کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل سوم: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں قرآن مجید کو یکجا جمع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12170
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْسَلَ إِلَيْهِ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ فَإِذَا عُمَرُ عِنْدَهُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي فَقَالَ إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ بِأَهْلِ الْيَمَامَةِ مِنْ قُرَّاءِ الْقُرْآنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَنَا أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ فِي الْمَوَاطِنِ فَيَذْهَبَ قُرْآنٌ كَثِيرٌ لَا يُوعَى وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ فَقُلْتُ لِعُمَرَ وَكَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ بِذَلِكَ صَدْرِي وَرَأَيْتُ فِيهِ الَّذِي رَأَى عُمَرُ قَالَ زَيْدٌ وَعُمَرُ عِنْدَهُ جَالِسٌ لَا يَتَكَلَّمُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّكَ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُكَ وَقَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاجْمَعْهُ قَالَ زَيْدٌ فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفُونِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ بِأَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ فَقُلْتُ كَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یمامہ کی لڑائی کے متعلق میری طرف پیغام بھیجا، جس میں بہت سے مسلمان شہید ہوگئے تھے، اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس موجود تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ عمر رضی اللہ عنہ میرے پا س آئے ہیں اور انہو ں نے بتلایا کہ یمامہ میں شدید لڑائی ہوئی اور بہت سے مسلمان قراءِ کرام شہید ہوگئے ہیں، مجھے خدشہ ہے کہ اگر جنگوں میں اسی طرح قراء شہید ہوتے رہے تو قرآن کریم کا بڑا حصہ ضائع ہو جائے گا، جسے محفوظ نہیں کیا گیا ہوگا۔ میر اخیا ل ہے کہ آپ قرآن کریم کو یکجا جمع کرنے کا حکم صادر فرمائیں، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: جو کام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا، وہ میں کیونکر کروں؟ انہو ں نے کہا: اللہ کی قسم!یہ کام بہتر ہے، وہ میرے ساتھ اس بارے میں اصرار کرتے رہے تاآنکہ اللہ نے اس کا م کے لیے میرا سینہ کھول دیا اور میر ی رائے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے موافق ہوگئی۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی وہاں تشریف فرما تھے، مگر انہوں نے کوئی بات نہ کی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: زید! تم ایک سمجھدار نوجوان ہو، ہم کسی مسئلے میں تم پر کوئی الزام نہیں لگاتے، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے وحی لکھا کرتے تھے، اب تم ہی اسے ایک جگہ جمع کرو۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر وہ مجھے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم دیتے تو وہ میرے لیے اس قدر گراں نہ ہوتا، جتنا میرے لیے قرآن مجید کو یکجا جمع کرنے کا حکم گراں گزرا ہے۔ میں نے بھی ان سے کہا تھا کہ تم لوگ وہ کام کیوں کرتے ہو، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا؟
وضاحت:
فوائد: … اس سے آگے صحیح بخاری کی روایت میں یہ تفصیل ہے: قَالَ: ہُوَ وَاللّٰہِ خَیْرٌ فَلَمْ یَزَلْ أَبُو بَکْرٍ یُرَاجِعُنِی حَتّٰی شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرِی لِلَّذِی شَرَحَ لَہُ صَدْرَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُہُ مِنَ الْعُسُبِ وَاللِّخَافِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ حَتّٰی وَجَدْتُ آخِرَ سُورَۃِ التَّوْبَۃِ مَعَ أَبِی خُزَیْمَۃَ الْأَنْصَارِیِّ لَمْ أَجِدْہَا مَعَ أَحَدٍ غَیْرِہِ {لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ عَزِیزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ} حَتّٰی خَاتِمَۃِ بَرَاء ۃٍ فَکَانَتْ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِی بَکْرٍ حَتّٰی تَوَفَّاہُ اللّٰہُ ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَیَاتَہُ ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَۃَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم یہ خیر ہے اور بار بار اصرار کرکے مجھ سے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ اس کے لئے کھول دیا جس کے لئے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے سینے کھولے تھے، چنانچہ میں نے قرآن کو کھجور کے پٹھوں اور پتھر کے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے تلاش کرکے جمع کرنا شروع کیا، یہاں تک کہ سورۂ توبہ کی آخری آیت میں نے ابوخزیمہ انصاری کے پاس پائی جو مجھے کسی اور کے پاس نہیں ملی اور وہ آیت یہ تھی: {لَقَدْ جَا ئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَء ُوْفٌ رَّحِیْمٌ۔} (سورۂ توبہ: ۱۲۸)، سورۂ توبہ کے آخر تک، پھر یہ صحیفے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہے، یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی زندگی میں، پھر سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس رہے۔
اگرچہ قرآن مجید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں کھجور کی شاخوں، ہڈیوں، چمڑوں، پتھر کی تختیوں اور مختلف چیزوں پر لکھا ہواتھا اور اس کی آیات و سُوَر مرتّب تھیں، البتہ دو گتوں کے درمیان ایک کتاب کی صورت میں نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے یہ کارنامہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے نصیب میں لکھا تھا۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم یہ خیر ہے اور بار بار اصرار کرکے مجھ سے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ اس کے لئے کھول دیا جس کے لئے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے سینے کھولے تھے، چنانچہ میں نے قرآن کو کھجور کے پٹھوں اور پتھر کے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے تلاش کرکے جمع کرنا شروع کیا، یہاں تک کہ سورۂ توبہ کی آخری آیت میں نے ابوخزیمہ انصاری کے پاس پائی جو مجھے کسی اور کے پاس نہیں ملی اور وہ آیت یہ تھی: {لَقَدْ جَا ئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَء ُوْفٌ رَّحِیْمٌ۔} (سورۂ توبہ: ۱۲۸)، سورۂ توبہ کے آخر تک، پھر یہ صحیفے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہے، یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی زندگی میں، پھر سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس رہے۔
اگرچہ قرآن مجید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں کھجور کی شاخوں، ہڈیوں، چمڑوں، پتھر کی تختیوں اور مختلف چیزوں پر لکھا ہواتھا اور اس کی آیات و سُوَر مرتّب تھیں، البتہ دو گتوں کے درمیان ایک کتاب کی صورت میں نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے یہ کارنامہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے نصیب میں لکھا تھا۔