کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: خلیفۂ دوم امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ متعلق ابواب باب اول: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت کا تقرر
حدیث نمبر: 12185
عَنْ قَيْسٍ قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَبِيَدِهِ عَسِيبُ نَخْلٍ وَهُوَ يُجْلِسُ النَّاسَ يَقُولُ اسْمَعُوا لِقَوْلِ خَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ مَوْلًى لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُقَالُ لَهُ شَدِيدٌ بِصَحِيفَةٍ فَقَرَأَهَا عَلَى النَّاسِ فَقَالَ يَقُولُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا لِمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ فَوَاللَّهِ مَا أَلَوْتُكُمْ قَالَ قَيْسٌ فَرَأَيْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
قیس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان کے ہاتھ میں کھجور کی ایک شاخ تھی، وہ لوگو ں کو بٹھا رہے تھے اور کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ کی بات سنو، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا ایک خادم، جس کا نام شدید تھا، وہ ایک تحریر لے کر آیا اور اس نے وہ تحریر لوگوں کے سامنے پڑھی۔ اس نے کہا:سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس تحریر میں جو کچھ ہے، اسے سنو اور تسلیم کرو۔ اللہ کی قسم! میں نے تمہارے حق میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے۔قیس کہتے ہیں: اس کے بعد میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر دیکھا۔
وضاحت:
فوائد: … جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو آپ کے حکم سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ امامت کے فرائض سر انجام دیتے رہے، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی میں ہی جلیل القدر صحابہ سے مشورہ کیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا خلیفہ منتخب کر دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12185
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 573 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 259»