کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فصل سوم: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے علم کی وسعت، قوتِ دین، ان کی نیکی اورزہد کا بیان
حدیث نمبر: 12198
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْهُ ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ“ قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”الْعِلْمُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، میں نے اس میں سے نوش کیا اور پھر بچا ہوا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علم۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12198
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 7032، ومسلم: 2381، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5868 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5868»
حدیث نمبر: 12199
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ أَنِّي أَنْزِعُ عَلَى حَوْضِي أَسْقِي النَّاسَ فَأَتَانِي أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ الدَّلْوَ مِنْ يَدِي لِيُرَفِّهَ حَتَّى نَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ قَالَ فَأَتَانِي ابْنُ الْخَطَّابِ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ فَأَخَذَهَا مِنِّي فَلَمْ يَنْزِعْ رَجُلٌ حَتَّى تَوَلَّى النَّاسُ وَالْحَوْضُ يَتَفَجَّرُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا، میں نے دیکھا کہ میں اپنے حوض پر کھڑا پانی کھینچ کھینچ کر لوگوں کو پلا رہا ہوں، اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے، انہوں نے مجھے راحت دلانے کے لیے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا، انہو ں نے ایک دو ڈول کھینچے، ان کے اس عمل میں کچھ کمزوری تھی، اس کے بعدابن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ڈول لے لیا، اللہ ان کی مغفرت فرمائے،وہ تو مسلسل کھینچتے رہے، یہاں تک کہ سب لوگ سیراب ہو کر واپس چلے گئے، اور حوض جو ش مارہا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس خواب کی تعبیر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بالترتیب خلافت ہے۔ اول الذکر کی کمزوری اور ایک دو ڈول سے مراد یہ ہے کہ وہ زیادہ دیر تک مسلمانوں کی خدمت نہ کر سکیں گے، انکارو ارتداد اور اختلاف و اضطراب جیسے مسائل کھڑے ہو جائیں گے اور جلدی فوت ہو جائیں گے۔ یہ ساری کم و کاست سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوری کر دی، ان کا دورِ خلافت تعظیمِ دین اور اعلائے کلمۃ اللہ کا زمانہ تھا اور شرق و غرب میں پرچم توحید لہرانے لگا۔
غَرْبًا اس بڑے ڈول کو کہتے ہیں جو بھینس یا بیل کی کھال سے بنایا جاتا ہے، اس سے کھیتوں یا باغوں کی آبیاری کرتے ہیں۔
حدیث کے آخری جملے کا معنی یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اسلام پھیلے گا اور فتوحات اتنی بے شمار ہوں گی کہ لوگ مال و دولت سے سیراب ہو جائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12199
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 4664، 7021، 7475، ومسلم: 2392، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8239 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8222»
حدیث نمبر: 12200
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي أَنْزِعُ أَرْضًا وَرَدَتْ عَلَيَّ غَنَمٌ سُودٌ وَغَنَمٌ عُفْرٌ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِيهِمَا ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَنَزَعَ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَمَلَأَ الْحَوْضَ وَأَرْوَى الْوَارِدَةَ فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا أَحْسَنَ نَزْعًا مِنْ عُمَرَ فَأَوَّلْتُ أَنَّ السُّودَ الْعَرَبُ وَأَنَّ الْعُفْرَ الْعَجَمُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جیسے سونے والا خواب دیکھتا ہے، اسی طرح میں نے دیکھا کہ گویا میں پانی کے ڈول کھینچ کھینچ کر زمین کو سیراب کر رہا ہوں، میرے پاس کچھ سیاہ اور کچھ مٹیالے رنگ کی بکریاں آئیں، اتنے میں ابو بکر رضی اللہ عنہ آگئے، انہوں نے ایک دو ڈول تو کھینچے، لیکن اس کے کھینچنے میں کمزوری تھی، اللہ انہیں معاف کرے، اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ آگئے اور انہوں نے ڈول کھینچنا شروع کیے، وہ ڈول بہت بڑا ڈول بن گیا، انہوں نے پانی کھینچ کھینچ کر حوض کو بھر دیا اور آنے والوں کو خوب سیر کردیا، میں نے کسی جوان کو عمر رضی اللہ عنہ سے بہتر انداز میں ڈول کھینچتے ہوئے نہیں دیکھا، پھر میں نے اس خواب کی تعبیر یوں کی کہ سیاہ بکریوں سے عرب لوگ اور مٹیالے رنگ والی بکریوں سے مراد عجمی لوگ ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12200
