کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب دوم: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت اور واقعۂ سقیفہ کا بیان
حدیث نمبر: 12162
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي خُطْبَةٍ خَطَبَهَا عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ خِلَافَتِهِ مِنْهَا قَوْلُهُ وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ قَائِلًا مِنْكُمْ يَقُولُ لَوْ قَدْ مَاتَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَايَعْتُ فُلَانًا فَلَا يَغْتَرَّنَّ امْرُؤٌ أَنْ يَقُولَ إِنَّ بَيْعَةَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَتْ فَلْتَةً أَلَا وَإِنَّهَا كَانَتْ كَذَلِكَ أَلَا وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَقَى شَرَّهَا وَلَيْسَ فِيكُمُ الْيَوْمَ مَنْ تُقْطَعُ إِلَيْهِ الْأَعْنَاقُ مِثْلُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا وَإِنَّهُ كَانَ مِنْ خَبَرِنَا حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُمَا تَخَلَّفُوا فِي بَيْتِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَخَلَّفَتْ عَنَّا الْأَنْصَارُ بِأَجْمَعِهَا فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ وَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا بَكْرٍ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى إِخْوَانِنَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَانْطَلَقْنَا نَؤُمُّهُمْ حَتَّى لَقِينَا رَجُلَانِ صَالِحَانِ فَذَكَرَا لَنَا الَّذِي صَنَعَ الْقَوْمُ فَقَالَا أَيْنَ تُرِيدُونَ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ فَقُلْتُ نُرِيدُ إِخْوَانَنَا هَؤُلَاءِ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَا لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَقْرَبُوهُمْ وَاقْضُوا أَمْرَكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَنَأْتِيَنَّهُمْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى جِئْنَاهُمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ فَإِذَا هُمْ مُجْتَمِعُونَ وَإِذَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ رَجُلٌ مُزَمَّلٌ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقُلْتُ مَا لَهُ قَالُوا وَجِعٌ فَلَمَّا جَلَسْنَا قَامَ خَطِيبُهُمْ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ وَقَالَ أَمَّا بَعْدُ فَنَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَكَتِيبَةُ الْإِسْلَامِ وَأَنْتُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ رَهْطٌ مِنَّا وَقَدْ دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْكُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يَخْزِلُونَا مِنْ أَصْلِنَا وَيَحْضُنُونَا مِنَ الْأَمْرِ فَلَمَّا سَكَتَ أَرَدْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ وَكُنْتُ قَدْ زَوَّرْتُ مَقَالَةً أَعْجَبَتْنِي أَرَدْتُ أَنْ أَقُولَهَا بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ كُنْتُ أُدَارِي مِنْهُ بَعْضَ الْحَدِّ وَهُوَ كَانَ أَحْلَمَ مِنِّي وَأَوْقَرَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى رِسْلِكَ فَكَرِهْتُ أَنْ أُغْضِبَهُ وَكَانَ أَعْلَمَ مِنِّي وَأَوْقَرَ وَاللَّهِ مَا تَرَكَ مِنْ كَلِمَةٍ أَعْجَبَتْنِي فِي تَزْوِيرِي إِلَّا قَالَهَا فِي بَدِيهَتِهِ وَأَفْضَلَ حَتَّى سَكَتَ فَقَالَ أَمَّا بَعْدُ فَمَا ذَكَرْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَأَنْتُمْ أَهْلُهُ وَلَمْ تَعْرِفْ الْعَرَبُ هَذَا الْأَمْرَ إِلَّا لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ نَسَبًا وَدَارًا وَقَدْ رَضِيتُ لَكُمْ أَحَدَ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ أَيَّهُمَا شِئْتُمْ وَأَخَذَ بِيَدِي وَبِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ فَلَمْ أَكْرَهْ مِمَّا قَالَ غَيْرَهَا وَكَانَ وَاللَّهِ أَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِي لَا يُقَرِّبُنِي ذَلِكَ إِلَى إِثْمٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَأَمَّرَ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَّا أَنْ تَغَيَّرَ نَفْسِي عِنْدَ الْمَوْتِ فَقَالَ قَائِلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَا جُذَيْلُهَا الْمُحَكَّكُ وَعُذَيْقُهَا الْمُرَجَّبُ مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ فَقُلْتُ لِمَالِكٍ مَا مَعْنَى أَنَا جُذَيْلُهَا الْمُحَكَّكُ وَعُذَيْقُهَا الْمُرَجَّبُ قَالَ كَأَنَّهُ يَقُولُ أَنَا دَاهِيَتُهَا قَالَ وَكَثُرَ اللَّغَطُ وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ حَتَّى خَشِيتُ الِاخْتِلَافَ فَقُلْتُ ابْسُطْ يَدَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَبَسَطَ يَدَهُ فَبَايَعْتُهُ وَبَايَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ ثُمَّ بَايَعَهُ الْأَنْصَارُ وَنَزَوْنَا عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ قَتَلْتُمْ سَعْدًا فَقُلْتُ قَتَلَ اللَّهُ سَعْدًا وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْنَا فِيمَا حَضَرْنَا أَمْرًا هُوَ أَقْوَى مِنْ مُبَايَعَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَشِينَا إِنْ فَارَقْنَا الْقَوْمَ وَلَمْ تَكُنْ بَيْعَةٌ أَنْ يُحْدِثُوا بَعْدَنَا بَيْعَةً فَإِمَّا أَنْ نُتَابِعَهُمْ عَلَى مَا لَا نَرْضَى وَإِمَّا أَنْ نُخَالِفَهُمْ فَيَكُونَ فِيهِ فَسَادٌ فَمَنْ بَايَعَ أَمِيرًا عَنْ غَيْرِ مَشْوَرَةِ الْمُسْلِمِينَ فَلَا بَيْعَةَ لَهُ وَلَا بَيْعَةَ لِلَّذِي بَايَعَهُ تَغِرَّةً أَنْ يُقْتَلَا قَالَ مَالِكٌ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ الرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ لَقِيَاهُمَا عُوَيْمِرُ بْنُ سَاعِدَةَ وَمَعْنُ بْنُ عَدِيٍّ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ الَّذِي قَالَ أَنَا جُذَيْلُهَا الْمُحَكَّكُ وَعُذَيْقُهَا الْمُرَجَّبُ الْحُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں منبرِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک خطبہ دیا، اس میں آپ نے یہ بھی کہا تھا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے کوئی کہنے والا کہتا ہے کہ اگر عمر فوت ہوجائیں تو میں فلاں کی بیعت کروں گا اور کوئی آدمی یہ دھوکا نہ کھائے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت اچانک ہوئی تھی، خبردار! اگرچہ وہ اسی طرح ہی ہوئی تھی، لیکن خبردار! اللہ تعالیٰ نے اچانک ہونے والی بیعت کے شر سے محفوظ رکھا، آج تمہارے اندر ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا ایک بھی آدمی نہیں ہے، جسے دیکھنے کے لیے دور دراز کے سفر کیے جائیں، یا د رکھو جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے افضل تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ والے افراد دختر رسول سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلے گئے اور تمام انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوگئے اور مہاجرین ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ ہوگئے، میں نے ان سے کہا: اے ابو بکر! آؤانصاری بھائیوں کی طرف چلیں، ہم ان کا قصد کر کے ان کی طرف روانہ ہو گئے، راستے میں ہمیں دو نیک آدمی ملے اور انہوں نے ہمیں لوگوں کے عمل سے مطلع کیا اور انہوں ے پوچھا: اے مہاجرین! تم کدھر جارہے ہو؟ میں نے کہا: ہم اپنے ان انصاری بھائیوں کے پاس جارہے ہیں۔ ان دونوں نے کہا: اے مہاجرین کی جماعت! اگر تم ان کے ہاں نہ جاؤ اور اپنا معاملہ خودہی حل کر لو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہوگا۔ لیکن میں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم ان کے پاس ضرور جائیں گے، پس ہم آگے چل دیئے، یہاں تک کہ ہم سقیفہ بنی ساعدہ میں ان کے پاس پہنچ گئے، وہ لوگ جمع تھے، ان کے درمیان سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ موجود تھے، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں نے کہا: ان کو کیا ہوا ہے؟