کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل اول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 12133
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ثُمَّ يَقُولُ ”فِيمَا اسْتَطَعْتَ“ وَقَالَ مَرَّةً فَيُلَقِّنُ أَحَدَنَا فِيمَا اسْتَطَعْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چیز کی بیعت لیا کرتے تھے کہ حاکم کا حکم سن کر اس کی اطاعت کی جائے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ہی فرما دیتے: جتنی تم میں طاقت اور استطاعت ہو۔ ایک راوی نے کہا: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں لقمہ دیتے اور یادہانی کرا دیتے کہ جتنی تم میں طاقت ہو گی (اس کے مطابق تم حاکم کی اطاعت کرو گے)۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی حاکم کے حکم کی اطاعت اسی وقت تک ہے جب تک آدمی اسے پورا سکتا اور بجا لاسکتا ہو، حاکم کا جو حکم خارج از استطاعت ہو، اس کی اطاعت نہ کی جائے۔
یہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحم دلی ہوتی تھی کہ بیعت میں طاقت اور استطاعت کی شرط لگوا دیتے تھے، تاکہ اگر کسی مجبوری اور شرعی عذر کی وجہ سے کسی شق کو توڑنا پڑ جائے تو بیعت کا معاہدہ برقرار رہے۔
یہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحم دلی ہوتی تھی کہ بیعت میں طاقت اور استطاعت کی شرط لگوا دیتے تھے، تاکہ اگر کسی مجبوری اور شرعی عذر کی وجہ سے کسی شق کو توڑنا پڑ جائے تو بیعت کا معاہدہ برقرار رہے۔
حدیث نمبر: 12134
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فَقَالَ ”فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی کہ ہم حکمران کی بات سنیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن تمہاری استطاعت کے مطابق۔
حدیث نمبر: 12135
(عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ أَخَرَ بِلَفْظِ) قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي هَذِهِ يَعْنِي الْيُمْنَى عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فَقَالَ ”فِيمَا اسْتَطَعْتَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے اس دائیں ہاتھ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی کہ میں حکمران کی بات سنوں گا اور اس کی اطاعت کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن جتنی طاقت، اس کے مطابق۔
حدیث نمبر: 12136
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي عُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَمَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا وَالْأَثَرَةِ عَلَيْنَا وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَنَقُومَ بِالْحَقِّ حَيْثُ كَانَ وَلَا نَخَافَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی کہ ہم مشکل میں اور آسانی میں، چستی میں اور سستی میں اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دئیے جانے کے باوجود حاکم کی بات مانیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے اور حکومت کے معاملے میں حکومت کے افراد سے جھگڑا نہیں کریں گے اور ہم حق کے ساتھ کھڑے ہوں گے، وہ جہاں بھی ہو گا، اور ہم اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کریں گے۔
وضاحت:
فوائد: … احادیث اپنے مفہوم میں واضح ہیں کہ ہر صورت میں وقت کے امیر اور حاکم کی اطاعت کرنا فرض ہے، جب تک وہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتا۔ اس وقت تک اس کی امارت و ملوکیت کو قابل تسلیم اور قابل اطاعت سمجھا جائے جب تک اس میں واضح کفر نظر نہیں آ جاتا۔ اس حدیث کے آخری حصے میں انتہائی اہم نصیحت کی گئی ہے مسلمانوں کو شریعت کے اٹل فیصلوں پر برقرار رہنا چاہئے، ان کے طرزِ حیات میں استقامت اور سنجیدگی ہونی چاہئے، زمان و مکان سے متاثر نہیں ہونا چاہئے، اسی بات کو حق مانا جائے جو شریعت کے ہاں حق ہے اور جہاں بھی اس کے اعلان کی ضرورت پڑے، کسی قسم کی جھجک کے بغیر اس کا اظہار کر دیا جائے۔
حدیث نمبر: 12137
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ سَمِعَهُ مِنْ جَدِّهِ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ قَالَ سُفْيَانُ وَعُبَادَةُ نَقِيبٌ وَهُوَ مِنَ السَّبْعَةِ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ وَلَا نُنَازِعُ الْأَمْرَ أَهْلَهُ (وَفِي رِوَايَةٍ وَإِنْ رَأَيْتَ إِنَّ لَكَ) نَقُولُ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ قَالَ سُفْيَانُ زَادَ بَعْضُ النَّاسِ مَا لَمْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ، جو کہ سات نقباء میں سے ایک تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات پر بیعت کی کہ ہم تنگی اور آسانی میں اور خوشی اور ناخوشی میں حکمران کی بات سنیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے، حکومت کے بارے میں اہل حکومت سے جھگڑ انہیں کر یں گے اور ہم جہاں بھی ہوں گے، حق بات کہیں گے اور اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہیں کریں گے۔ سفیان راوی نے کہا: بعض حضرات نے اس حدیث میں یہ الفاظ زائد روایت کیے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (تم اس وقت تک حکمران کی اطاعت کرنا) جب تک واضح کفر نہ دیکھ لو۔
حدیث نمبر: 12138
