کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فصل اول: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعض فتووں اور فیصلوں کا بیان
حدیث نمبر: 12215
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ خَطَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَخَّصَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَضَى لِسَبِيلِهِ فَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَحَصِّنُوا فُرُوجَ هَذِهِ النِّسَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے خطاب کیا اور کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے جو چاہا، اپنے نبی کو رخصتیں دیں اور نبی کریم دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، لہٰذا تم حج و عمرہ کو اللہ تعالیٰ کے لیے اس طرح پورا کرو، جیسا کہ اس نے تمہیں حکم دیا ہے، نیز تم اپنی بیویوں کی شرم گاہوں کو پاکدامن رکھو۔
وضاحت:
فوائد: … ان د واحادیث میں موجود فقہی مسائل متعلقہ ابواب میں گزر چکے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12215
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه بنحوه مسلم: 1217 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 104 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 104»
حدیث نمبر: 12216
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ بَجَالَةَ يَقُولُ كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ فَأَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ أَنِ اقْتُلُوا كُلَّ سَاحِرٍ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ وَسَاحِرَةٍ وَفَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مَحْرَمٍ مِنَ الْمَجُوسِ وَانْهَوْهُمْ عَنِ الزَّمْزَمَةِ فَقَتَلْنَا ثَلَاثَةَ سَوَاحِرَ وَجَعَلْنَا نُفَرِّقُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ حَرِيمَتِهِ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَصَنَعَ جَزْءٌ طَعَامًا كَثِيرًا وَعَرَضَ السَّيْفَ عَلَى فَخِذِهِ وَدَعَا الْمَجُوسَ فَأَلْقَوْا وِقْرَ بَغْلٍ أَوْ بَغْلَيْنِ مِنْ وَرِقٍ فَأَكَلُوا مِنْ غَيْرِ زَمْزَمَةٍ وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ أَخَذَ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ قَبِلَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ وَقَالَ أَبِي قَالَ سُفْيَانُ حَجَّ بَجَالَةُ مَعَ مُصْعَبٍ سَنَةَ سَبْعِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
بجالہ کہتے ہیں: میں جزء بن معاویہ کا کاتب تھا، وہ احنف بن قیس کے چچا تھے، ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا، یہ ان کی وفات سے ایک سال پہلے کی بات ہے، اس میں یہ بات تحریر کی گئی تھی کہ ہر جادو گر اور جادو گرنی کو قتل کر دو اور مجوسیوں میں ہر محرم کے درمیان تفریق ڈال دو اور انہیں زمزمہ سے روک دو ، اس حکم کے بعد ہم نے تین جادوگر قتل کیے اور کتاب اللہ کے مطابق حرام رشتوں میں علیحدگی پیدا کر دی ، جزء نے بہت سارا کھانا تیار کروایا اور مجوسیوں کو دعوت دی اور تلوار اپنی ران پر رکھ لی ، انہوں نے زمزمہ کے بغیر کھانا کھایا اور انہوں نے ایک خچر یا دو خچر کے بوجھ اٹھانے کے برابر چاندی بھی بطور جزیہ دی ، مگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ جزیہ ان سے نہ لیا ، کبھی سفیان راوی اس طرح بیان کرتے : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجوسیوں سے جزیہ لینے کے حق میں نہ تھے ، حتی کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے شہادت دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجر کے علاقہ کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا ، تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجوسیوں سے جزیہ قبول کرنا شروع کیا ۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنی لونڈی کو جادو کرنے کی وجہ سے قتل کروا دیا تھا۔ (مؤطا امام مالک: ۲/ ۸۷۱)
بسا اوقات جادو کبیرہ گناہ ہوتا ہے اور بسا اوقات کفر، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمَا کَفَرَ سُلَیْمَانُ وَلٰکِنَّ الشَّیَاطِیْنُ کَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ} … سلیمان (علیہ السلام) نے تو کفر نہیں کیا تھا، بلکہ یہ کفر شیطانوں نے کیا تھا، وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے۔ (سورۂ بقرہ: ۱۰۲)
جادو کی جو قسم کفر ہے، اگر جادو گر مسلمان ہو تو اس سے ارتداد لازم آتا ہے اور اس طرح وہ واجب القتل ٹھہرتا ہے۔
امام شافعی نے کہا: جادو گر کو اس وقت قتل کیا جائے گا، جب وہ ایسا جادو کرے، جو کفر تک پہنچاتا ہے، ورنہ اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ امام ابو حنیفہ، امام احمد اور امام مالک کی رائے کے مطابق جادو گر کو قتل کیا جائے گا۔
امام شافعی کی رائے راجح معلوم ہوتی ہے۔
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ذات ِ مبارکہ پر جادو کرنے والے لبید کو قتل کیوں نہیں کروایا؟ دیکھیں حدیث نمبر (۶۸۰۶) کے فوائد۔
زمزمہ: یہ ایک قسم کا کلام تھا، جو مجوسی لوگ کھانا کھاتے وقت ادا کیا کرتے تھے، ان کے دین میں اس کے بغیر کھانا کھانا حلال نہیں ہوتا تھا، دراصل وہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرتے تھے، یہ ان کی بیوقوفی اور تکلف تھا۔ یہ باتیں ابن حزم نے المحلی میں بیان کیں ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12216
