کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت میں سیدناعمر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے جو کچھ دیکھا، اس کا اور ان کی غیرت کا بیان
حدیث نمبر: 12191
عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ قُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ قَالُوا لِشَابٍّ مِنْ قُرَيْشٍ فَظَنَنْتُ أَنِّي أَنَا هُوَ قَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا اور میں نے وہاں سونے سے بنا ہوا ایک محل دیکھا، میں نے دریافت کیا کہ یہ محل کس کا ہے، انہو ں نے کہا یہ ایک قریشی نوجوان کا ہے، میں نے سمجھا کہ شاید اس سے مراد میں ہوں، انہو ں نے بتلایا کہ یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہے۔
حدیث نمبر: 12192
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ وَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ لِي قَالَ قَالَ لِعُمَرَ قَالَ ثُمَّ سِرْتُ سَاعَةً فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ خَيْرٍ مِنَ الْقَصْرِ الْأَوَّلِ قَالَ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ وَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ لِي قَالَ قَالَ لِعُمَرَ وَإِنَّ فِيهِ لَمِنَ الْحُورِ الْعِينِ يَا أَبَا حَفْصٍ وَمَا مَنَعَنِي أَنْ أَدْخُلَهُ إِلَّا غَيْرَتُكَ“ قَالَ فَاغْرَوْرَقَتْ عَيْنَا عُمَرَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا عَلَيْكَ فَلَمْ أَكُنْ لِأَغَارَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں چلا جارہا تھا کہ مجھے ایک محل دکھائی دیا، میں نے کہا اے جبریل! یہ کس کا ہے؟ جبکہ مجھے امید تھی کہ یہ میرا ہوگا، انھوں نے کہا: یہ عمر کا ہے، پھر میں مزید کچھ دیر چلا تو پہلے سے زیادہ خوبصورت محل نظر آیا، میں نے کہا: جبریل! یہ کس کا ہے؟ جبکہ مجھے توقع تھی کہ وہ میرا ہوگا، انہو ں نے بتلایا کہ یہ عمر رضی اللہ عنہ کا ہے اور اس میں فراخ چشم حوریں بھی ہیں، اے عمر! اگر تمہاری غیرت مانع نہ ہوتی تو میں اس کے اندر چلا جاتا۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور انہو ں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ پر تو غیرت نہیں کھا سکتا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ کی غیرت، شدت اور حدّت کا خیال رکھا، جب کہ ان کے جواب کا یہ مقصد تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آپ کی وجہ سے رفعت عطا کی ہے اور آپ کے ذریعے ہدایت سے نوازا ہے، بھلا وہ آپ پر کیسے غیرت کر سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 12193
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِلَالًا فَقَالَ ”يَا بِلَالُ بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَطُّ إِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي إِنِّي دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ فَأَتَيْتُ عَلَى قَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ مُرْتَفِعٍ مُشْرِفٍ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ قَالُوا لِرَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ قُلْتُ أَنَا عَرَبِيٌّ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ قَالُوا لِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ قُلْتُ فَأَنَا مُحَمَّدٌ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ قَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ“ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْلَا غَيْرَتُكَ يَا عُمَرُ لَدَخَلْتُ الْقَصْرَ“ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كُنْتُ لِأَغَارَ عَلَيْكَ قَالَ وَقَالَ لِبِلَالٍ ”بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ“ قَالَ مَا أَحْدَثْتُ إِلَّا تَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بِهَذَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کے وقت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بلاایا اور ان سے فرمایا: اے بلال! تم کس عمل کی بنا پر جنت میں مجھ سے سبقت لے جا رہے تھے؟ میں جب بھی جنت میں گیا، وہاں میں نے تمہارے پاؤں کی آہٹ اپنے سامنے سنی ہے۔ گزشتہ رات میں جنت میں گیا تو میں نے تمہاری وہی آواز سنی، پھر میں سونے سے بنے ہوئے ایک بلند وبالا محل کے پاس پہنچا۔ میں نے دریافت کیاکہ یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ ایک عربی شخص کا ہے، میں نے کہا: عربی تو میں بھی ہوں، یہ محل ہے کس کا؟ انہو ں نے بتلایا کہ یہ امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے ایک آدمی کا ہے، میں نے کہا: میں ہی محمد ہوں، مجھے بتلاؤ کہ یہ محل کس کا ہے؟ انہو ں نے کہا: یہ عمر بن خطاب کا ہے۔ بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! اگر تمہاری غیرت کالحاظ نہ ہوتا تو میں محل کے اندر چلا جاتا۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ پر غیرت نہیں کر سکتا۔ سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم کس عمل کی بنا پر جنت میں مجھ سے سبقت لیے جا رہے تھے؟ انہوں نے کہا: میں جب بھی بے وضو ہوتا ہوں تو وضو کرتا ہوں اور دو رکعت (تحیۃ الوضو پڑھتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی عمل کی وجہ سے ہے۔
