کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
حدیث نمبر: 12144
عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ (بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ مَاتَ بِغَيْرِ إِمَامٍ مَاتَ مِيتَةَ جَاهِلِيَّةٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ٔٔٔٔٔٔٔٔ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی امام اور حکمران کے بغیر مرا، وہ جاہلیت کی موت مرا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12144
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، اخرجه ابويعلي: 7357 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17000»
حدیث نمبر: 12145
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ مَاتَ وَلَيْسَتْ عَلَيْهِ طَاعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً فَإِنْ خَلَعَهَا مِنْ بَعْدِ عَقْدِهَا فِي عُنُقِهِ“ (وَفِي رِوَايَةٍ ”بَعْدَ عَقْدِهِ إِيَّاهَا فِي عُنُقِهِ“) ”لَقِيَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَيْسَتْ لَهُ حُجَّةٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرا کہ اس نے اپنے اوپر کسی امام کی اطاعت کو لازم نہیں کیا تھا، یعنی کسی کو اپنا امام تسلیم نہیں کیا تھا، و ہ جاہلیت کی موت مرا اور جس نے اپنی گردن سے کسی امام کی اطاعت کا ہار اتارپھینکا، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اللہ کے ہاں پیش کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی۔
وضاحت:
فوائد: … اگر مسلمانوں کی جماعت موجود ہو تو اس میں شامل ہونا اور اس کے حاکم کو اپنا امیر تسلیم کر کے اس کی اطاعت کرنا فرض ہے۔ لیکن موجودہ دور میں اہل اسلام کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔ قوانین و ضوابط میں پابند ہو کر پروان چڑھنے والی قوم انتظام و انصرام سے یکسر ناواقف ہو چکی ہے۔ فَأِلَی اللّٰہِ الْمُشْتَکیٰ۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: آپ کو علم ہونا چاہیے کہ اس حدیث میں مذکورہ وعید اس شخص کے حق میں ہے، جس نے خلیفۂ مسلمین کی بیعت نہ کی ہو اور ان سے علیحدہ ہو گیا ہو۔ اس سے مراد عصرِ حاضر کی مختلف قسم کی تنظیموں اور جماعتوں کے سربراہان نہیں کہ ان کی بیعت کی جائے، بلکہ یہ تو تفرقہ بازی ہے، جس سے قرآن حکیم نے منع کیا ہے۔ (صحیحہ: ۹۸۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12145
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15784»
حدیث نمبر: 12146
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي إِنَّهُ سَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَتَكْثُرُ“ قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ ”فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمُ الَّذِي جَعَلَ اللَّهُ لَهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل کی قیادت ان کے انبیاء کرتے تھے، جب ایک نبی فو ت ہوجاتا تو دوسر ا آجاتا، اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، البتہ خلفاء بکثرت ہوں گے۔ صحابہ نے کہا: تو پھر آپ ہمیں ان کے بارے میں کیا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پہلے خلیفہ سے کی گئی بیعت کوپورا کرنا، پھر جو اس کے بعد ہو، اس کی بیعت کو پورا کرنا اوراللہ نے ان کے لیے جو حقوق مقرر کیے ہیں، وہ ادا کرنا، رہا مسئلہ تمہارے حقوق کا تو اللہ تعالیٰ ان سے ان کی رعایا کے بارے میں پوچھے گا۔
وضاحت:
فوائد: … حکمران اور رعایا، ہر ایک کے دوسرے پر حقوق ہیں اور ان حقوق کی ادائیگی کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ دوسرا فریق بھی حقوق پورا کر رہا ہو، اگر حکمران ظالم ہو تو اس کے مقابلے میں عوام کو ظلم کرنے کی اجازت نہیں ہے، بلکہ اس کے ظلم کے باوجود رعایا سے یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اپنے حکمران کے ہر ممکن حق کو پورا کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12146
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 3455، ومسلم: 1842 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7960 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7947»
حدیث نمبر: 12147
