کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب اول: ان احادیث کا بیان جن میں ان کی خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
حدیث نمبر: 12153
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”اقْتَدُوا بِالَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے بعد ان دو حضرات کی اقتدا کرنا، ابوبکر اور عمر۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12153
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن بطرقه وشواھده، اخرجه الترمذي: 3662 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23245 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23634»
حدیث نمبر: 12154
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو جحیفہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں نہ بتلاؤں کہ اس امت میں نبی کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ وہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں، کیا میں تمہیں یہ بھی بتلا دوں کہ اس امت میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نظریہ تھا، بڑی ہستیوں کو یہی زیب دیتا ہے کہ دوسروں کی فضیلت کو بھی تسلیم کر لیا کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12154
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 833 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 833»
حدیث نمبر: 12155
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ عَاصِبًا رَأْسَهُ فِي خِرْقَةٍ فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ”إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَيَّ فِي نَفْسِهِ وَمَالِهِ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا وَلَكِنْ خُلَّةُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ سُدُّوا عَنِّي كُلَّ خَوْخَةٍ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرَ خَوْخَةِ أَبِي بَكْرٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرض الموت کے ایام میں اپنے سر پر پٹی باندھے ہوئے باہر تشریف لائے اور منبر پر جلوہ افروز ہوئے، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی اورپھر فرمایا: اپنی جان اور مال کے بارے میں ابو بکر بن ابی قحافہ سے بڑھ کر میرا کوئی محسن نہیں ہے،اگر میں نے لوگوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بنانا ہوتا تو میں نے ابو بکر کو اپنا خلیل بناتا، البتہ اسلامی دوستی اور تعلق سب سے زیادہ فضیلت والا ہے، اس مسجد کی طرف کھلنے والے ہر دروازے اور راستے کو بند کر دو، ما سوائے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے راستے کے، وہ کھلا رہے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ خطاب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے پانچ دن پہلے تھا اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری اجتماعی خطاب تھا۔ دیکھیں (۱۰۹۹۰)
سُبْحَانَ اللّٰہ! خلیفۂ اول ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بختوں‘ نصیبوں اور سعادتوں کا کیا کہنا ‘ کہ پیغمبر اسلام‘ پیغمبروں کے سردار اپنی موت سے چند ایام قبل جن لاجواب احسانات کا اقرار کر کے ان سے محبت کرنے کا مژدہ سناتے ہیں‘ یہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے حق میں لاثانی اور بے نظیر منقبت ہے‘ جس میں ان کا کوئی ساجھی نہیں۔
یادرہے کہ خلیل اس محِبّ کو کہتے ہیں جو اپنے دل میں اپنے محبوب سے اتنی زیادہ سچی اور گہری محبت رکھتا ہو کہ اب مزید اس کے دل میں کسی کے لئے کوئی گنجائش باقی نہ رہی ہو۔ ایسی محبت کو خلّت کہتے ہیں اور محبت کا یہ انداز صرف اللہ تعالیٰ کے بارے میں اختیار کیا جا سکتا ہے‘ حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ سے جو شدید محبت (یعنی خلّت) تھی وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے نہ تھی‘ کیونکہ صدیق کا مقام مرتبہ اپنی جگہ پر مسلّم ہے‘ لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات
سب سے برتر اور اعلی ہے، اس سے کسی کا کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر صدیق کیلئے اسلامی مودّت و محبّت کا دعوی بحال رکھا‘ جس کا مرتبہ خلّت سے کم ہے۔ (حافظ ابن حجرؒ نے خلیل کے نو معانی ذکر کئے ہیں۔ دیکھیں: فتح الباری: حدیث ۳۶۵۷ کے تحت)
خطابی اور ابن بطال وغیرہ نے کہا: اس حدیث میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو عظیم خصوصیت سے نوازا گیا‘نیز اس میں یہ قوی اشارہ موجود ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ خلافت کے مستحق ہیں‘ … اور بعض نے تو اس بات کا دعوی کیا کہ دروازے کے ذریعے کنایۃً خلافت کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ (دیکھیں: فتح الباری: حدیث ۳۶۵۴ کے تحت)