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3156 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1657 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1657»
حدیث نمبر: 12217
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ جَاءَهُ مَوْلَاهُ يَرْفَأُ فَقَالَ هَذَا عُثْمَانُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَسَعْدٌ وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ قَالَ وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ طَلْحَةَ أَمْ لَا يَسْتَأْذِنُونَ عَلَيْكَ قَالَ ائْذَنْ لَهُمْ ثُمَّ مَكَثَ سَاعَةً ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ هَذَا الْعَبَّاسُ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْتَأْذِنَانِ عَلَيْكَ قَالَ ائْذَنْ لَهُمَا فَلَمَّا دَخَلَ الْعَبَّاسُ قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا وَهُمَا حِينَئِذٍ يَخْتَصِمَانِ فِيمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ فَقَالَ الْقَوْمُ اقْضِ بَيْنَهُمَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَرِحْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْ صَاحِبِهِ فَقَدْ طَالَتْ خُصُومَتُهُمَا فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ“ قَالُوا قَدْ قَالَ ذَلِكَ وَقَالَ لَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَا نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي سَأُخْبِرُكُمْ عَنْ هَذَا الْفَيْءِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَصَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ غَيْرَهُ فَقَالَ {وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ} [الحشر: 6] وَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً وَاللَّهِ مَا احْتَازَهَا دُونَكُمْ وَلَا اسْتَأْثَرَ بِهَا عَلَيْكُمْ لَقَدْ قَسَمَهَا بَيْنَكُمْ وَبَثَّهَا فِيكُمْ حَتَّى بَقِيَ مِنْهَا هَذَا الْمَالُ فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهُ سَنَةً ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ مِنْهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ أَعْمَلُ فِيهَا بِمَا كَانَ يَعْمَلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مالک بن اوس بن حدثان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے بلوایا، ابھی تک میں وہیں تھا کہ ان کے خادم یرفا نے آکر بتلایا کہ سیدنا عثمان، سیدنا عبدالرحمن، سیدنا سعد اور سیدنا زبیر بن عوام آئے ہیں، مجھے یہ یاد نہیں کہ اس نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا نام لیا تھا یا نہیں، یہ حضرات آپ کے ہاں آنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: جی ان حضرات کو آنے دو، کچھ دیر کے بعد غلام نے آکر کہا: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے ہیں، وہ آپ کے پاس آنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں،انہو ں نے کہا: جی ان کو بھی آنے دو۔ جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آئے تو انہو ں نے کہا: اے امیر المومنین! آپ اس کے اور میرے درمیان فیصلہ کر دیں، اس وقت وہ بنو نضیر کے اموال میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مالِ فی ٔ کے بارے میں الجھ رہے تھے، ان کی بات سن کر سب لوگوں نے کہا: اے امیر المومنین! آپ ان کے درمیان فیصلہ کر دیں اور دونوں کو ایک دوسرے سے راحت دلائیں۔ ان کا یہ جھگڑا خاصا طو ل ہو چکاہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، جس کے حکم سے یہ آسمان اور زمین قائم ہیں! کیاتم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ ؟ سب نے کہا: جی واقعی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہی بات ان دونوں سے پوچھی تو انھوں نے بھی مثبت جواب دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں اس مالِ فی ٔ کے بارے میں بتلاتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مالِ فی ٔ کو اپنے نبی کے لیے مخصوص کیا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ یہ کسی دوسرے کو نہیں دیا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمَا أَفَائَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُولِہِ مِنْہُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَلَا رِکَابٍ} … اور اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے اپنے رسول کو جو مال فے دیا ہے، اس کے حصول کے لیے تم نے گھوڑوں اور سواریوں کو نہیں بھگایا۔ یہ اموال اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے خاص تھے، اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو اکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سارا مال خود رکھ لیا ہو اور تمہیں نہ دیا ہو اور نہ ہی آپ نے اس مال کے بارے میں دوسروں کو تمہارے ا وپر ترجیح دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سارے اموال تمہارے درمیان تقسیم کر دیتے، پھر اس سے جو بچ جاتا، آپ اس میں سے سارا سال اپنے اہل خانہ پر خرچ کر تے تھے اور جو بچ جاتا، اس کو اللہ کے مال کے طور پر خرچ کردیتے تھے، جب اللہ کے رسول کا انتقال ہوا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خلیفہ ہوں، میں اس مال میں اسی طرح تصرف کروں گا، جیسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تصرف کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12217
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 30944، 4033، 5358، 6728، ومسلم: 1757، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 425 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 425»
حدیث نمبر: 12218
عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ حَدَّثَنِي فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَقَالَ فَعَدَّ سِتَّةً أَوْ سَبْعَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ عُمَرَ إِذْ دَخَلَ عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَدِ ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فَقَالَ عُمَرُ مَهْ يَا عَبَّاسُ قَدْ عَلِمْتُ مَا تَقُولُ تَقُولُ ابْنُ أَخِي وَلِي شَطْرُ الْمَالِ وَقَدْ عَلِمْتُ مَا تَقُولُ يَا عَلِيُّ تَقُولُ ابْنَتُهُ تَحْتِي وَلَهَا شَطْرُ الْمَالِ وَهَذَا مَا كَانَ فِي يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ رَأَيْنَا كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِيهِ فَوَلِيَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ بَعْدِهِ فَعَمِلَ فِيهِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَلِيتُهُ مِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَحْلِفُ بِاللَّهِ لَأَجْهَدَنَّ أَنْ أَعْمَلَ فِيهِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ وَعَمَلِ أَبِي بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَحَلَفَ بِأَنَّهُ لَصَادِقٌ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ النَّبِيَّ لَا يُورَثُ وَإِنَّمَا مِيرَاثُهُ فِي فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَالْمَسَاكِينِ“ وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَحَلَفَ بِاللَّهِ إِنَّهُ صَادِقٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ النَّبِيَّ لَا يَمُوتُ حَتَّى يَؤُمَّهُ بَعْضُ أُمَّتِهِ“ وَهَذَا مَا كَانَ فِي يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ رَأَيْنَا كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِيهِ فَإِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا لِتَعْمَلَا فِيهِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَمَلِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى أَدْفَعَهُ إِلَيْكُمَا قَالَ فَخَلَوَا ثُمَّ جَاءَا فَقَالَ الْعَبَّاسُ ادْفَعْهُ إِلَى عَلِيٍّ فَإِنِّي قَدْ طِبْتُ نَفْسًا بِهِ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عاصم بن کلیب سے مروی ہے کہ قریش کے بنو تمیم کے ایک بزرگ نے ان کو بیان کیا اس نے چھ سات قریشی بزرگوں کا نام لے کر کہا کہ اس کو ان حضرات نے بیان کیا، ان میں سے ایک نام سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا بھی تھا، انہوں نے کہا: ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آئے، ان کے جھگڑنے کی وجہ سے ان کی آوازیں بہت بلند ہورہی تھیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عباس! ذرا رکو تو سہی، تم جو کچھ کہنا چاہتے ہو میں اسے جانتا ہوں، تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے بھتیجے تھے، اس لیے مجھے آدھا مال ملنا چاہیے، اور علی! تم بھی جو کچھ کہنا چاہتے ہو، میں اس کو بھی جانتا ہوں، تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ آپ کی بیٹی تمہاری زوجیت میں ہے اور وہ نصف مال کی حقدار ہے۔ سنو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں جو کچھ تھا، وہ تو وہی ہے جو ہم سب دیکھ چکے ہیں،ہم جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں کیسے تصرف کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ بنے، انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح تصرف کیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد میں ان کا نگران مقرر ہوا ہوں، میں اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکا میں اسی طرح عمل کروں گا۔ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھا کر کہا کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سچ بولنے والے تھے، ان سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی نبی کاوارث نہیں ہوتا، ان کی میراث تو تنگ دست و نادار مسلمانوں میں تقسیم کی جاتی ہے۔ او ر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ بھی بیان کیا، جبکہ اللہ کی قسم ہے کہ وہ سچ بولنے والے تھے، یہ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نبی اس وقت تک فوت نہیں ہوتا، جب تک وہ اپنی امت میں سے کسی کی اقتدا میں نماز ادا نہ کر لے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو کچھ تھا، ہم سب دیکھ چکے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں کیسے تصرف کیا کرتے تھے، اب اگرتم دونوں چاہو تو میں یہ مال تمہیں دے دیتا ہوں تاکہ تم بھی اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرح تصرف کرتے رہو، پس وہ دونوں علیحدہ ہو گئے اور پھر آئے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: جی آپ یہ مال سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیں، میں اس بارے میں علی رضی اللہ عنہ کے حق میں دلی طور پر راضی ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12218
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره دون قوله: ان النبي صلي الله عليه وآله وسلم لايموت حتي يؤمنه بعض امته وھذا اسناد ضعيف لجھالة الشيخ من قريش ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 78 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 78»