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ فَمِيتَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبَتِهِ وَيُقَاتِلُ لِعَصَبَتِهِ وَيَنْصُرُ عَصَبَتَهُ فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا لَا يَتَحَاشَى لِمُؤْمِنِهَا وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدِهَا فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی امام اور حاکم کی اطاعت سے نکل گیا اور مسلمانوں کی جماعت کو چھوڑ گیا اور اسی حالت میں اس کو موت آ گئی تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا، جو اندھا دھند جھنڈے کے نیچے لڑا، جس میں وہ عصبیت کی بنا پر غصے ہوتا ہے اور تعصب کی بنا پر مدد کرتا ہے اور پھر اسی حالت میں قتل ہو جاتا ہے تو اس کا قتل بھی جاہلیت والا ہو گا او رجو آدمی میری امت پر بغاوت کرتے ہوئے نکلا اور نیکوں اور بروں کو مارتا گیا،نہ اس نے اہل ایمان کا لحاظ کیا اور نہ عہد والے کا عہد پورا کیا، اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
وضاحت:
فوائد: … جو آدمی امام کی اطاعت ترک کر دیتاہے، اسلامی جماعت سے دور ہو جاتا ہے اورمسلمانوں کے اتفاق و اتحاد کی مخالفت کرتا ہے اور اسی حالت میں مر جاتا ہے تو وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے، کیونکہ وہ اس وقت بھی شتر بے مہار تھا اور اب بھی ہے۔
اس دور میں خاندانی عصبیت اور قبائلی انانیت عروج پر ہے، اللہ تعالیٰ کے نام پر دوستی و یاری عنقا بن چکی ہے۔ سیاستوں کے چکر ہیں، قومیّتوں کے چکر ہیں، تعلقاتِ قدیمہ کے چکر ہیں، جھوٹی محبتوں کے دعوے ہیں۔ ان چکروں میں پڑ کر اور حق و باطل کو پسِ پشت ڈال کر تیر وکمان کا تبادلہ ہوتا ہے، برس ہا برس قطع تعلقی میں گزر جاتے ہیں، بعض خاندانوں میں عداوت و کدورت وہ مقام حاصل کر چکی ہے کہ شاید اسلام اور کفر کے نام پر بننے والے دشمن اس کے سامنے شرما جائیں۔
قارئین کرام! آؤ اور اسلام کے نام پر جیو، اسی زندگی کو اپنا اعزاز اور منصب ِ انسانی سمجھو۔ حدیث میں باقی بیان کردہ امور واضح ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12147
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1848، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7931»
حدیث نمبر: 12148
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ فَإِنَّهُ مَنْ خَالَفَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ فَمِيتَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ“ وَفِي رِوَايَةٍ ”فَيَمُوتُ إِلَّا مَاتَ مِيتَةَ جَاهِلِيَّةٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے امیر کی طرف سے کوئی ایسی بات دیکھے جواسے اچھی نہ لگے تو وہ صبر کرے، کیونکہ جس نے مسلمانوں کی جماعت کی ایک بالشت بھر بھی مخالفت کی اور اسی حال میں مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12148
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 7054، 7143، ومسلم: 1849 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2487»
حدیث نمبر: 12149
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ وَكَانَ ابْنَ عَمِّ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”خِيَارُ أَئِمَّتِكُمْ مَنْ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ“ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ قَالَ ”لَا مَا أَقَامُوا لَكُمُ الصَّلَاةَ أَلَا وَمَنْ وُلِّيَ عَلَيْهِ أَمِيرٌ وَالٍ فَرَآهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَلْيُنْكِرْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین حکمران وہ ہیں کہ جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں اور تم ان کے حق میں رحمت کی دعائیں کرو اور وہ تمہارے حق میں رحمت کی دعائیں کریں اور تمہارے بد ترین حکمران وہ ہیں کہ جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے بغض رکھیں اور تم ان پر لعنتیں کرو اور وہ تم پر لعنتیں کریں۔ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ایسی صورت حال میں ہم ان سے الگ تھلگ نہ ہوجائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، جب تک وہ نما زکی پابندی کریں، تم ان سے الگ نہیں ہوسکتے، خبردار! تم میں سے کسی پر کوئی آدمی امیر اورحکمران ہو اور وہ اپنے امیر کو اللہ کی معصیت کا کام کرتے ہوئے دیکھے تو وہ اللہ تعالیٰ کی اس معصیت کا انکار کرے اور اس کی اطاعت سے اپنا ہاتھ نہ کھینچے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12149
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1855، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23981 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24481»
حدیث نمبر: 12150
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ طَاعَةِ اللَّهِ مَاتَ وَلَا حُجَّةَ لَهُ وَمَنْ مَاتَ وَقَدْ نَزَعَ يَدَهُ مِنْ بَيْعَةٍ كَانَتْ مِيتَتُهُ مِيتَةَ ضَلَالَةٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ کی اطاعت کے علاوہ کسی اور چیز پر مرا تو وہ اس حال میں مرے گا کہ اس کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہو گی اور جو اس حال میں مرا کہ اس نے بیعت سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہو تو اس کی موت گمراہی کی موت ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12150
