حدیث نمبر: 12210
عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نِسَاءٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُكَلِّمْنَهُ وَيَسْتَكْثِرْنَهُ عَالِيَةٌ أَصْوَاتُهُنَّ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ قُمْنَ يَبْتَدِرْنَ الْحِجَابَ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَدَخَلَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ فَقَالَ عُمَرُ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَاءِ اللَّاتِي كُنَّ عِنْدِي فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ“ قَالَ عُمَرُ فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتَ أَحَقَّ أَنْ يَهَبْنَ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ أَيْ عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي وَلَا تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْنَ نَعَمْ أَنْتَ أَغْلَظُ وَأَفَظُّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ قَطُّ سَالِكًا فَجًّا إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ“ وَقَالَ يَعْقُوبُ مَا أُحْصِي مَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ حَدَّثَنَا صَالِحٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جانے کی اجازت طلب کی، اس وقت کچھ قریشی خواتین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھی گفتگو کر رہی تھیں اور نان ونفقہ میں اضافے کا مطالبہ کر رہی تھیں اور ان کی آوازیں خاصی بلند ہورہی تھیں، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو وہ جلدی سے چھپنے لگ گئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کوآنے کی اجازت دی، جب وہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا رہے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ آپ کے دانتوں کو ہنستا رکھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان خواتین پر تعجب ہو رہا ہے، یہ میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، جب انہو ں نے تمہاری آواز سنی تو جلدی سے چھپ گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ یہ آپ سے ڈریں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اپنی جانوں کی دشمنو! تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں ڈرتیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، تم رسول اللہ کی بہ نسبت سخت اور درشت مزاج ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اے عمر! جب بھی شیطان تجھ سے ملتا ہے تو جس راستے پر تو چل رہا ہوتا ہے، وہ اس کے علاوہ کوئی اور راستہ اختیار کر لیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس کا مطلب یہ نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں عورتیں کوئی گناہ والا کام کر رہی تھیں۔ درحقیقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شخصیت میں ہیبت اور رعب تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے اس وصف کا خیال رکھتے تھے۔
اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی عظیم منقبت کا بیان ہے۔ وہ دین میں اس قدر سخت اور خالص حق پر ڈٹ جانے والے تھے کہ شیطان ان کے سامنے آنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔
اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی عظیم منقبت کا بیان ہے۔ وہ دین میں اس قدر سخت اور خالص حق پر ڈٹ جانے والے تھے کہ شیطان ان کے سامنے آنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔
حدیث نمبر: 12211
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ الْأَسْوَدَ بْنَ سَرِيعٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ حَمِدْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِمَحَامِدَ وَمَدَحٍ وَإِيَّاكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمَا إِنَّ رَبَّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُحِبُّ الْمَدْحَ هَاتِ مَا امْتَدَحْتَ بِهِ رَبَّكَ“ قَالَ فَجَعَلْتُ أُنْشِدُهُ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَأْذَنَ أَدْلَمُ أَصْلَعُ أَعْسَرُ أَيْسَرُ قَالَ فَاسْتَنْصَتَنِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَوَصَفَ لَنَا أَبُو سَلَمَةَ كَيْفَ اسْتَنْصَتَهُ قَالَ كَمَا صَنَعَ بِالْهِرِّ فَدَخَلَ الرَّجُلُ فَتَكَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ خَرَجَ ثُمَّ أَخَذْتُ أُنْشِدُهُ أَيْضًا ثُمَّ رَجَعَ بَعْدُ فَاسْتَنْصَتَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَوَصَفَهُ أَيْضًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ ذَا الَّذِي اسْتَنْصَتَّنِي لَهُ فَقَالَ ”هَذَا رَجُلٌ لَا يُحِبُّ الْبَاطِلَ هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا اسودبن سریع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے رب کی تعریفات بیان کی ہیں اور آپ کی بھی مدح سرائی کی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یاد رکھو! تمہارا ربّ حمد کو پسند کرتا ہے، تم نے اپنے رب کی جو مدح کی ہے، وہ ذرا سناؤ تو سہی۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنانے لگا، اتنے میں ایک سیاہ فام، دراز قد، گنجا اور اپنے دائیں اور بائیں دونوں ہاتھوں سے کام کرنے والا ایک آدمی آگیا۔ اس کے آنے پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے چپ کر ادیا۔ ابو سلمہ نے ہمارے سامنے ان کے چپ کرانے کی کیفیت بھی بیان کی کہ جیسے بلی کو آوازدی جاتی ہے، پس وہ آدمی آیا، اس نے کچھ دیر گفتگو کی اور اس کے بعد وہ چلا گیا، اس کے جانے کے بعد میں دوبارہ اپنا کلام پیش کرنے لگا، وہ آدمی دوبارہ آگیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پھر خاموش کر ادیا۔ ابو سلمہ نے دوبارہ خاموش کرانے کی کیفیت کو دہرایا، دو تین مرتبہ ایسے ہی ہوا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کون آدمی ہے جس کی آمد پر آپ نے مجھے خاموش کرادیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ آدمی ہے جو لغو کو پسند نہیں کرتا، یہ عمر بن خطاب ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں مذکورہ جملہ أَمَا إِنَّ رَبَّکَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی یُحِبُّ الْمَدْحَ شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔ اکثر لوگ دائیں ہاتھ سے کام کرتے ہیں، جبکہ بعض لوگ بائیں ہاتھ سے کام کرتے ہیں، اس روایت میں دونوں ہاتھوں سے مراد یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے کام کرنے کی صلاحیت تھی۔
حدیث نمبر: 12212
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِي الَّذِي دُفِنَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي فَأَضَعُ ثَوْبِي فَأَقُولُ إِنَّمَا هُوَ زَوْجِي وَأَبِي فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَهُمْ فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْتُ إِلَّا وَأَنَا مَشْدُودَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي حَيَاءً مِنْ عُمَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اس گھر میں داخل ہوتی رہتی تھی، جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور میرے والد مدفون تھے، میں وہاں کپڑا بھی اتار لیتی تھی اور کہتی تھی کہ ایک میرا شوہر ہیں اور ایک میرے والد، لیکن اللہ کی قسم! جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دفن کیے گئے تو میں ان سے حیا کرتے ہوئے اپنے اوپر کپڑے لپیٹ کر داخل ہوتی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … بعض لوگوں نے اس حدیث سے یہ استدلال کشید کرنے کی کوشش کی ہے کہ اللہ کے اولیاء قبر سے بھی دیکھتے ہیں، تبھی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دفن ہونے کے بعد پردہ کرتی تھیں۔
ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چار پانچ من مٹی سے دیکھ سکتے تھے، تو ان کے سامنے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا وہ کپڑا کیا آڑ کرے گا، جس سے وہ پردہ کرتی تھیں، اس استدلال کا معنی یہ ہوا کہ اللہ کے ولی مٹی سے تو دیکھ سکتے ہیں، لیکن کپڑے سے نہیں دیکھ سکتے۔ سبحان اللہ!
یہ اس موضوع کی تفصیل کا مقام نہیں ہے۔ یہ سیدہ کا ایک طبعی معاملہ اور ان کے ذہن میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کامقام و مرتبہ تھا۔
ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چار پانچ من مٹی سے دیکھ سکتے تھے، تو ان کے سامنے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا وہ کپڑا کیا آڑ کرے گا، جس سے وہ پردہ کرتی تھیں، اس استدلال کا معنی یہ ہوا کہ اللہ کے ولی مٹی سے تو دیکھ سکتے ہیں، لیکن کپڑے سے نہیں دیکھ سکتے۔ سبحان اللہ!
