کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: تیسرے خلیفہ راشد امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلاف سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت و بیعت کا بیان
حدیث نمبر: 12236
عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ كَيْفَ بَايَعْتُمْ عُثْمَانَ وَتَرَكْتُمْ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا ذَنْبِي قَدْ بَدَأْتُ بِعَلِيٍّ فَقُلْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ وَسِيرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ فَقَالَ فِيمَا اسْتَطَعْتُ قَالَ ثُمَّ عَرَضْتُهَا عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَبِلَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابووائل سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ کیسے ہوا کہ آپ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی، انہوں نے کہا: اس میں میراکیا قصور ہے؟میں پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیاا ور میں نے کہا: میں اللہ کی کتاب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی سیرت کی روشنی میں آپ کی بیعت کرتاہوں، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، لیکن میری طاقت کے مطابق، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: پھرمیں نے یہ چیز سیدنا عثمان پر پیش کی تو انہوں نے اسے قبول کرلیا۔
وضاحت:
فوائد: … فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی تجہیز و تکفین کے بعد خلیفہ کے انتخاب کامسئلہ پیش ہوا اور دو دن تک اس پر بحث ہوتی رہی، لیکن کوئی فیصلہ نہ ہوا، آخر تیسرے دن سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وصیت کے مطابق خلافت چھ آدمیوں میں دائر ہے، لیکن اس کو تین شخصوں تک محدود کر دینا چاہیے اور جو اپنے خیال میں جس کو مستحق سمجھتا ہو، اس کا نام پیش کرے۔سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نام پیش کیا، پھر سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنے حق سے باز آنے کا اعلان کر دیا اور کہا: اب معاملہ دو آدمیوں میں منحصر ہو گیا ہے، ان دونوں میں سے جو کتاب اللہ اور سنت ِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سنت ِ شیخین کی پابندی کا عہد کرے گا، اس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے گی، اس کے بعد علیحدہ علیحدہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ دونوں اس کا فیصلہ میرے ہاتھ میں دے دیں، اس پر ان دونوں کی رضامندی لینے کے بعد سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور تمام صحابہ مسجد میں جمع ہوئے، سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے ایک مختصر لیکن مؤثر تقریر کی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی، اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیعت کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیعت کرنا ہی تھا کہ تمام حاضرین بیعت کے لیے ٹوٹ پڑے، اس طرح محرم کی ۴ تاریخ سنہ ۲۴ ہجری دوشنبہ کے دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اتفاقِ عام کے ساتھ مسند نشین خلافت ہوئے اور دنیائے اسلام کی عنانِ حکومت اپنے ہاتھ میں لی۔