدیق کرے گا تو سب سے پہلے میں یہ بات بیان کرتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12245
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه الطبراني في الكبير : 20/ 753 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18235»
حدیث نمبر: 12246
عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ خُطَبَاءُ بِإِيلِيَاءَ فَقَامَ مِنْ آخِرِهِمْ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ فَقَالَ لَوْلَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا قُمْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ فِتْنَةً وَأَحْسَبُهُ قَالَ فَقَرَّبَهَا شَكَّ إِسْمَاعِيلُ فَمَرَّ رَجُلٌ مُتَقَنِّعٌ فَقَالَ ”هَذَا وَأَصْحَابُهُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْحَقِّ“ فَانْطَلَقْتُ فَأَخَذْتُ بِمَنْكِبِهِ وَأَقْبَلْتُ بِوَجْهِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ هَذَا قَالَ ”نَعَمْ“ قَالَ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو قلابہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا تو ایلیاء میں کچھ خطباء کھڑے ہوئے اورانھوں نے کچھ بیان کیا، سب سے آخرمیں سیدنا مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ نامی صحابی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث نہ سنی ہوتی تو میں یہاں کھڑا نہ ہوتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک روز ایک فتنے کا ذکر کیا تھا اور اس کو قریب کر کے بیان کیا، (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرمانا چاہ رہے تھے کہ وہ بہت جلد نمودار ہو جائے گا)، اتنے میں ایک آدمی کا وہاں سے گزر ہوا، اس نے کپڑا لپیٹا ہوا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف اشارہ کر تے ہوئے فرمایا: ان دنوں یہ اورا س کے ساتھی حق پر ہوں گے۔ میں آگے کو چلا اور اس آدمی کے کندھے پکڑ کر اس کا چہرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف موڑا اور کہا: اللہ کے رسول! آپ کی مراد یہ آدمی ہے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ پس وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12246
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 41 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18060 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18227»
حدیث نمبر: 12247
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ حَدَّثَنِي هَرَمِيُّ بْنُ الْحَارِثِ وَأُسَامَةُ بْنُ خُرَيْمٍ وَكَانَا يُغَازِيَانِ فَحَدَّثَانِي حَدِيثًا وَلَمْ يَشْعُرْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَّ صَاحِبَهُ حَدَّثَنِيهِ عَنْ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ ”كَيْفَ تَصْنَعُونَ فِي فِتْنَةٍ تَثُورُ فِي أَقْطَارِ الْأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِي بَقَرٍ“ قَالُوا نَصْنَعُ مَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ ”عَلَيْكُمْ هَذَا وَأَصْحَابَهُ أَوِ اتَّبِعُوا هَذَا وَأَصْحَابَهُ“ قَالَ فَأَسْرَعْتُ حَتَّى عَيِيتُ فَلَحِقْتُ الرَّجُلَ فَقُلْتُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”هَذَا“ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ ”هَذَا وَأَصْحَابُهُ“ وَذَكَرَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن شقیق سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہرمی بن حارث اور اسامہ بن خریم دونوں نے مجھے علیحدہ علیحدہ بیان کیا اور ان دونوں میں سے کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس نے مجھے بیان کیا ہے، وہ دونوں غزوہ میں شریک تھے، ان دونوں نے سیدنا مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ بہزی سے بیان کیا اور انھوں نے کہا: ہم لوگ مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس فتنہ میں تمہارا کیا حال ہوگا، جو زمین کے اطراف و اکناف میں گائے کے سینگوں کی مانند پھیل جائے گا؟ صحابہ نے کہا: اللہ کے نبی! اس وقت ہم کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس آدمی اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑنا۔ سیدنا مرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں تیزی سے اس آدمی کی طرف بڑھا، یہاں تک کہ میں تھک گیا، بہرحال میں نے اس کو پا لیا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف مڑ کر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آدمی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، یہی ہے۔ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12247
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 40 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20372 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20643»
حدیث نمبر: 12248
عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَهُ ابْنَ أَخِي أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ لَا وَلَكِنْ خَلَصَ إِلَيَّ مِنْ عِلْمِهِ وَالْيَقِينِ مَا يَخْلُصُ إِلَى الْعَذْرَاءِ فِي سِتْرِهَا قَالَ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ فَكُنْتُ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَآمَنَ بِمَا بُعِثَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ هَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ كَمَا قُلْتُ وَنِلْتُ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن عدی بن خیار سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: بھتیجے! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے علم اور یقین اس قدر صفائی کے ساتھ میرے پاس پہنچا ہے جیسے کسی پر دہ نشین خاتون کے پاس اس کے پردہ میں بھی کوئی چیز پہنچ جاتی ہے۔ پھر انہوں نے خطبہ دیا، شہادتین کا اقرار کیا اور پھر کہا: أَمَّا بَعْدُ! بے شک اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا اورمیں ان لوگوں میں سے تھا، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی بات کو قبول کیا اور میں اس دین پر ایمان لایا تھا، جس کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تھا،پھر میں نے دو ہجرتیں بھی کی۔ (ایک ہجرتِ حبشہ اور دوسری ہجرت ِ مدینہ) اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دامادی کا شرف بھی حاصل ہوا اور میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت بھی کی، اللہ کی قسم! میں نے نہ کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خیانت کی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ جو دعوی کر رہے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس کو بدرجۂ اتم پورا کرنے والے تھے، رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَاَرْضَاہُ۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ، دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۲۸۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12248
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 3696، 3872 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 480 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 480»