یہ اس موضوع کی تفصیل کا مقام نہیں ہے۔ یہ سیدہ کا ایک طبعی معاملہ اور ان کے ذہن میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کامقام و مرتبہ تھا۔
حدیث نمبر: 12213
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّ أَمَةً سَوْدَاءَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رَجَعَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِيهِ فَقَالَتْ إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللَّهُ صَالِحًا أَنْ أَضْرِبَ عِنْدَكَ بِالدُّفِّ قَالَ ”إِنْ كُنْتِ فَعَلْتِ فَافْعَلِي وَإِنْ كُنْتِ لَمْ تَفْعَلِي فَلَا تَفْعَلِي“ فَضَرَبَتْ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ وَدَخَلَ غَيْرُهُ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ قَالَ فَجَعَلَتْ دُفَّهَا خَلْفَهَا وَهِيَ مُقَنَّعَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَفْرَقُ مِنْكَ يَا عُمَرُ أَنَا جَالِسٌ هَاهُنَا وَدَخَلَ هَؤُلَاءِ فَلَمَّا أَنْ دَخَلْتَ فَعَلَتْ مَا فَعَلَتْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی غزوہ سے واپس تشریف لائے تو ایک سیاہ فام لونڈی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا:میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو صحیح سالم واپس لائے تومیں آپ کے پاس دف بجاؤں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے یہ نذر مانی ہے تو اسے پورا کر لو اور اگر تم نے یہ منت نہیں مانی تھی تو اس کام کو رہنے دو۔ پس وہ دف بجانے لگ گئی، اسی دوران سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، وہ دف بجاتی رہی، کچھ دوسرے حضرات بھی آئے، وہ مسلسل دف بجاتی رہی۔ لیکن بعد میں جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو اس نے دف کو اپنے پیچھے کر لیا اور خود بھی چھپنے لگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر! بیشک تجھ سے تو شیطان بھی ڈرتا ہے، میں یہاں بیٹھا ہوں اور یہ لوگ بھی آئے ہیں، یہ لونڈی دف بجانے میں مگن رہی، لیکن جب تم آئے تو اس نے یہ کاروائی کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ اس موقع پر اس لونڈی کا دف بجانا جائز تھا، تبھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دی۔ یہ عمر رضی اللہ عنہ کا رعب اور ہیبت تھی، جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی لحاظ کرتے تھے۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث کی وجہ سے بعض لوگ اشکال میں پڑ گئے ہیں اور وہ یہ کہ نکاح اور عید کے علاوہ دف بجانا معصیت اور نافرمانی کا کام ہے اور نافرمانی پر مشتمل نذر ماننا بھی ناجائز ہے اور اس کو پورا کرنا بھی ناجائز ہے، لیکن اس موقع پر اجازت کیوں دی گئی؟
مجھے تویہ معلوم ہوتا ہے کہ اس عورت کی نذر کا تعلق اس خوشی سے تھا، جو غزوے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فاتح لوٹنے سے نصیب ہونی تھی، اس لیے اسے اس خوشی کے موقع پر دف بجانے کی اجازت دے دی گئی، لیکن یہ چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فتح کے ساتھ مخصوص رہنی چاہیے، اس گنجائش کا مطلب یہ نہیں کہ تمام خوشیوں کے موقعوں پر دف بجانے کی رخصت دے دی جائے، کیونکہ کوئی خوشی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فاتح لوٹنے کی خوشی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ دوسری بات یہ ہے عام شرعی دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیقی کے آلات اور دف وغیرہ کا استعمال حرام ہے، مگر وہ صورتیں جن میں دف کی اجازت دی گئی۔ (صحیحہ: ۱۶۰۹)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے دوسرے مقام پر فرمایا: یہ بات تو معروف ہے کہ دُفّ، موسیقی اور ساز کے ان آلات میں سے ہے، جو شریعت ِ اسلامیہ میں حرام ہیں اور فقہائے اربعہ سمیت بڑے بڑے ائمہ اس کی حرمت پر متفق ہیں، اس موضوع پر صحیح احادیث پائی جاتی ہیں، البتہ شادی بیاہ اور عیدین کے موقع پر صرف دُفّ بجانے کی اجازت دی گئی ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کو دف بجانے کی نذر پوری کرنے کی اجازت کیوں دی، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مانی گئی نذر پوری نہیں کی جاتی؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اس نذر کا تعلق اس خوشی سے تھا، جو اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فاتح اور سالم لوٹنے سے نصیب ہونی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو شادی اور عیدین کے موقع پر بجائے جانے والے دف کا حکم دیا، اور بلاشک و شبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غزوہ سے کامیابی و کامرانی کے ساتھ لوٹنے کی خوشی اتنی بڑی ہے کہ اس کو شادی اور عید کی خوشی پر بھی قیاس نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اس حکم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاص سمجھا جائے گا اور کسی دوسرے کے معاملے کو اس پر قیاس نہیں کیا جائے گا، کیونکہ یہ لوہاروں کو فرشتوں پر قیاس کرنے والی بات ہو گی۔
امام خطابی نے (معالم السنن) میں اور علامہ صدیق حسن خان نے (الروضۃ الندیۃ: ۲/۱۷۷۔ ۱۷۸) میں جمع و تطبیق کی یہی صورت ذکر کی ہے۔ (صحیحہ: ۲۲۶۱)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث کی وجہ سے بعض لوگ اشکال میں پڑ گئے ہیں اور وہ یہ کہ نکاح اور عید کے علاوہ دف بجانا معصیت اور نافرمانی کا کام ہے اور نافرمانی پر مشتمل نذر ماننا بھی ناجائز ہے اور اس کو پورا کرنا بھی ناجائز ہے، لیکن اس موقع پر اجازت کیوں دی گئی؟
مجھے تویہ معلوم ہوتا ہے کہ اس عورت کی نذر کا تعلق اس خوشی سے تھا، جو غزوے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فاتح لوٹنے سے نصیب ہونی تھی، اس لیے اسے اس خوشی کے موقع پر دف بجانے کی اجازت دے دی گئی، لیکن یہ چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فتح کے ساتھ مخصوص رہنی چاہیے، اس گنجائش کا مطلب یہ نہیں کہ تمام خوشیوں کے موقعوں پر دف بجانے کی رخصت دے دی جائے، کیونکہ کوئی خوشی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فاتح لوٹنے کی خوشی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ دوسری بات یہ ہے عام شرعی دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیقی کے آلات اور دف وغیرہ کا استعمال حرام ہے، مگر وہ صورتیں جن میں دف کی اجازت دی گئی۔ (صحیحہ: ۱۶۰۹)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے دوسرے مقام پر فرمایا: یہ بات تو معروف ہے کہ دُفّ، موسیقی اور ساز کے ان آلات میں سے ہے، جو شریعت ِ اسلامیہ میں حرام ہیں اور فقہائے اربعہ سمیت بڑے بڑے ائمہ اس کی حرمت پر متفق ہیں، اس موضوع پر صحیح احادیث پائی جاتی ہیں، البتہ شادی بیاہ اور عیدین کے موقع پر صرف دُفّ بجانے کی اجازت دی گئی ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کو دف بجانے کی نذر پوری کرنے کی اجازت کیوں دی، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مانی گئی نذر پوری نہیں کی جاتی؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اس نذر کا تعلق اس خوشی سے تھا، جو اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فاتح اور سالم لوٹنے سے نصیب ہونی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو شادی اور عیدین کے موقع پر بجائے جانے والے دف کا حکم دیا، اور بلاشک و شبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غزوہ سے کامیابی و کامرانی کے ساتھ لوٹنے کی خوشی اتنی بڑی ہے کہ اس کو شادی اور عید کی خوشی پر بھی قیاس نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اس حکم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاص سمجھا جائے گا اور کسی دوسرے کے معاملے کو اس پر قیاس نہیں کیا جائے گا، کیونکہ یہ لوہاروں کو فرشتوں پر قیاس کرنے والی بات ہو گی۔
امام خطابی نے (معالم السنن) میں اور علامہ صدیق حسن خان نے (الروضۃ الندیۃ: ۲/۱۷۷۔ ۱۷۸) میں جمع و تطبیق کی یہی صورت ذکر کی ہے۔ (صحیحہ: ۲۲۶۱)