کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب چہارم: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعض خطبات رعایا کے مابین عدل کے بارے میں ان کا خطبہ
حدیث نمبر: 12225
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي فِرَاسٍ قَالَ خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنَّا إِنَّمَا كُنَّا نَعْرِفُكُمْ إِذْ بَيْنَ ظَهْرَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِذْ يَنْزِلُ الْوَحْيُ وَإِذْ يُنْبِئُنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ أَلَا وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِ انْطَلَقَ وَقَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ وَإِنَّمَا نَعْرِفُكُمْ بِمَا نَقُولُ لَكُمْ مَنْ أَظْهَرَ مِنْكُمْ خَيْرًا ظَنَنَّا بِهِ خَيْرًا وَأَحْبَبْنَاهُ عَلَيْهِ وَمَنْ أَظْهَرَ مِنْكُمْ لَنَا شَرًّا ظَنَنَّا بِهِ شَرًّا وَأَبْغَضْنَاهُ عَلَيْهِ سَرَائِرُكُمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ أَلَا إِنَّهُ قَدْ أَتَى عَلَيَّ حِينٌ وَأَنَا أَحْسِبُ أَنَّ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ يُرِيدُ اللَّهَ وَمَا عِنْدَهُ فَقَدْ خُيِّلَ إِلَيَّ بِآخِرَةٍ أَلَا إِنَّ رِجَالًا قَدْ قَرَأُوهُ يُرِيدُونَ بِهِ مَا عِنْدَ النَّاسِ فَأَرِيدُوا اللَّهَ بِقِرَاءَتِكُمْ وَأَرِيدُوهُ بِأَعْمَالِكُمْ أَلَا إِنِّي وَاللَّهِ مَا أُرْسِلُ عُمَّالِي إِلَيْكُمْ لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ وَلَا لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ وَلَكِنْ أُرْسِلُهُمْ إِلَيْكُمْ لِيُعَلِّمُوكُمْ دِينَكُمْ وَسُنَّتَكُمْ فَمَنْ فُعِلَ بِهِ شَيْءٌ سِوَى ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلَيَّ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِذَنْ لَأُقِصَّنَّهُ مِنْهُ فَوَثَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَوَ رَأَيْتَ إِنْ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى رَعِيَّةٍ فَأَدَّبَ بَعْضَ رَعِيَّتِهِ أَئِنَّكَ لَمُقْتَصُّهُ مِنْهُ قَالَ إِي وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ إِذَنْ لَأُقِصَّنَّهُ مِنْهُ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقِصُّ مِنْ نَفْسِهِ أَلَا لَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ فَتُذِلُّوهُمْ وَلَا تُجَمِّرُوهُمْ فَتَفْتِنُوهُمْ وَلَا تَمْنَعُوهُمْ حُقُوقَهُمْ فَتُكَفِّرُوهُمْ وَلَا تُنْزِلُوهُمُ الْغِيَاضَ فَتُضَيِّعُوهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو فراس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے خطاب کیا اور کہا: لوگو! جب ہمارے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوا کر تی تھی اور اللہ تعالیٰ تمہاری کاروائیوں سے ہمیں باخبر کر دیا کرتے تھے، ہم تم سب کو اچھی طرح پہچان لیتے تھے، اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا چکے ہیں اور وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے، اب ہم تمہیں جو کچھ کہیں گے، اسی کی روشنی میں تمہیں پہچاننے کی کوشش کریں گے، تم میں سے جو آدمی اچھائی کا اظہار کرے گا، ہم بھی اس کے متعلق اچھا گمان رکھیں گے اور اسی کے مطابق اس کے ساتھ رویہ اختیار کریں گے اور تم میں سے جس نے ہمارے ساتھ برائی کا اظہار کیا، ہم بھی اس کے متعلق برا گمان رکھیں گے اور اسی کے مطابق اس سے بغض رکھیں گے، تمہارے راز اور اندر کی باتیں تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان ہیں۔ خبردار! مجھ پر ایک ایسا وقت بھی گزر چکا ہے کہ میں جسے قرآن پڑھتا دیکھتا تھا، اس کے بارے میں یہی سمجھتا تھا کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے، اس کو حاصل کرنے کے لیے پڑھ رہا ہے، اس کے بارے میں میں آخر تک یہی سمجھتا رہا، مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو قرآن پڑھ کر لوگوں سے اس کا معاوضہ اور مال چاہتے ہیں، میں تم کو یہی کہوں گا کہ تم اپنی قراء ت اور اعمال کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ارادہ کرو۔ خبردار! اللہ کی قسم! میں اپنے عمال اور مسئولین کو تمہاری طرف اس لیے نہیں بھیجتا کہ وہ تمہیں سزائیں دیں اور نہ میں انہیں اس لیے بھیجتا ہوں کہ وہ تمہارے اموال ہتھیا لیں، میرا ان کو بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ تمہیں تمہارا دین اور سنت سکھائیں، اگر میرا کوئی عامل اس کے الٹ کاروائی کرے تو اس کے بارے میں مجھے خبر دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس سے اس کی کاروائی کا بدلہ دلواؤں گا۔ یہ سن کر سیدنا عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ اٹھے اور انھوں نے کہا: اے امیر المومنین! کیا خیال ہے اگر ایک مسلمان آدمی کچھ لوگوں پر حاکم ہو اور وہ اپنی رعایا کے بعض افراد کو ادب سکھانے کے لیے سزا وغیرہ دیتا ہو تو کیا آپ اس سے بدلہ لیں گے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے! میں تب بھی ضرور ضرور اس سے بدلہ لوں گا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدلے کے لیے خود کو پیش کر دیا تھا۔ خبردار! تم مسلمانوں کو سزائیں دے دے کر ان کو ذلیل ورسوانہ کرو اور تم انہیں زیادہ عرصے تک سرحدوں پر روک کر نہ رکھو، اس طرح تم انہیں فتنوں میں مبتلا کر دو گے اور تم انہیں ان کے حق سے محروم نہ کرو، وگرنہ تم انہیں ناشکرے بندے بنا دو گے اور تم لشکروں کو درختوں کے جھنڈوں میں نہ اتارا کرو (کیونکہ اس طرح سے وہ بکھر جائیں گے) اور ضائع ہو جائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12225
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين غير ابي فراس النھدي، لم يرو عنه غير ابي نضرة ولم يوثقه غير ابن حبان، وقال ابو زرعة: لا اعرفه، اخرجه ابوداود: 4537، والنسائي: 8/ 34، وأخرجه البخاري مختصرا بنحوه: 2641 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 286 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 286»
حدیث نمبر: 12226
وَعَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ أَلَا لَا تُغْلُوا صَدُقَ النِّسَاءِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ إِسْمَاعِيلُ وَذَكَرَ أَيُّوبُ وَهِشَامٌ وَابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ عَنْ عُمَرَ نَحْوًا مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ إِلَّا أَنَّهُمْ قَالُوا لَمْ يَقُلْ مُحَمَّدٌ نُبِّئْتُ عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو العجفاء سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ خبردار! تم عورتوں کے مہر میں غلوّ میں نہ پڑو، پھر باقی حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12226
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه النسائي: 6/117، وابن ماجه: 1887، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 287»