حدیث نمبر: 12194
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”رَأَيْتُنِي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِالرُّمَيْصَاءِ امْرَأَةِ أَبِي طَلْحَةَ“ قَالَ ”وَسَمِعْتُ خَشْفًا أَمَامِي فَقُلْتُ مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا بِلَالٌ قَالَ وَرَأَيْتُ قَصْرًا أَبْيَضَ بِفِنَائِهِ جَارِيَةٌ قَالَ قُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ فَأَنْظُرَ إِلَيْهِ قَالَ فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ“ فَقَالَ عُمَرُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَعَلَيْكَ أَغَارُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت کے اندر گیا ہوں اور وہاں میں نے اپنے سامنے ابو طلحہ کی اہلیہ رمیصاء کو دیکھا ، پھر میں نے اپنے سامنے ایک آہٹ سنی اور کہا : اے جبریل ! یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ بلال ہیں ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اور میں نے ایک سفید محل دیکھا ، جس کے صحن میں ایک نوجوان لڑکی موجود تھی ۔ میں نے جبریل سے پوچھا : یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہے ، میں نے اس کے اندر جا کر اسے دیکھنے کا ارادہ تو کیا ، لیکن مجھے عمر تمہاری غیرت کا خیال آ گیا ۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، کیا میں آپ پر غیرت کھا سکتا ہوں ؟
حدیث نمبر: 12195
عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا امْرَأَةٌ تَتَوَضَّأُ إِلَى جَنْبِ قَصْرٍ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ قَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا“ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ يَقُولُ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عِنْدَهُ مَعَ الْقَوْمِ فَبَكَى عُمَرُ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعَلَيْكَ بِأَبِي أَنْتَ أَغَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا، میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت میں ہوں، ایک خاتون ایک محل کے پاس وضو کر رہی تھی، میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہے۔ عمر! (میں نے اس کے اندر جانا چاہا لیکن) مجھے تمہاری غیرت یاد آ گئی، پس میں واپس پلٹ آیا۔ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات ارشاد فرما رہے تھے تو اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی لوگوں کے ساتھ آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہو ں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات سنی تو رونے لگ گئے اور کہا: اللہ کے رسول! میرا والد آپ پر قربان جائے، کیا میں آپ پر غیرت کھا سکتا ہوں؟
وضاحت:
فوائد: … کوئی شک نہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غیرت و حمیت سے بدرجۂ اتم متصف تھے، لیکن جہاں تک مسئلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تھا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکمل تابع فرمان تھے، پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و منزلت اور پاس و لحاظ تھا اور پھر ذاتی غیرت کا مسئلہ تھا۔
حدیث نمبر: 12196
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنْ كَانَ عُمَرُ لَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَا رَأَى فِي يَقَظَتِهِ أَوْ نَوْمِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَإِنَّهُ قَالَ ”بَيْنَمَا أَنَا فِي الْجَنَّةِ إِذْ رَأَيْتُ فِيهَا دَارًا فَقُلْتُ لِمَنْ هَذِهِ فَقِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یقینا جنتی ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیداری کی حالت میں یا خواب کی حالت میں میں جو کچھ دیکھا، وہ برحق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں تھا، میں نے ایک محل دیکھا اور پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے، بتلایا گیا کہ یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہے۔
حدیث نمبر: 12197
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ مُعَاذًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَاللَّهِ إِنَّ عُمَرَ فِي الْجَنَّةِ وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ وَأَنَّكُمْ تَفَرَّقْتُمْ قَبْلَ أَنْ أُخْبِرَكُمْ لِمَ قُلْتُ ذَاكَ ثُمَّ حَدَّثَهُمُ الرُّؤْيَا الَّتِي رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي شَأْنِ عُمَرَ قَالَ وَرُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! عمر رضی اللہ عنہ جنتی ہیں، مجھے یہ بات پسند نہیں کہ مجھے انتہائی قیمتی سرخ اونٹ مل جائیں اور تم اٹھ کر چلے جاؤ قبل اس کے کہ میں تمہیں پوری بات بتلاؤں کہ میں نے یہ بات کیوں کہی ہے، ا س کے بعد انہو ں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خواب بیان کیا اور پھر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خواب حق ہے۔