لوگوں نے بتلایا کہ یہ بیمار ہیں، جب ہم بیٹھ گئے تو ان کا ایک مقرر کھڑا ہوا، اس نے اللہ کی کما حقہ حمد و ثنا بیان کی، اس کے بعد اس نے کہا:ہم اللہ تعالیٰ کے انصار اور اسلامی لشکر ہیں اور اے مہاجرو! تم ہمارا ہی چھوٹا سا حصہ ہو، تم میں سے کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ہمیں ہمارے مقام سے نیچے گرادیں اور ہمیں حکمرانی سے محروم کردیں، جب وہ آدمی خاموش ہوا تو میرا (عمر) نے بھی ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں کچھ کہنے کا ارادہ کیا، میں ایک مقالہ یعنی تقریر تیار کر چکا تھا، وہ خود مجھے بھی خوب اچھی لگ رہی تھی، میں کسی حد تک ابو بکر رضی اللہ عنہ سے جھجکتا تھا، وہ مجھ سے زیادہ با حوصلہ اور باوقار تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: ذرا ٹھہر جاؤ، میں نے ان کو ناراض کرنا اچھا نہ سمجھا، جبکہ وہ مجھ سے زیادہ صاحب علم اور صاحب وقا رتھے، اللہ کی قسم! میں اپنی تیار کردہ تقریر میں جو کچھ کہنا چاہتا تھا، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فی البدیہ وہ سب کچھ کہہ دیا، یہاں تک کہ وہ خاموش ہوگئے، پھر انھوں نے کہا: اے انصار! تم نے جس فضلیت اور خوبی کا تذکرہ کیا ہے، تم واقعی اس کے اہل ہو، لیکن عرب لوگ خلافت کے فضلیت و شرف کا مستحق صرف قریش کو ہی سمجھتے ہیں، وہ اپنے نسب اور سکونت کے لحاظ سے تمام عرب سے اعلیٰ ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے میں (عمر) کااور سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور کہا:میں تمہارے لیے ان دو آدمیوں کا انتخاب کر رہا ہوں، تم ان میں سے جسے چاہو اپنا امیر مقرر کر لو، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جتنی باتیں کی تھیں، ان میں سے مجھے صرف یہی بات ناگوار گزری تھی، اللہ کی قسم! اگر مجھے آگے لایا جاتا اور میری گردن اڑادی جاتی اور کوئی سابھی گناہ مجھے اس مقام تک نہ لے جاتا، یہ مجھے اس سے زیادہ پسند تھا کہ میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہوتے ہوئے کسی قوم کا امیر بن جاؤں،انصار میں سے ایک کہنے والے نے کہا: میں وہ آدمی ہوں، جس سے اس معاملے کی شفا حاصل کی جا سکتی ہے اور میں ہی وہ شخص ہوں، جس کی طرف اس معاملے میں رجوع ہونا چاہیے، بس اے قریش کی جماعت! ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک تم میں سے۔ میں نے امام مالک سے کہا: مَا مَعْنٰی أَنَا جُذَیْلُہَا الْمُحَکَّکُ وَعُذَیْقُہَا الْمُرَجَّبُ کا کیا معنی ہے؟ انھوں نے کہا: شاید وہ یہ کہنا چاہتے ہوں کہ میں ہی معاملہ فہم ہوں اور اس چیز کا شعور رکھتا ہوں۔ اس پر شور مچ گیا ور آوازیں بلند ہوگئیں، یہاں تک کہ مجھے لڑائی کا خدشہ ہو گیا، میں نے کہا: اے ابوبکر! آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں، انہوں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا،میں نے ان کی بیعت کرلی اور مہاجرین نے بھی ان کی بیعت شروع کر دی، اس کے بعد انصار نے بھی ان کی بیعت کرلی، بیچ میں ہم نے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے اوپر ہجو م کیا، ان میں سے ایک نے کہا: تم نے سعد کو قتل کر دیا ہے۔میں نے کہا: اللہ سعد کو قتل کرے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں جس قدر بھی امور پیش آئے، ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت سے بڑھ کر ہم نے کسی امر کو زیادہ قوی نہیں پایا، ہمیں اندیشہ تھا کہ اگر ہم لوگوں کو چھوڑ گئے اور بیعت نہ ہوئی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ کوئی اور بیعت کرلیں، تب یا تو ہم ان سے ایسے امر پر بیعت کریں گے، جو ہمیں پسند نہیں ہو گا، یا ہم ان کی مخالفت کریں گے تو فساد مچ جائے گا، جو آدمی مسلمانوں کے مشورے کے بغیر کسی امیر کی بیعت کر لے، اس کی بیعت کا کوئی اعتبار نہیں ہو گا، اسی طرح جس کے حق میں بیعت کی گئی ہو گی، وہ بھی غیر معتبر ہو گا، یہ دونوں بیعت کرنے والا اور بیعت لینے والا قتل کر دئیے جانے کے حقدار ہوں گے۔ امام مالک نے کہا: مجھے ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے بیان کیا کہ جو دو آدمی راستے میں ملے تھے وہ سیدنا عویمر بن ساعدہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا معمر بن عدی رضی اللہ عنہ تھے، ابن شہاب نے کہا: سعید بن مسیب نے مجھے بیان کیا کہ جس آدمی نے یہ بات کی تھی کہ میں وہ آدمی ہوں، جس سے اس معاملے کی شفا حاصل کی جا سکتی ہے اور میں ہی وہ شخص ہوں، جس کی طرف اس معاملے میں رجوع ہونا چاہیے۔ وہ سیدنا حباب بن منذر رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12162
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 3445، 4021، 6829، 6830، 7323، ومسلم: 1691 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 391 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 391»
حدیث نمبر: 12163
