کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فصل سوم: بیت المقدس کی فتح ، جابیہ مقام پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مشہور خطاب¤اور۱۶ھ میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو امارت سے معزول کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12221
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ بِالْجَابِيَةِ فَقَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَقَامِي فِيكُمْ فَقَالَ ”اسْتَوْصُوا بِأَصْحَابِي خَيْرًا ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَبْتَدِئُ بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ بَحْبَحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ لَا يَخْلُوَنَّ أَحَدُكُمْ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمَا وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جابیہ کے مقام پر خطاب کیا اور اس میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان اسی طرح کھڑے ہوئے تھے، جیسے میں تمہارے درمیان کھڑ اہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اپنے صحابہ سے اچھا سلوک کرنے کی تاکید کرتا ہوں، اور ان کے بعد آنے والے لوگوں اور پھر اُن لوگوں کے بعد آنے والوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنے کی تمہیں وصیت کرتا ہوں، ان زمانوں کے بعد جھوٹ عام ہو جائے گا، یہاں تک کہ آدمی گواہی کا مطالبہ کیے جانے سے پہلے گواہی دینا شروع کر دے گا، پس تم میں سے جو آدمی جنت کے وسط میں مقام بنانا چاہے، وہ جماعت کے ساتھ مل کر رہے، کیونکہ اکیلے آدمی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے اور اگر دو آدمی اکٹھے ہوں تو وہ ان سے زیادہ دور رہتا ہے اور تم میں سے کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ علیحدہ نہ ہو، کیونکہ ان میں تیسرا شیطان ہو گا، نیز جب کسی آدمی کو اس کی نیکی اچھی لگے اور برائی بری لگے تو وہ مؤمن ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ میں پانچ اہم مسائل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے: ۱۔ صحابہ کرام، تابعینِ عظام اور تبع تابعین کے ساتھ حسن سلوک والا معاملہ کرنا، قرونِ اولی کی ان ہستیوں نے اسلام کو سہارا دیا، بعد میں آنے والا کبھی بھی ان کے احسانات کو فراموش نہیں کر سکتا، لیکن تعجب اس بات پر ہے عصرِ حاضر میں بعض تنظیمیں صحابہ کرام کی حسنات کو نظر انداز کر کے ان کے بشری تقاضوں کو ہوا دے کر ان پر طعن و تشنیع اور سب و شتم کرتے ہیں۔ ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ ان لوگوں کی غرض و غایت کیا ہے؟ اوریہ کیا چاہتے ہیں؟ ہم یہ دعوی نہیں کرتے کہ صحابہ کرام معصوم تھے،لیکن اتنا ضرور کہتے ہیں کہ ان کا قول و کردار اعلی تھا، وہ سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست و بازو بنے اور اسلام کو دنیا کے اطراف و اکناف میں پھیلانے کا سبب بنے۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم ان کے مثبت پہلوؤں کو سامنے رکھ کر اپنے آپ کو ان کا ممنون سمجھیں۔
۲۔ قسم اٹھانے اور گواہی دینے کا مطلب جھوٹ کا عام ہونا ہے، وگرنہ سچے گواہوںکی نفی نہیں کی جا رہی۔ آج کل بھی کچہریوں اور عدالتوں میں ایجینٹوں کی طرح کچھ لوگ تین چار سو روپیہ مروڑ کر جھوٹی گواہی دینے کے لیے گردش کر رہے ہوتے ہیں۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جھوٹ برائیوں کی طرف اور برائیاں جہنم کی طرف لے کر جاتی ہیں اور بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے، حتی کہ اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں کذاب اور جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ (بخاری، مسلم)
۳۔ جماعت کو لازم پکڑنا کیونکہ اکیلے آدمی کو شیطان آسانی سے گمراہ کر سکتا ہے۔
۴۔ کوئی مرد کسی غیر محرم عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہیں کرسکتا۔ آجکل بے پردگی اور غیر محرم مردو زن کا میل ملاپ عام ہے، کوئی اسے محبت کااور کوئی رشتہ داری کا تقاضا سمجھتا ہے۔ بہرحال شریعت کا مزاج ان امور کی قطعی طور پر اجازت نہیں دیتا۔
۵۔ نیکی سے مزاج میں خوشی کی لہر دوڑنا اور برائی سے تنگی محسوس کرنا ایمان و ایقان کی بہت بڑی علامت ہے، جس آدمی کو نیکی کر کے خوشی ہو تی ہو نہ برائی کر کے غمی، تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اس کا ایمان زنگ آلود ہو چکا ہے، وہ استغفار کرے اور اپنے ایمان کی تجدید کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12221
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه الترمذي: 2165 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 114 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 114»
