کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فصل: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعض فضائل اور ان کا اپنے اسلاف کی اقتداء کرنا
حدیث نمبر: 12187
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَكَانَ أَحَبَّهُمَا إِلَى اللَّهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! ابو جہل اور عمر بن خطاب میں سے جو آدمی تجھے زیادہ محبوب ہے، اس کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ کو ان میں زیادہ محبوب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ نے اس دعائے نبوی کی قدر کی اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ذریعے اسلام کو اقتدار عطا کیا۔ یہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی عظمت اور حق گوئی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ان کو غلبۂ اسلام کے لیے مانگا گیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12187
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، اخرجه الترمذي: 3681 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5696»
حدیث نمبر: 12188
وَعَنْ أَبِي نَوْفَلٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ إِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّ هَلًا بِعُمَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو نوفل سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب صالحین کا تذکرہ کیا جائے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی یاد کیے جانے کے اہل ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … بلکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تو صالحین کے سرخیل ہیں
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12188
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25152 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25667»
حدیث نمبر: 12189
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّهُ مَرَّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ نِعْمَ الْفَتَى غُضَيْفٌ فَلَقِيَهُ أَبُو ذَرٍّ فَقَالَ أَيْ أُخَيَّ اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لِي فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ نِعْمَ الْفَتَى غُضَيْفٌ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ضَرَبَ بِالْحَقِّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ“ قَالَ عَفَّانُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ يَقُولُ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
غضیف بن حارث سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے قریب سے گزرے، انہو ں نے کہا، غضیف! اچھا آدمی ہے، پھر غصیف کی سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرے بھائی! آپ میرے لیے مغفرت کی دعا کریں۔ غضیف نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں، آپ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ آپ میرے حق میں دعا کریں، انھوں نے کہا: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سنا ہے وہ کہہ رہے تھے کہ غضیف اچھا آدمی ہے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے عمر رضی اللہ عنہ کی دل و زبان پر حق کو جاری کر دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبان کے لیے حق کو لازم قرار دیا ہے، ان کی زبان حق سے باطل کی طرف تجاوز نہیںکر سکتی۔ سبحان اللہ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جس آدمی کو اچھا کہہ دیتے، لوگ اسے اچھا سمجھنا شروع کر دیتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12189
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه ابوداود: 2962، وابن ماجه: 108، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21295 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21620»
حدیث نمبر: 12190
عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فَقَالَ جَلَسَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَجْلِسَكَ هَذَا فَقَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَدَعَ فِيهَا صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ قُلْتُ مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ قَالَ لِمَ قُلْتُ لَمْ يَفْعَلْهُ صَاحِبَاكَ قَالَ هُمَا الْمَرْآنِ يُقْتَدَى بِهِمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو وائل سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : میں مسجد نبوی میں شیبہ بن عثمان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسی طرح میرے قریب آ کر بیٹھ گئے جیسے تم بیٹھے ہو ، انہوں نے کہا : میں چاہتا ہوں کہ کعبہ کے اندر جس قدر سونا اور چاندی ہے ، اسے مسلمانوں میں تقسیم کر دوں ، میں نے کہا : آپ یہ کام نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا : کیوں ؟ میں نے کہا : یہ کام تو آپ سے پہلے آپ کے دونوں ساتھیوں نے نہیں کیا ، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ دونوں ایسی شخصیات ہیں کہ جن کی اقتدا کی جانی چاہیے ۔
وضاحت:
فوائد: … ویسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش یہ تھی کہ کعبہ کے خزانوں کو راہِ خدا میں خرچ کر دیا جائے، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِیثُو عَہْدٍ بِجَاہِلِیَّۃٍ أَوْ قَالَ بِکُفْرٍ لَأَنْفَقْتُ کَنْزَ الْکَعْبَۃِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ وَلَجَعَلْتُ بَابَہَا بِالْأَرْضِ وَلَأَدْخَلْتُ فِیہَا مِنْ الْحِجْرِ۔)) اگر تیری قوم کا جاہلیت یا کفر کا زمانہ نیا نیا نہ ہوتا تو میں کعبہ کا خزانہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں کر دیتا اور اس کا دروازہ زمین کے ساتھ لگا دیتا اور حطیم کو اس میں داخل کر دیتا۔ (صحیح مسلم: ۲۳۶۹)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12190
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1594 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15382 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15457»