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه ابويعلي: 904 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23801 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24211»
حدیث نمبر: 12201
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْيَ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ وَمَرَّ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ“ قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”الدِّينُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں لوگوں کو دیکھا، وہ میرے سامنے آرہے تھے، انہوں نے قمیصیں پہن رکھی ہیں، کسی کی قمیص اس کی چھاتی تک ہے اور کسی کی اس سے نیچے تک، جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے سامنے سے گزرے تو وہ قمیص (لمبی ہونے کی وجہ سے) زمین پر گھسیٹ رہے تھے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین۔
وضاحت:
فوائد: … سیدناعمر رضی اللہ عنہ نبوی شہادت کے مطابق دین اسلام سے مکمل طور پر مزین تھے۔ مفہوم یہ ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دورانیہ طویل ہو گا، اس میں دین کو سربلندی نصیب ہو گی، ان کی حیات میں اور موت کے بعد ان کی فتوحات کے آثار باقی رہیں گے۔ قمیض کے گھسٹنے کا معنی یہ ہوا کہ ان کی وفات کے بعد ان کے آثارِ جمیلہ اور سننِ حسنہ مسلمانوں میں باقی رہیں گی۔ (تلخیص از مرقاۃ المفاتیح:۱۰/ ۳۹۳)
جبکہ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا:قمیض کی دین کی صورت میں تعبیر کرنے کی توجیہ یہ ہے کہ قمیض دنیا میں پردے کا سبب بنتی ہے اور دین آخرت میں پردے کا سبب بنے گا اور بندے کو ہر قسم کی مکروہ چیز سے بچائے گا، اس میں اصل تو اللہ تعالیٰ کایہ فرمان ہے: {وَلِبَاسُ التَّقْوٰی ذَالِکَ خَیْرٌ} اور تقویٰ کا لباس، وہ سب سے بہتر ہے۔ (سورۂ اعراف: ۲۶) عرب لوگ فضل اور پاکدامنی کو قمیض سے تعبیر کرتے ہیں، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: ((اِنَّ اللّٰہَ سَیُلْبِسُکَ قَمِیصًا فَلَا تَخْلَعْہُ۔)) بیشک اللہ تعالیٰ عنقریب تجھے ایک قمیض پہنائے گا، پس تو نے اس کو اتارنا نہیں۔ (مسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ) (اس قمیض سے مراد خلافت ہے)۔ (فتح الباری: ۱۲/ ۳۹۶) جبکہ ابن عربی نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خواب میں نظر آنے والی قمیض کی تعبیر دین کی صورت میںکی، کیونکہ کپڑا بدن کی شرم والے مقامات کو چھپاتا ہے اور دین جہالت کے عیب کو چھپاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12201
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 7008، ومسلم: 2390 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11814 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11836»
حدیث نمبر: 12202
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْيَ وَفِيهَا مَا يَبْلُغُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ“ قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”الدِّينُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سہل بن حنیف کسی صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا، وہ مجھ پر پیش کیے جانے لگے، جبکہ انھوں نے قمیضیں پہنی ہوئی تھیں، کسی کی قمیض چھاتی تک پہنچ رہی تھی اور کسی کی اس سے نیچے تک، اتنے میں عمر کو مجھ پر پیش کیا گیا، (ان کی قمیض تو اس قدر لمبی تھی) کہ وہ اسی کو گھسیٹ رہے تھے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی کیا تعبیر کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12202
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه الترمذي: 2285 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23172 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23559»
حدیث نمبر: 12203