ہمیں حدیث مبارکہ سے عملی سبق یہ ملتا ہے کہ محبت و مودت‘ احترام و اکرام‘ عزت و مرتبت اور دوستی و یاری کا معیار اسلام ہونا چاہئے‘ محب اور محبوب کے تعلق کی بنیاد میں اللہ اور اس کے رسول کا نام پایا جانا چاہئے‘ یہی واحد تعلق ہے جو بروز قیامت بھی بحال رہے گا۔ رہا اس دوستی کا مسئلہ جس کی بنیاد کسی خاندانی تعلق‘ دنیوی منفعت‘ سیاسی ناطے‘ حسن و جمال‘ شخصیت پرستی یا فسق و فجور پر ہو‘ وہ قیامت کے دن دشمنی کا لبادہ اوڑھ لے گی‘ قرآن مجید گوہر افشاں ہے: {اَ لْاَخِلَّائُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ} … قیامت کے دن گہرے دوست بھی دشمن بن جائیں گے‘ سوائے پرہیزگاروں کے (کہ جن کی دوستی دین اور رضائے الہی کی بنیاد پر ہوتی ہے) (سورۂ زخرف: ۶۷)
آئیے! ہم بھی جائزہ لیں اور اپنے تعلق کی عمارت کو نبی و صدیق کی محبت کی بنیادوں پر استوار کریں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو انسان درج ذیل تین خصائل سے متصف ہو گا ‘ وہ ان کی بدولت ایمان کی حلاوت اور لذت محسوس کرے گا: ۱۔ اسے اللہ اور اس کا رسول کائنات کی ہر چیز کی بہ نسبت زیادہ محبوب ہوں۔
۲۔ وہ کسی آدمی سے صرف اللہ تعالیٰ کے لئے محبت رکھتا ہو۔
۳۔ اللہ کی توفیق سے کفر سے بچ جانے کے بعد دوبارہ کفر میں لوٹنے کو اس طرح برا سمجھے جیسے وہ آگ میں ڈالے جانے کو برا سمجھتا ہے۔ (صحیح بخاری: ۱۶، صحیح مسلم: ۴۳)
نیز سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: اَیْنَ الْمُتَحَابُّوْنَ بِجَلَالِیْ، اَلْیَوْمَ اُظِلُّھُمْ فِیْ ظِلِّیْ یَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلِّی)) یعنی: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اعلان کرے گا: میری عظمت و جلال کی وجہ سے آپس میں محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں‘ لیکن میں انہیں اپنے سائے میں جگہ دوں گا۔ (صحیح مسلم: ۱۰۳۱)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12155
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 467 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2432 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2432»
حدیث نمبر: 12156
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12156
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 466، ومسلم: 2382، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11134 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11151»
حدیث نمبر: 12157
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ فَأَمَرَهَا بِأَمْرٍ فَقَالَتْ أَرَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ أَجِدْكَ قَالَ ”إِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتو ن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کسی معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے حق میں کوئی حکم فرمایا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابو بکر کے پاس چلی جانا۔
وضاحت:
فوائد: … اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد مسئول سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ہوں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12157
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 7360، ومسلم: 2386، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16755 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16877»
حدیث نمبر: 12158
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَبِيهِ أَيْضًا) أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ شَيْئًا فَقَالَ لَهَا ”ارْجِعِي إِلَيَّ“ فَقَالَتْ فَإِنْ رَجَعْتُ فَلَمْ أَجِدْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُعَرِّضُ بِالْمَوْتِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”فَإِنْ رَجَعْتِ فَلَمْ تَجِدِينِي فَالْقَيْ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اوراس نے آپ سے کسی چیز کا مطالبہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: تو میرے پاس دوبارہ آنا۔ اس نے کہا: اللہ کے رسول! اگر میں آؤں اور آ پ کو نہ پاؤں تو؟ وہ اشارۃً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کی بات کر رہی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: جب تم دوبارہ آؤ اور مجھے نہ پاؤ تو ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مل لینا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12158
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16889»