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ خُطَبَاءُ الْأَنْصَارِ فَجَعَلَ مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنْكُمْ قَرَنَ مَعَهُ رَجُلًا مِنَّا فَنَرَى أَنْ يَلِيَ هَذَا الْأَمْرَ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا مِنْكُمْ وَالْآخَرُ مِنَّا قَالَ فَتَتَابَعَتْ خُطَبَاءُ الْأَنْصَارِ عَلَى ذَلِكَ قَالَ فَقَامَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَإِنَّمَا الْإِمَامُ يَكُونُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَنَحْنُ أَنْصَارُهُ كَمَا كُنَّا أَنْصَارَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ جَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا مِنْ حَيٍّ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ وَثَبَّتَ قَائِلَكُمْ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتُمْ غَيْرَ ذَلِكَ لَمَا صَالَحْنَاكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو ا تو انصار کے کچھ خطیب اورمقرر حضرات کھڑے ہوئے، ان میں سے بعض نے کہا: اے مہاجرین کی جماعت! اللہ کے رسول جب تم میں سے کسی کو عامل مقرر کرتے تو اس کے ساتھ ہم میں سے ایک آدمی کو بھی مقرر کرتے تھے، اس لیے ہماری رائے یہ ہے کہ دو آدمی حکمران ہوں، ایک تم میں سے اور ایک ہم میں سے۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:تمام انصاری مقررین نے یہی بات دہرائی، پھر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہاـ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہاجرین میں سے تھے، لہٰذا امام اور حاکم بھی مہاجرین میں سے ہوگا اور ہم اس کے اسی طرح انصار اورمعاون ہوں گے، جیسے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انصار تھے۔ یہ بات سن کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اٹھے اور انہوں نے کہا: اسے انصار کی جماعت! اللہ آپ کے قبیلے کو جزائے خیر عطا فرمائے اور اس تجویز دینے والے کو ہمیشہ صراط مستقیم پر قائم رکھے۔ بعد ازاں کہا: اللہ کی قسم! اگر تم اس کے بر خلاف کچھ تجویز کرتے تو ہم تم سے اتفاق نہ کرتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12163
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه الطبراني: 4785، والحاكم: 3/ 76 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21617 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21953»
حدیث نمبر: 12164
عَنْ رَافِعٍ الطَّائِيِّ رَفِيقِ أَبِي بَكْرٍ فِي غَزْوَةِ السَّلَاسِلِ قَالَ وَسَأَلْتُهُ عَمَّا قِيلَ مِنْ بَيْعَتِهِمْ فَقَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُهُ عَمَّا تَكَلَّمَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ وَمَا كَلَّمَهُمْ بِهِ وَمَا كَلَّمَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْأَنْصَارَ وَمَا ذَكَّرَهُمْ بِهِ مِنْ إِمَامَتِهِ إِيَّاهُمْ بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَبَايَعُونِي لِذَلِكَ وَقَبِلْتُهَا مِنْهُمْ وَتَخَوَّفْتُ أَنْ تَكُونَ فِتْنَةٌ تَكُونُ بَعْدَهَا رِدَّةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے غزوۂ سلا سل کے دوران ساتھ رہنے والے رافع طائی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ان کی بیعت کے بارے میں کہی جانے والی باتوں کے بارے میں سوال کیا، پس انھوں نے وہ کچھ بیان کیا، جو انصار نے کہا، جو انھوں نے خود بیان کیا اور پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کے جواب میں جو کچھ کہا، سیدنا عمر نے بیچ میں یہ بات بھی ذکر کی کہ میں (ابوبکر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرض الموت کے دوران میں امامت کراتا رہا، پس پھر لوگوں نے میری بیعت کی اور میں نے ان سے ان کی بیعت قبول کی، لیکن مجھے ڈرتھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی ایسا فتنہ بپا ہو جائے کہ جس کے بعد لوگ دین سے مرتد ہونا شروع ہو جائیں۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس ڈر سے امامت و خلافت کا منصب قبول کر لیا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ امت کسی بڑے فتنے میں مبتلا ہو جائے۔ یہ سارے معاملات سوموار کے باقی دن میں طے ہو گئے تھے، دوسرے روز صبح مسجد میں تمام مہاجرین و انصار نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجہیز و تکفین سے پہلے یہ امور طے ہو گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجہیز و تکفین کاسلسلہ منگل کے دن شروع ہوا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12164