حدیث نمبر: 12222
عَنْ نَاشِرَةَ بْنِ سُمَيٍّ الْيَزَنِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَقُولُ فِي يَوْمِ الْجَابِيَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَنِي خَازِنًا لِهَذَا الْمَالِ وَقَاسِمَهُ لَهُ ثُمَّ قَالَ بَلِ اللَّهُ يَقْسِمُهُ وَأَنَا بَادِئٌ بِأَهْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَشْرَفِهِمْ فَفَرَضَ لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشْرَةَ آلَافٍ إِلَّا جُوَيْرِيَةَ وَصَفِيَّةَ وَمَيْمُونَةَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْدِلُ بَيْنَنَا فَعَدَلَ بَيْنَهُنَّ عُمَرُ ثُمَّ قَالَ إِنِّي بَادِئٌ بِأَصْحَابِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ فَإِنَّا أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا ظُلْمًا وَعُدْوَانًا ثُمَّ أَشْرَفِهِمْ فَفَرَضَ لِأَصْحَابِ بَدْرٍ مِنْهُمْ خَمْسَةَ آلَافٍ وَلِمَنْ كَانَ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَرْبَعَةَ آلَافٍ وَلِمَنْ شَهِدَ أُحُدًا ثَلَاثَةَ آلَافٍ قَالَ وَمَنْ أَسْرَعَ فِي الْهِجْرَةِ أَسْرَعَ بِهِ الْعَطَاءُ وَمَنْ أَبْطَأَ فِي الْهِجْرَةِ أَبْطَأَ بِهِ الْعَطَاءُ فَلَا يَلُومَنَّ رَجُلٌ إِلَّا مُنَاخَ رَاحِلَتِهِ وَإِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكُمْ مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِنِّي أَمَرْتُهُ أَنْ يَحْبِسَ هَذَا الْمَالَ عَلَى ضَعَفَةِ الْمُهَاجِرِينَ فَأَعْطَى ذَا الْبَأْسِ وَذَا الشَّرَفِ وَذَا اللَّسَانَةِ فَنَزَعْتُهُ وَأَمَّرْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَقَالَ أَبُو عَمْرٍو بْنُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَاللَّهِ مَا أَعْذَرْتَ يَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لَقَدْ نَزَعْتَ عَامِلًا اسْتَعْمَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَغَمَدْتَ سَيْفًا سَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَوَضَعْتَ لِوَاءً نَصَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَقَدْ قَطَعْتَ الرَّحِمَ وَحَسَدْتَ ابْنَ الْعَمِّ فَقَالَ عُمَرُ بْنَ الْخَطَّابِ إِنَّكَ قَرِيبُ الْقَرَابَةِ حَدِيثُ السِّنِّ مُغْضَبٌ مِنْ ابْنِ عَمِّكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ناشرہ بن سمی یزنی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو جابیہ کے مقام پر سنا، وہ لوگوں سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اس مال کا خازن او رتقسیم کنند ہ بنایا ہے۔ پھر کہا: دراصل اللہ تعالیٰ ہی تقسیم کرنے والا ہے، اب میں تقسیم کرتے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل خانہ سے ابتداء کرتا ہوں، پھر ان کے بعد جو افضل ہو گا، اسے دوں گا، چنانچہ انہوں نے امہات المومنین میں سیدہ جو یریہ، سیدہ صفیہ اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہن کے سوا باقی تمام ازواج مطہرات کے لیے دس دس ہزار مقرر کیے، لیکن جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ہمارے درمیان عدل اور برابری فرمایا کرتے تھے، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سب کو برابر برابر حصہ دیا ہے اورپھر کہا: اب میں سب سے پہلے ان حضرات کو دیتا ہوں جو اولین مہاجرین میں سے ہیں، کیونکہ ان لوگوں پر ظلم اورزیادتی کرتے ہوئے ان کو ان کے گھروں سے نکال دیا گیا تھا، ان کے بعد جو لوگ فضل و شرف والے ہوں گے، ان کو دوں گا، پس انہوں نے اصحاب بدر کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر فرمائے اور انصاری بدری صحابہ کے لیے چار چار ہزار اور شرکائے احد کے لیے تین تین ہزار مقرر کیے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا: جس نے ہجرت کرنے میں جلدی کی، اس کو زیادہ دیا جائے گا اور جس نے ہجرت کرنے میں دیر کی، میں بھی اس کو کم حصہ دوں گا، ہر آدمی اپنے اونٹ کے بٹھانے کی جگہ کو ملامت کرے (یعنی اگر کسی کو حصہ کم دیا جا رہا ہے تو وہ اس کی اپنی تاخیر کی وجہ سے ہے، وہ ہم پر طعن نہ کرے) اورمیں تمہارے سامنے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں معذرت پیش کرتا ہوں،ـ میں نے انہیں حکم دیا تھا کہ یہ مال کمزور مہاجرین میں تقسیم کریں، لیکن انہوں نے یہ مال تندرست، اصحاب مرتبہ اور چالاک لوگوں میں تقسیم کر دیا، اس لیے میں یہ ذمہ داری ان سے لے کر سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو سونپتا ہوں،یہ سن کر ابو عمر بن حفص بن مغیرہ نے کہا: اللہ کی قسم! اے عمر بن خطاب! آپ کا عذر معقول نہیں، آپ نے اس عامل کو معزدل کیا ہے جسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقرر فرمایا تھا، آپ نے اس تلوار کو نیام میں بند کیا ہے، جسے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لہرایا تھا اور آپ نے اس جھنڈے کو لپیٹ دیا ہے، جس کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نصب کیا تھا اور آپ نے یہ کام کر کے اپنے چچا زاد سے قطع رحمی کی ار اس سے حسد کا ثبوت دیا ہے۔ یہ باتیں سن کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اپنے اس چچازاد کے قریبی رشتہ دار ہو اور نو عمر ہو، سو تم اس کے حق میں طرف داری کر رہے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنی جانبازی اور شجاعت کے لحاظ سے تاج اسلام کے گوہر شاہوار اور اپنے زمانہ کے نہایت ذی عزت اور صاحب اثر بزرگ تھے۔
عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں: اِسْتَعْمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبَا عُبَیْدَۃَ بَنَ الْجَرَّاحِ عَلَی الشَّامِ وَعَزَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیْدِ، قَالَ: فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیْدِ: بُعِثَ عَلَیْکُمْ أَمِیْنُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ: ((أَمِیْنُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ أَبُوْ عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاح۔)) فَقَالَ أَبُوْ عُبَیْدَۃَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ: ((خَالِدٌ سَیْفٌ مِنْ سُیُوْفِ اللّٰہِ۔ عَزَّوَجَلَّ۔ نِعْمَ فَتَی الْعَشِیْرَۃِ۔)) … سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر بنا کر بھیجا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا۔ سیدنا خالد نے کہا: اس امت کے امین کو تمھارا امیر بنا کر بھیجا گیا ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے۔ سیدنا ابوعبیدہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: خالد، اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے اور وہ اپنے قبیلے کا بہترین نوجوان ہے۔ (مسند حمد: ۴/۹۰)
سبحان اللہ! صحابہ کرام آپس میں شیر و شکر تھے، وہ ایک دوسرے کے بارے میں صاف دل تھے۔ دیکھئے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بعض وجوہات کی بنا پر عظیم فاتح اور سپہ سالارسیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کیا توانھوں نے خلیفۂ وقت کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے اپنے عہدے پر فائز ہونے والے کا کس والہانہ انداز میں استقبال کیا اور پھر انھوں نے سیدنا خالد کی عظمتوں کو کس انداز میں بیان کیا۔ یہ حقیقی محبتوں کے نتائج ہیں۔
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ شہرۂ آفاق اور انتہائی معروف سپہ سالار ِ اسلام ہیں، بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ وہ بالعموم فتوحات کے سب سے زیادہ شہرت یافتہ سپہ سالار ہیں، ان کی یہ شہرت اور ناموری ان کے کارہائے نمایاں کا نتیجہ ہے جو انھوں نے اپنی فطری اور نہایت ممتاز خصوصیات کی بدولت انجام دیے۔ وہ بلاکے ذہین، ہوشیار اور زود فہم تھے۔ چھوٹے بڑے کل تیس معرکوں میں شریک ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں انھوں نے جنگوں میں ایسی بیدار مغزی، باتدبیری، منصوبہ سازی، بے باکی، دلیری اور بہادری سے کام لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اللہ کی تلوار کا لقب دے دیا۔
اَلْفَصْلُ الرَّابِعُ وَمِنْ ذٰلِکَ طَاعُوْنُ عَمْوَاسَ بِالشَّامِ سَنَۃَ ثَمَانَ عَشَرَۃَ
فصل چہارم: ۱۸ھ میں شام میں پڑنے والے طاعونِ عمواس کا تذکرہ
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب شام کے لیے روانہ ہوئے، جب ’ ’ سرغ مقام تک پہنچے تو ان کو اطلا ع ملی کہ شام میں (طاعون کی) وبا پھیل چکی ہے۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان کو بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم سنو کہ کسی علاقہ میں طاعون کی وبا پھیلی ہوئی ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب تم کسی علاقے میں موجود ہو اور وہاں یہ وبا پھیل جائے تو اس سے ڈر کر وہاں سے نہ نکلو۔ یہ حدیث سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور سرغ مقام سے واپس لوٹ گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12222
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات، اخرجه مختصرا النسائي في الكبري : 8283، والطبراني في الكبير : 22/ 761 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16000»