حدیث نمبر: 12159
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَسَدٍ قَالَ لَمَّا اسْتُعِزَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَهُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ دَعَا بِلَالٌ لِلصَّلَاةِ فَقَالَ ”مُرُوا مَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ“ قَالَ فَخَرَجْتُ فَإِذَا عُمَرُ فِي النَّاسِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ غَائِبًا فَقَالَ قُمْ يَا عُمَرُ فَصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَ فَقَامَ فَلَمَّا كَبَّرَ عُمَرُ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ وَكَانَ عُمَرُ رَجُلًا مُجْهِرًا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”فَأَيْنَ أَبُو بَكْرٍ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ“ قَالَ فَبَعَثَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَجَاءَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى عُمَرُ تِلْكَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ قَالَ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ قَالَ لِي عُمَرُ وَيْحَكَ مَاذَا صَنَعْتَ بِي يَا ابْنَ زَمْعَةَ وَاللَّهِ مَا ظَنَنْتُ حِينَ أَمَرْتَنِي إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ بِذَلِكَ وَلَوْلَا ذَلِكَ مَا صَلَّيْتُ بِالنَّاسِ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ حِينَ لَمْ أَرَ أَبَا بَكْرٍ رَأَيْتُكَ أَحَقَّ مَنْ حَضَرَ بِالصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بیماری کا غلبہ تھا تو میں چند مسلمانوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تھا، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز پڑھانے کی درخواست کی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کسی سے کہہ دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ سیدنا ابن زمعہ کہتے ہیں: میں گیا اور دیکھا کہ وہاں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود نہ تھے، البتہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے، میں نے جا کر کہا: اے عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، سو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے، چونکہ وہ بلند آواز والے آدمی تھے، اس لیے انہوں نے جب تکبیر کہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آواز سن لی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر کہاں ہیں؟ اللہ اور مسلمان اس کو نہیں مانیں گے، اللہ اور مسلمان تو اس کا انکار کریں گے۔ بہرحال وہ نماز تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھا دی۔ اس کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیجا گیا، بعد میں انہوں نے لوگوں کو نماز یں پڑھائیں۔ سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ابن زمعہ! تجھ پر بڑا افسوس ہے، تو نے میرے ساتھ کیا کیا؟ جب تم نے مجھے آکر نماز پڑھانے کا کہا تو میں یہی سمجھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں اسی چیز کا حکم دیا ہے، اگر میرے خیال میں یہ بات نہ ہوتی تو میں لوگوں کو نماز نہ پڑھاتا۔ سیدنا ابن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا تھا (کہ میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو کہوں اور آپ کو نہ کہوں)۔ لیکن جب مجھے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نظر نہ آئے تو میں نے موجودہ لوگوں میں سے آپ کو سب سے زیادہ مستحق سمجھاکہ آپ نماز پڑھائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12159
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن، قاله الالباني، اخرجه ابوداود: 4660 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18906 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19113»
حدیث نمبر: 12160
وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ”ائْتِنِي بِكَتِفٍ أَوْ لَوْحٍ حَتَّى أَكْتُبَ لِأَبِي بَكْرٍ كِتَابًا لَا يُخْتَلَفُ عَلَيْهِ“ فَلَمَّا ذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَقُومَ قَالَ ”أَبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ أَنْ يُخْتَلَفَ عَلَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید بیمار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم میرے پاس کندھے کی چوڑی ہڈی یا ایک تختی لے کر آؤ تاکہ میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کے حق میں ایک تحریر لکھ دوں، تاکہ اس پر اختلاف ہی واقع نہ ہو۔ جب عبدالرحمن اٹھ کر جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! اللہ اور اہل ایمان نے اس بات سے انکار کر دیا ہے کہ تجھ پر اختلاف کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12160
