کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل چہارم: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حق کی موافقات یا آپ کا الہام والے لوگوں میں سے ہونا
حدیث نمبر: 12205
عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”قَدْ كَانَ فِي الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ فَإِنْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِي فَعُمَرُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گزشتہ امتوں میں کچھ لوگ ایسے ہوتے تھے، جنہیں اللہ کی طرف سے الہام ہوتا تھا، اگر میری امت میں کوئی ایسا آدمی ہے تو وہ عمر رضی اللہ عنہ ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … الہام سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو حق کا الہام کرتا ہے اور پھر اس کے مطابق ان کو بات کرنے کی توفیق عطا کرتا ہے۔ یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا امتیازی وصف تھا، کئی بار ایسے ہوا کہ انھوں نے جو رائے دی، اللہ تعالیٰ قرآن نازل کر کے اس کے مطابق حکم دے دیا، اس کی چند مثالیں اگلی احادیث میں بیان ہوں گی۔
حدیث نمبر: 12206
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهُ قَدْ كَانَ فِيمَا مَضَى قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ نَاسٌ يُحَدَّثُونَ وَإِنَّهُ إِنْ كَانَ فِي أُمَّتِي هَذِهِ مِنْهُمْ أَحَدٌ فَإِنَّهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے پہلی امتوں میں کچھ لوگ ایسے ہوتے تھے کہ جنہیں اللہ کی طرف سے الہام ہوتا تھا، اگر میری امت میں کوئی ایسا آدمی ہواتو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوں گے۔
حدیث نمبر: 12207
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى قَلْبِ عُمَرَ وَلِسَانِهِ“ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مَا نَزَلَ بِالنَّاسِ أَمْرٌ قَطُّ فَقَالُوا فِيهِ وَقَالَ فِيهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَوْ قَالَ عُمَرُ إِلَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى نَحْوٍ مِمَّا قَالَ عُمَرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے عمر رضی اللہ عنہ کے دل و زبان پر حق جاری کر دیا ہے۔ جب لوگوں کو کوئی معاملہ پیش آتا اور مختلف افراد اپنی اپنی رائے دیتے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی رائے دیتے تو قرآن مجید سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کی موافقت میں نازل ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 12208
عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ وَافَقْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي ثَلَاثٍ أَوْ وَافَقَنِي رَبِّي فِي ثَلَاثٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اتَّخَذْتَ الْمَقَامَ مُصَلًّى قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} [البقرة: 125] وَقُلْتُ لَوْ حَجَبْتَ عَنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ فَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ قَالَ وَبَلَغَنِي عَنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ شَيْءٌ فَاسْتَقْرَأْتُهُنَّ أَقُولُ لَهُنَّ لَتَكُفُّنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ لَيُبْدِلَنَّهُ اللَّهُ بِكُنَّ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَتْ يَا عُمَرُ أَمَا فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا يَعِظُ نِسَاءَهُ حَتَّى تَعِظَهُنَّ فَكَفَفْتُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ} [التحريم: 5] الْآيَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تین باتوں میں اپنے رب کے فیصلہ کی موافقت کی ہے یا میرے ربّ نے تین باتوں میں میری موافقت کی ہے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لیں تو؟ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلًّی} … تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو۔ میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! آپ کی خدمت میں نیک اور فاجر ہر قسم کے لوگ آتے ہیں، اس لیے اگر آپ امہات المومنین کو پردہ کر ائیں تو بہتر ہو گا۔ اس کے بعد پردہ سے متعلقہ آیات نازل ہوگئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے امہات المومنین کے بارے میں کوئی خبر ملی، سو میں نے ایک ایک سے جاکر کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کے مطالبات کرنا چھوڑ دو، وگرنہ اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ تم سے بہتر مسلم خواتین کو لے آئے گا، ایک ام المومنین کی خدمت میں جب میں نے گزارش کی تو اس نے تو یہ کہہ دیا کہ عمر! اللہ کے رسول اپنی ازواج کو جو کچھ نصیحت فرماتے ہیں، کیا وہ کافی نہیں ہیں کہ تم بھی اس بارے میں انہیں وعظ کرنے لگے ہو؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: {عَسٰی رَبُّہٓ اِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبْدِلَہٓ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْکُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّاَبْکَارًا} … اس کارب قریب ہے، اگر وہ تمھیں طلاق دے دے کہ تمھارے بدلے اسے تم سے بہتر بیویاں دے دے، جو اسلام والیاں، ایمان والیاں، اطاعت کرنے والیاں، توبہ کرنے والیاں، عبادت کرنے والیاں، روزہ رکھنے والیاں ہوں، شوہر دیدہ اور کنواریاں ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے، جس پر ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کی تعمیر کرتے وقت کھڑے ہوتے تھے، اس پتھر پر ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشانات بھی موجود ہیں۔ یہ ابراہیم علیہ السلام کی حیران کن، عجیب اور یادگار منقبت ہے، اب اس پتھر کو ایک شیشے میں محفوظ کر دیا گیا ہے، طواف مکمل کرنے کے بعد اس طرح دو رکعت ادا کرنے کا حکم ہے کہ مقام ابراہیم، نمازی اور بیت اللہ کے درمیان آ جائے۔ باقی آیات کی وضاحت ان کے مقام پر آئے گی۔
حدیث نمبر: 12209
عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَضَلَ النَّاسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بِأَرْبَعٍ بِذِكْرِ الْأَسْرَى يَوْمَ بَدْرٍ أَمَرَ بِقَتْلِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [الأنفال: 68] وَبِذِكْرِهِ الْحِجَابَ أَمَرَ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْتَجِبْنَ فَقَالَتْ لَهُ زَيْنَبُ وَإِنَّكَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ فِي بُيُوتِنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ} [الأحزاب: 53] وَبِدَعْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُ ”اللَّهُمَّ أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ“ وَبِرَأْيِهِ فِي أَبِي بَكْرٍ كَانَ أَوَّلَ النَّاسِ بَايَعَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ چار امور میں لوگوں پر فضیلت لے گئے، انہو ں نے بدر کے قیدیوں کو قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی : (لَوْلَا کِتَابٌ مِنَ اللہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ) ..... اگر اللہ کا فیصلہ نہ ہوتا تو تم نے جو کچھ ان قیدیوں سے بطور فدیہ لیا ، اس کے سبب تم پر بہت سخت عذاب آتا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ازواج مطہرات کے بارے میں کہا کہ انہیں پردہ کرنا چاہیے ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا : اے ابن خطاب ! تم تو ہم پر مسلط ہو گئے ہو ، حالانکہ وحی تو ہمارے گھروں میں نازل ہوتی ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت میں پردے سے متعلقہ یہ آیت نازل فرما دی : (وَإِذَا سَأَلْتُمُوھُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوھُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابِ) ..... اور اے ایمان والو ! تم جب ان امہات المومنین سے کوئی چیز مانگو تو پردے کی اوٹ میں مانگا کرو ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دوسرے لوگوں پر اس لحاظ سے بھی فضیلت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں یہ دعا کی تھی : اے اللہ ! عمر کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما ۔ نیز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنائے جانے کی رائے دی تھی اور انہوں نے ہی سب سے پہلے ان کی بیعت کی تھی ۔
وضاحت:
فوائد: … اس آیت سے پہلے والی آیت یہ تھی: {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔} … کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے۔ تم لوگ دنیا کے فائدے چاہتے ہو، حالانکہ اللہ کے پیشِ نظر آخرت ہے، اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔ (سورۂ انفال: ۶۷) جنگ بدر میں ستر کافر مارے گئے اور ستر ہی قیدی بنا لیے گئے، غزوۂ بدر چونکہ کفر و اسلام کا پہلا معرکہ تھا، اس لیے قیدیوں کے بارے میں میں کیاطرز عمل اختیار کیا جائے؟ ان کی بابت احکام پوری طرح واضح نہیں تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشورہ کیا تو جواز کی حد تک تو دونوں صورتیں جائز تھیں کہ قیدیوں کو قتل کر دیا جائے یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے، عمر رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ کفر کی قوت و شوکت توڑنے کے لیے ضروری ہے کہ ان قیدیوں کو قتل کر دیا جائے، کیونکہ یہ کفر اور کافروں کے سرغنے ہیں، جبکہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ فدیہ لے کر ان کو چھوڑ دیا جائے، مزید وضاحت اگلی حدیث میں آ رہی ہے۔
اس فیصلے کے بعد جو آیات نازل ہوئیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے زیادہ بہتر تھی، یعنی بدر کے قیدیوں کو قتل کر دینا چاہیے تھا۔ مزید دیکھیں حدیث نمبر (۸۶۱۲) اور اس کے بعد والی حدیث۔
اس فیصلے کے بعد جو آیات نازل ہوئیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے زیادہ بہتر تھی، یعنی بدر کے قیدیوں کو قتل کر دینا چاہیے تھا۔ مزید دیکھیں حدیث نمبر (۸۶۱۲) اور اس کے بعد والی حدیث۔