کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ کرنا
حدیث نمبر: 12237
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ كَانَ يَقُولُ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لَا يَمُوتُ عُثْمَانُ حَتَّى يُسْتَخْلَفَ قُلْنَا مِنْ أَيْنَ تَعْلَمُ ذَلِكَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّهُ ثَلَاثَةٌ مِنْ أَصْحَابِي وُزِنُوا فَوُزِنَ أَبُو بَكْرٍ فَوَزَنَ ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ فَوَزَنَ ثُمَّ وُزِنَ عُثْمَانُ فَنَقَصَ صَاحِبُنَا وَهُوَ صَالِحٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اسو د بن ہلال اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں کہا کرتے تھے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو جب تک خلافت نہیں ملے گی، انہیں اس وقت تک موت نہیں آئے گی۔ ہم نے کہا: تمہیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے گزشتہ رات نیند میں دیکھا ہے کہ گویا میرے تین صحابہ رضی اللہ عنہ کا وزن کیاگیا، پس ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا، وہ بھاری رہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کاوزن کیا گیا، وہ بھی بھاری رہے، بعد ازاں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو وہ ذرا کم وزن تھے، بہرحال وہ بھی صالح آدمی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں تین مذکورہ شخصیات کا بالترتیب ذکر کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 12238
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”يَا عَائِشَةُ لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا“ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَبْعَثُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ ”لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا“ فَقُلْتُ أَلَا أَبْعَثُ إِلَى عُمَرَ فَسَكَتَ قَالَتْ ثُمَّ دَعَا وَصِيفًا بَيْنَ يَدَيْهِ فَسَارَّهُ فَذَهَبَ قَالَتْ فَإِذَا عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَنَاجَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَوِيلًا ثُمَّ قَالَ ”يَا عُثْمَانُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُقَمِّصُكَ قَمِيصًا فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى أَنْ تَخْلَعَهُ فَلَا تَخْلَعْهُ لَهُمْ وَلَا كَرَامَةَ“ يَقُولُهَا لَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! کاش ہمارے پاس کوئی ایسا آدمی ہوتا جو ہمارے ساتھ باتیں کرتا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، کچھ دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: کاش ہمارے پاس کوئی آدمی ہوتا جو ہمارے ساتھ باتیں کرتا۔ میں نے کہا: کیا میں عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج دوں؟ لیکن آپ اس بار بھی خاموش رہے، کچھ دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خادم کو بلوایا اور راز دارنہ انداز میں اس کے ساتھ کوئی بات کی، وہ چلا گیا،تھوڑا وقت ہی گزرا تھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور وہ اندر تشریف لے آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کافی دیر تک ان کے ساتھ سرگوشی کرتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عثمان! اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا، اگر منافقین اس قمیص کو اتارنے کا مطالبہ کریں تو ان کے کہنے پر تم اسے نہ اتارنا، کیونکہ اس کے اتارنے میں کوئی عزت نہیں رہے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات دو تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔
وضاحت:
فوائد: … قمیض سے مراد خلافت ہے۔
حدیث نمبر: 12239
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَتْ إِحْدَانَا عَلَى الْأُخْرَى فَكَانَ مِنْ آخِرِ كَلَامٍ كَلَّمَهُ أَنْ ضَرَبَ مَنْكِبَهُ وَقَالَ ”يَا عُثْمَانُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَسَى أَنْ يُلْبِسَكَ قَمِيصًا فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ حَتَّى تَلْقَانِي يَا عُثْمَانُ إِنَّ اللَّهَ عَسَى أَنْ يُلْبِسَكَ قَمِيصًا فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ حَتَّى تَلْقَانِي“ ثَلَاثًا فَقُلْتُ لَهَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَأَيْنَ كَانَ هَذَا عَنْكِ قَالَتْ نَسِيتُهُ وَاللَّهِ فَمَا ذَكَرْتُهُ قَالَ فَأَخْبَرْتُهُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ فَلَمْ يَرْضَ بِالَّذِي أَخْبَرْتُهُ حَتَّى كَتَبَ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنِ اكْتُبِي إِلَيَّ بِهِ فَكَتَبَتْ إِلَيْهِ بِهِ كِتَابًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا، جب وہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے، جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حالت میں دیکھا تو ہم ایک طرف جا کر جمع ہوگئیں، تاکہ آپ آزادی سے گفتگو کرسکیں، بات چیت ہوتی رہی، آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ ما ر کر فرمایا: عثمان! امید ہے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم کو ایک قمیص پہنائے گا، اگر منافقین تم سے اس قمیص کے اتارنے کا مطالبہ کریں تو مجھے ملنے تک اس قمیض کو نہ اتارنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی۔ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: یہ حدیث اب تک کہاں رہی؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں بھول گئی تھی، اللہ کی قسم! مجھے یاد نہیں رہی تھی، سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو بتلائی، لیکن انہیں میری خبر پر تسلی نہ ہوئی، یہاں تک کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف لکھ بھیجا کہ وہ یہ حدیث لکھوا کر ارسال کردیں، پس سیدہ نے ایک تحریر ان کو بھجوادی، جس میں یہ حدیث لکھی ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 12240
قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا اسْتَمَعْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً فَإِنَّ عُثْمَانَ جَاءَهُ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ جَاءَهُ فِي أَمْرِ النِّسَاءِ فَحَمَلَتْنِي الْغَيْرَةُ عَلَى أَنْ أَصْغَيْتُ إِلَيْهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُلْبِسُكَ قَمِيصًا تُرِيدُكَ أُمَّتِي عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ“ فَلَمَّا رَأَيْتُ عُثْمَانَ يَبْذُلُ لَهُمْ مَا سَأَلُوهُ إِلَّا خَلْعَهُ عَلِمْتُ أَنَّهُ مِنْ عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي عَهِدَ إِلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے خبری میں صرف ایک بار آپ کی بات سننے کی کوشش کی اور سنی، تفصیل یہ ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ دوپہر کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے سمجھا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے، پس میری غیرت نے مجھے اس بات پر آمادہ کیا کہ میں نے اپنے کان اُدھر لگا دئیے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ تم کو ایک قمیص پہنائے گا، میری امت کے لوگ تم سے مطالبہ کریں گے کہ تم اس قمیض کو اتار دو، مگر تم نے وہ قمیص نہیں اتارنی۔ جب میں نے دیکھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ لوگوں کی ہربات کو پورا کرتے آرہے ہیں، البتہ اس خلافت سے دست بردار نہیں ہورہے تو میں جان گئی کہ یہ وہی بات اور عہد ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … جیسے نبی کریم نے پیشین گوئی کی تھی، اس کے مطابق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مسندِ خلافت پر متمکن ہوئے اور امت مسلمہ کی قیادت کی۔