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن ابي بكر،1 اخرجه ابن ماجه: 1627، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24199 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24703»
حدیث نمبر: 12161
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَتْ لَمَّا كَانَ وَجَعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ قَالَ ”ادْعُوا لِي أَبَا بَكْرٍ وَابْنَهُ فَلْيَكْتُبْ لِكَيْلَا يَطْمَعَ فِي أَمْرِ أَبِي بَكْرٍ طَامِعٌ وَلَا يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ“ ثُمَّ قَالَ ”يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ“ مَرَّتَيْنِ وَقَالَ مُؤَمَّلٌ مَرَّةً وَالْمُؤْمِنُونَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَبَى اللَّهُ وَالْمُسْلِمُونَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَبِي فَكَانَ أَبِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مرض الموت میں مبتلا تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ابو بکر اور ان کے بیٹے کو میرے پاس بلا کر لاؤ، تاکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے معاملے میں کوئی لالچی لالچ نہ کرے اور اس امر کی خواہش رکھنے والا اس چیز کی خواہش نہ کرے۔ آپ نے یہ کلمہ دو مرتبہ ارشاد فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں نے اس چیز کا انکار کر دیا ہے (ما سوائے ابو بکر کے)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ نے اور مسلمانوں نے اس چیز کے لیے لوگوں کا انکار کر دیا ہے، ما سوائے میرے باپ کے اور پھر میرے باپ ہی خلیفہ بنے۔
وضاحت:
فوائد: … اس موضوع سے متعلقہ صحیح روایت درج ذیل ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْیَوْمِ الَّذِی بُدِئَ فِیہِ فَقُلْتُ: وَا رَأْسَاہْ، فَقَالَ: ((وَدِدْتُ أَنَّ ذٰلِکَ کَانَ وَأَنَا حَیٌّ، فَہَیَّأْتُکِ وَدَفَنْتُکِ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ غَیْرٰی کَأَنِّی بِکَ فِی ذٰلِکَ الْیَوْمِ عَرُوسًا بِبَعْضِ نِسَائِکَ، قَالَ: ((وَأَنَا وَا رَأْسَاہْ ادْعُوا إِلَیَّ أَبَاکِ وَأَخَاکِ حَتّٰی أَکْتُبَ لِأَبِی بَکْرٍ کِتَابًا فَإِنِّی أَخَافُ أَنْ یَقُولَ قَائِلٌ وَیَتَمَنّٰی مُتَمَنٍّ أَنَا أَوْلٰی، وَیَأْبَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَکْرٍ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس اس دن تشریف لائے، جس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکلیف شروع ہوئی تھی، میں نے کہا: ہائے میرا سر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کاش تو اسی درد میں مبتلارہ کر فوت ہو جاتی، پھر میں تجھے تیار کرتا، (تیرے لیے دعائے مغفرت کرتا) اور تجھ کو دفن کرتا۔ میں نے غیرت میں آ کر کہا: گویا کہ میں محسوس کر رہی ہوں کہ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی بیوی کے ساتھ خلوت اختیار کیے ہوئے ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ میں خود سر کی تکلیف کی وجہ سے کہتا ہوں: ہائے میرا سر! اپنے باپ اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ، تاکہ میں ابو بکر کے حق میں ایک تحریر لکھ دوں، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہنے والا کہے گا اور اس خلافت کی تمنا رکھنے والا یہ تمنا کرے گا کہ میں اس کا زیادہ مستحق ہوں، جبکہ اللہ تعالیٰ اور مؤمن انکار کرتے ہیں، ما سوائے ابو بکر کے۔ (صحیح بخاری: ۵۶۶۶، ۷۲۱۷، صحیح مسلم: ۲۳۸۷، واللفظ لاحمد)
یہ روایات اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفۂ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی ہیںاور عملا ایسے ہی ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، ارباب ِ حل و عقد اور پھر تمام مسلمانوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی۔ جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا بین ثبوت ہے۔
اگر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کسی شرعی دلیل سے ثابت نہ بھی ہوتی تو ان کی خلافت کے بر حق ہونے کے لیے صحابہ کرام کا اجماع و اتفاق ہی کافی تھا۔ مزید دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۹۹۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12161
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف مؤمل ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24751 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25258»