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1851، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5897 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5897»
حدیث نمبر: 12151
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ فَقَالَ مَرْحَبًا بِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ضَعُوا لَهُ وِسَادَةً فَقَالَ إِنَّمَا جِئْتُكَ لِأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ نَزَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ مُفَارِقٌ لِلْجَمَاعَةِ فَإِنَّهُ يَمُوتُ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زید بن اسلم اپنے والدسے روایت کرتے ہیں، ان کے والد نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی معیت میں عبداللہ بن مطیع کے ہاں گیا، انہو ں نے کہا: ابو عبدالرحمن کو خوش آمدید، ان کے لیے تکیہ لگاؤ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم کو ایک حدیث سنانے کے لیے حاضر ہوا ہوں، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی اطاعت سے ہاتھ کھینچ لیا، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی اور جو آدمی اس حال میں مرا کہ وہ مسلمانوں کی جماعت سے الگ تھلگ تھا تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12151
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1851 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5551»
حدیث نمبر: 12152
عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا وَفِيهِ ”وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ“ قَالَ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مِنْ بَيْنِ النَّاسِ فَقُلْتُ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أُذُنَيْهِ فَقَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي قَالَ فَقُلْتُ هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَعْنِي يَأْمُرُنَا بِأَكْلِ أَمْوَالِنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ وَأَنْ نَقْتُلَ أَنْفُسَنَا وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ} [النساء: 29] قَالَ فَجَمَعَ يَدَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَلَى جَبْهَتِهِ ثُمَّ نَكَسَ هُنَيَّةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد الرحمن بن عبد ِربّ ِکعبہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے، میں نے ان کو سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں سفر میں تھے، پھر انہو ں نے طویل حدیث بیان کی، اس کا ایک اقتباس یہ تھا: جس نے کسی حکمران کی بیعت کی اور اس سے معاہدہ کیا اور اس کو دل کا پھل دے دیا، تو وہ حسب ِ استطاعت اس کی اطاعت کرے، اگر کوئی دوسرا آدمی آکر اس پہلے حاکم سے اختلا ف کرے تو بعد والے کی گردن اڑادو۔ عبد الرحمن کہتے ہیں: یہ سن کر میں نے اپنا سر لوگوں کے درمیان میں داخل کیا اور کہا: میں تم کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم نے یہ حدیث اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خود سنی ہے؟ انہوں نے اپنے ہاتھوں کے ذریعے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اس حدیث کو میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے اس کو محفوظ کیا۔ عبدالرحمن نے کہا: یہ آپ کا چچازاد بھائی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل اور ناجائز طریقوں سے کھائیں اور ایک دوسرے کو قتل کریں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ} … اے ایمان والو! تم اپنے اموال آپس میں باطل طریقوں سے مت کھاؤ۔ یہ سن کر انہو ں نے اپنے دونوں ہاتھ اکٹھے کیے اور انہیں اپنی پیشانی کے اوپر رکھا اور پھر کچھ دیر سر جھکا کر بیٹھے رہے، پھر کچھ دیر بعد سر اٹھایا اور کہا: اللہ کی اطاعت کا کام ہوتو ان کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کی معصیت اور نافرمانی ہوتو ان کی بات نہ مانو۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر خلیفۃ المسلمین موجود ہوتو ہر صورت میں اس کی بیعت کر کے زندگی گزارنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12152
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1844 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6503 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6503»