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ ذَاتَ يَوْمٍ ”مَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ جَنَازَةً“ قَالَ عُمَرُ أَنَا قَالَ ”مَنْ عَادَ مِنْكُمْ مَرِيضًا“ قَالَ عُمَرُ أَنَا قَالَ ”مَنْ تَصَدَّقَ“ قَالَ عُمَرُ أَنَا قَالَ ”مَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا“ قَالَ عُمَرُ أَنَا قَالَ ”وَجَبَتْ وَجَبَتْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ سے فرمایا: تم میں سے کس نے آج کسی جنازہ میں شرکت کی ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کس نے آج کسی بیمارکی تیمارداری کی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج کسی نے روزہ رکھا ہوا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں نے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت واجب ہوگئی ہے، واقعی واجب ہوگئی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کی صحیح صورت درج ذیل ہے: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ أَصْبَحَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ صَائِمًا؟)) قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَنَا، قَالَ: ((فَمَنْ تَبِعَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ جَنَازَۃً۔)) قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَنَا، قَالَ: ((فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ مِسْکِینًا؟)) قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَنَا، قَالَ: ((فَمَنْ عَادَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ مَرِیضًا؟)) قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَا اجْتَمَعْنَ فِی امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آج کس نے روزہ رکھا ہوا ہے؟ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج کون میت کے پیچھے چلا (اور اس کی
نمازِ جنازہ ادا کی)؟ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا:جی میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج کس نے مسکین کو کھانا کھلایا؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج کس نے مریض کی عیادت کی؟ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں نے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ امور جس آدمی میں جمع ہوں گے، وہ جنت میں جائے گا۔ (صحیح مسلم: ۱۷۰۷)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12203
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف سلمة بن وردان، اخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 235، والبزار: 1043، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12181 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12205»
حدیث نمبر: 12204
عَنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعِنْدَهُ نَفَرٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى سَفَطٍ أُتِيَ بِهِ مِنْ قَلْعَةٍ مِنَ الْعِرَاقِ فَكَانَ فِيهِ خَاتَمٌ فَأَخَذَهُ بَعْضُ بَنِيهِ فَأَدْخَلَهُ فِي فِيهِ فَانْتَزَعَهُ عُمَرُ مِنْهُ ثُمَّ بَكَى عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ مَنْ عِنْدَهُ لِمَ تَبْكِي وَقَدْ فَتَحَ اللَّهُ لَكَ وَأَظْهَرَكَ عَلَى عَدُوِّكَ وَأَقَرَّ عَيْنَكَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا تُفْتَحُ الدُّنْيَا عَلَى أَحَدٍ إِلَّا أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“ وَأَنَا أُشْفِقُ مِنْ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوسنان دؤلی سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے، جبکہ ان کے پاس اولین مہاجرین کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی، انہو ں نے پیغام بھیج کر خوشبو کی ڈبیہ منگوائی، جو عراق کے ایک قلعہ سے منگوائی گئی تھی، اس میں ایک انگوٹھی تھی، ان کے ایک بیٹے نے اسے لا کر اپنے منہ میں ڈال لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے منہ سے نکلو ادی، اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے، وہاں پر موجود لوگوں میں سے کسی نے ان سے کہا: آپ کیوں روتے ہیں، جبکہ اللہ نے آپ کو فتح سے نوازا اور آپ کو دشمن پر غلبہ دے کر آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا ہے؟ سیدنا عمر نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اللہ جس بندے پر دنیا فراخ کر دیتا ہے تو وہ ان لوگوں کے درمیان قیامت تک کے لیے عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے۔ اور مجھے اس بات کا اندیشہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12204
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة ومحمد بن عبد الرحمن بن لبيبة، اخرجه البزار: 311 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 93 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 93»