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده جيّد ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 42 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 42»
حدیث نمبر: 12165
عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتِ الْأَنْصَارُ مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ فَأَتَاهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَؤُمَّ النَّاسَ فَأَيُّكُمْ تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ نَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو انصاریوں نے کہا:ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک تم مہاجرین میں سے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور کہا: اے انصار کی جماعت! کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا تھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ہم جانتے ہیں، پھر انھوں نے کہا: تو پھر تم میں سے کس میں حوصلہ ہے کہ وہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے آگے کھڑا ہو؟ انصار نے کہا: ہم اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں کہ ہم ابو بکر رضی اللہ عنہ سے آگے کھڑے ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12165
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه النسائي: 2/ 74 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3842 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3842»
حدیث نمبر: 12166
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فِي طَائِفَةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ فَجَاءَ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ فَقَبَّلَهُ وَقَالَ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي مَا أَطْيَبَكَ حَيًّا وَمَيِّتًا مَاتَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَتَقَاوَدَانِ حَتَّى أَتَوْهُمْ فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَلَمْ يَتْرُكْ شَيْئًا أُنْزِلَ فِي الْأَنْصَارِ وَلَا ذَكَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَأْنِهِمْ إِلَّا وَذَكَرَهُ وَقَالَ وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا سَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ“ وَلَقَدْ عَلِمْتَ يَا سَعْدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَأَنْتَ قَاعِدٌ ”قُرَيْشٌ وُلَاةُ هَذَا الْأَمْرِ فَبَرُّ النَّاسِ تَبَعٌ لِبَرِّهِمْ وَفَاجِرُهُمْ تَبَعٌ لِفَاجِرِهِمْ“ قَالَ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ صَدَقْتَ نَحْنُ الْوُزَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْأُمَرَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے کسی نواحی علاقے میں تھے، پس وہ آئے اور آپ کے چہرۂ اقدس سے چادر ہٹائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دیا اور فرمایا: میرے والدین آپ پر فدا ہوں، آپ کس قدر پاکیزہ ہیں، زندہ ہوں یا میت، رب کعبہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پاگئے ہیں، پھر راوی نے حدیث ذکر کی، ایک اقتباس یہ تھا: پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ چلتے چلتے انصاری لوگوں کے پاس پہنچ گئے، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی اور انصار کے حق میں جو کچھ نازل ہوا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ ان کے بارے میں بیان فرمایا تھا، ان سب فضائل کا ذکر کیا اور ان میں سے کوئی بات بھی نہ چھوڑی، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارے حق میں فرمایا تھا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں چلیں تو میں انصار والی وادی میں چلو ں گا۔ اے سعد! تم بھی موجود تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ قریش اس اقتدار کے حقدار اور اہل ہیں، نیک لوگ نیک قریشیوں کے تابع ہیں اور فاجر لوگ فاجر قریشیوں کے۔ یہ سن کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے درست کہا، امیر حکمران آپ ہوں گے اور ہم آپ کے وزیر ہوں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12166
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18»