کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب ششم: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیماری، مرض الموت اور وفات کا بیان
حدیث نمبر: 12182
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا تَمَثَّلَتْ بِهَذَا الْبَيْتِ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقْضِي وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ رَبِيعُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَاكَ وَاللَّهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فوت ہو رہے تھے تو انہوں نے یہ شعر پڑھا۔ وَاَبْیَضَ یُسْتَسْقٰی الْغَمَامُ بِوَجْھِہٖ
رَبِیْعُ الْیَتَامٰی عِصْمَۃٌ لِلْاَ رَامِلٖ
اور سفید فام، جس کے چہرے کے ذریعے بارش طلب کی جاتی ہے، وہ یتیموں کا مربی اور بیواؤں کا محافظ ہے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر کہا: اللہ کی قسم! یہ ہستی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … عبد اللہ بن دینار سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو سنا کہ وہ ابو طالب کے یہ شعر پڑھا کرتے تھے: وَاَبْیَضَ یُسْتَسْقٰی اَلْغَمَامُ بِوَجْھِہٖ
ثِمَالُ الْیَتَامٰی عِصْمَۃٌ لِلْاَ رَامِلٖ
پھر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں شاعر کے اس شعر کو ذہن میںلاتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کی طرف دیکھتا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش کے لیے دعا کر رہے ہوتے تھے، پس ابھی تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے نہ اتر پاتے کہ ہر پرنالہ زور سے بہنا شروع کر دیتا۔ (صحیح بخاری: ۱۰۰۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12182
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، اخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 714 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26»
حدیث نمبر: 12183
عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا قُلْنَا يَوْمُ الِاثْنَيْنِ قَالَ فَأَيُّ يَوْمٍ قُبِضَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْنَا قُبِضَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ قَالَ فَإِنِّي أَرْجُو مَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ قَالَتْ وَكَانَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ فِيهِ رَدْعٌ مِنْ مِشْقٍ فَقَالَ إِذَا أَنَا مِتُّ فَاغْسِلُوا ثَوْبِي هَذَا وَضُمُّوا إِلَيْهِ ثَوْبَيْنِ جَدِيدَيْنِ فَكَفِّنُونِي فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ فَقُلْنَا أَفَلَا نَجْعَلُهَا جُدُدًا كُلَّهَا قَالَ فَقَالَ لَا إِنَّمَا هُوَ لِلْمُهْلَةِ قَالَتْ فَمَاتَ لَيْلَةَ الثُّلَاثَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب ابو بکر رضی اللہ عنہ شدید بیمار ہو گئے تو پوچھا کہ آج کو نسا دن ہے؟ ہم نے کہا: جی آج سوموار ہے، انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس دن فوت ہوئے تھے؟ ہم نے کہا: سوموار کے دن، انہوں نے کہا: مجھے لگتا ہے کہ میں آج رات تک فوت ہو جاؤں گا،انہوں نے ایک کپڑا زیب تن کیا ہوا تھا، اس پر گیرو کا نشان لگا ہوا تھا، انھوں نے کہا: جب میں فوت ہوجاؤں تو میرے اسی کپڑے کو دھولینا اور اس کے ساتھ دو نئے کپڑے ملالینا اورمجھے تین کپڑوں میں کفن دے دینا۔ ہم نے کہا: کیا ہم سارے کپڑے نئے نہ بنا دیں؟ انھوں نے کہا: نہیں، یہ (میت کی) پیپ کے لیے ہیں، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ منگل کی رات کو وفات پا گئے۔
وضاحت:
فوائد: … غور کریں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو جن تین کپڑوں میں کفن دیا گیا، ان میں سے ایک کپڑا وہی تھا، جو وہ پہلے سے پہنا کرتے تھے، اس کو دھو کر کفن میں شامل کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12183
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1387 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24186 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24690»
حدیث نمبر: 12184
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَالَ لَهَا فِي أَيِّ يَوْمٍ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ فِي يَوْمِ الِاثْنَيْنِ فَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ إِنِّي لَا أَرْجُو فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ قَالَ فَفِيمَ كَفَّنْتُمُوهُ قَالَتْ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ يَمَانِيَّةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ انْظُرِي ثَوْبِي هَذَا فِيهِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ أَوْ مِشْقٍ فَاغْسِلِيهِ وَاجْعَلِي مَعَهُ ثَوْبَيْنِ آخَرَيْنِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا أَبَتِ هُوَ خَلَقٌ قَالَ إِنَّ الْحَيَّ أَحَقُّ بِالْجَدِيدِ وَإِنَّمَا هُوَ لِلْمُهْلَةِ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَعْطَاهُمْ حُلَّةً حِبَرَةً فَأُدْرِجَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَخْرَجُوهُ مِنْهَا فَكُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ قَالَ فَأَخَذَ عَبْدُ اللَّهِ الْحُلَّةَ فَقَالَ لَأُكَفِّنَنَّ نَفْسِي فِي شَيْءٍ مَسَّ جِلْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ وَاللَّهِ لَا أُكَفِّنُ نَفْسِي فِي شَيْءٍ مَنَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكَفَّنَ فِيهِ فَمَاتَ لَيْلَةَ الثُّلَاثَاءِ وَدُفِنَ لَيْلًا وَمَاتَتْ عَائِشَةُ فَدَفَنَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ لَيْلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال کس روز کو ہواتھا؟ انہوں نے کہا: سوموار کو۔انہوں نے کہا: ماء شا اللہ، مجھے لگتا ہے کہ میں آج رات فوت ہوجاؤں گا، انھوں نے پوچھا: تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کس قسم کے کپڑوں میں کفن دیا تھا؟ انہوں نے بتلایا کہ یمن کی سحول بستی کے بنے ہوئے تین سفید کپڑوں میں، ان میں قمیض تھی نہ پگڑی، انھوں نے کہا: میرے اس کپڑے کو زعفران کا داغ لگا ہوا ہے، اسے دھولینا اور اس کے ساتھ دو اور کپڑے ملا لینا، سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا:ابا جان! یہ تو پرانا ہے، انہو ں نے کہا: زندہ آدمی نئے کپڑے کا زیادہ مستحق ہوتا ہے، کفن کا کپڑا تو پیپ (گلے سڑے جسم) کے لیے ہوتا ہے، سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک دھاری دار چادر دی تھی، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی لپیٹا گیا تھا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ا س سے باہر نکال کر تین سفید کپڑوں میں کفن دیاگیا، بعد میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وہ چادر خود رکھ لی تھی اور کہا: میں اپنا کفن اس کپڑے سے تیار کراؤں گا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسد اطہر کو مس کر چکا ہو، پھر بعدمیں انہوں نے کہا: اللہ کی قسم!میں خود کو ایسے کپڑے میں دفن نہیں کراؤں گا جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو دفن نہیں ہونے دیا۔ پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ منگل کی رات کو انتقال کر گئے اور انہیں رات ہی کو دفن کر دیا گیا اور جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تھا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی رات کو دفن کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دو سال، تین ماہ، دس دن خلافت کی اورمنگل کی رات کو تریسٹھ برس کی عمر میں اواخر ِ جمادی الاوّلیٰ سنہ ۱۳ ہجری کو راہ گزین عالم جاوداں ہوئے، وصیت کے مطابق رات ہی کو تجہیز و تکفین کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجۂ محترمہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے غسل دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور سیدنا عثمان، سیدنا طلحہ، سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر اور سیدنا عمر نے قبر میں اتارا اور اس طرح سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رفیق زندگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں مدفون ہو کر دائمی رفاقت کے لیے جنت میں پہنچ گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12184
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 94، وانظر الحديث السابق ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25005 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25519»