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ خَالِدٌ أَحْسِبُهُ ذَكَرَهُ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ سِتًّا ”أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ وَلَا يَعْضِدْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ فَمَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ مِنْهُنَّ حَدًّا فَعُجِّلَ لَهُ عُقُوبَتُهُ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ وَإِنْ أُخِّرَ عَنْهُ فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ رَحِمَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین سے چھ امور کی بیعت لی تھی، اسی طرح ہم سے بھی اتنے امور کی بیعت لی، یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤگے، چوری نہیں کروگے، زنا نہیں کر و گے، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کر و گے، ایک دوسرے سے قطع تعلقی نہیں کرو گے، اور نیکی کے کسی کام میں میری نافرمانی نہیں کرو گے، تم میں سے جس کسی نے کوئی ایسا کام کیا جس پر شرعی حد واجب ہوتی ہو، تو اگر اس کو دنیا میں اس جرم کی سزا مل گئی تو وہ سزا اس کے لیے کفارہ ہوگی اور اگر سزا آخرت تک مؤخر ہوگئی تو اللہ تعالیٰ اس کو عذاب بھی دے سکتا ہے اور معاف بھی کر سکتا ہے، جیسے اس کی مرضی ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بیعت کا اصول ہے کہ لوگوں سے نیک اعمال سرانجام دینے اور برے اعمال سے اجتناب کرنے کی بیعت لی جائے۔ آجکل مخصوص شخصیات کو بیعت کے لیے خاص کر لیا گیا ہے اور جہاں ان کی بیعت کو ضروری سمجھا جاتا ہے، وہاں دوسروں کو ترغیب بھی دی جاتی ہے اور ان لوگوں پر طعن و تشنیع اور سب و شتم کیا جاتا ہے جو اس قسم کی بیعت سے محروم رہتے ہیں، حالانکہ یہ سب کچھ بے سر و پا اور بے حقیقت ہے۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: اس حدیث ِ مبارکہ میں خوارج کا ردّ ہے، جو کبیرہ گناہوں کی وجہ سے اہل توحید کو کافر قرار دیتے ہیں اور معتزلہ کا بھی ردّ ہے، جو توبہ کے بغیر مرنے والے فاسق مسلمان کے لیے سزا کو ضروری قرار دیتے ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ توحید پرست گنہگار کی تعذیب یا عدمِ تعذیب کا مسئلہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہے، وہ چاہے تو سزا دے اور چاہے تو معاف کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ضرور سزا دے گا۔
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا بھی یہی مفہوم ہے: {اِنَّ اللّٰہَ لَایَغْفِرُ اَنْ یُشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَائُ} (سورۂ نسائ: ۴۸، ۱۱۶) … یقینا اللہ تعالیٰ (اس گناہ کو) نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتاہے۔
اللہ تعالیٰ نے شرک اور دوسرے گناہوں کے درمیان فرق کیا ہے، یعنی شرک ناقابل معافی ہے اور دوسرے گناہ اس کی مشیت کے تابع ہیں، وہ ان کو معاف بھی کر سکتا ہے اور ان پر گرفت بھی کر سکتا ہے۔
ضروری ہے کہ اس آیت اور حدیث کو اس شخص پر محمول کیا جائے جو گناہوں سے توبہ کیے بغیر مر گیا ہو، کیونکہ جو آدمی زندگی میں شرک اور دوسرے گناہوں سے توبہ کر لیتا ہے اور اس کی توبہ قبول ہو جاتی ہے تو اسے بخش دیا جائے گا۔
میں اس استدلال کے ذریعے عصرِ حاضر کے ایسے لوگوں کا ردّ کرنا چاہتا ہوں جو کبھی تو کبیرہ گناہوں کی وجہ سے مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں اور کبھی یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ یہ گناہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہو گا اور اگر کوئی مسلمان کبیرہ گناہ کا ارتکاب کر کے توبہ کیے بغیر مر جائے گا، تو اسے ہر صورت میں سزا ہو گی۔
ان لوگوں نے کتاب و سنت کی مخالفت کرتے ہوئے شرک اور اس سے ادنی گناہوں کو اس اعتبار سے برابر قرار دیا ہے کہ دونوں کی وجہ سے عذاب ضروری ہے، میں نے مختلف اوقات اور مجالس میں دلائل کے ساتھ ان لوگوں کا ردّ کیا ہے، بعض نے تو متأثر ہو کر اس عقیدے سے توبہ کر لی اور بہترین سلفی نوجوانوں میں شامل ہو گئے، اللہ تعالیٰ باقیوں کو بھی ہدایت دے۔ (صحیحہ: ۲۹۹۹)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: اس حدیث ِ مبارکہ میں خوارج کا ردّ ہے، جو کبیرہ گناہوں کی وجہ سے اہل توحید کو کافر قرار دیتے ہیں اور معتزلہ کا بھی ردّ ہے، جو توبہ کے بغیر مرنے والے فاسق مسلمان کے لیے سزا کو ضروری قرار دیتے ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ توحید پرست گنہگار کی تعذیب یا عدمِ تعذیب کا مسئلہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہے، وہ چاہے تو سزا دے اور چاہے تو معاف کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ضرور سزا دے گا۔
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا بھی یہی مفہوم ہے: {اِنَّ اللّٰہَ لَایَغْفِرُ اَنْ یُشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَائُ} (سورۂ نسائ: ۴۸، ۱۱۶) … یقینا اللہ تعالیٰ (اس گناہ کو) نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتاہے۔
اللہ تعالیٰ نے شرک اور دوسرے گناہوں کے درمیان فرق کیا ہے، یعنی شرک ناقابل معافی ہے اور دوسرے گناہ اس کی مشیت کے تابع ہیں، وہ ان کو معاف بھی کر سکتا ہے اور ان پر گرفت بھی کر سکتا ہے۔
ضروری ہے کہ اس آیت اور حدیث کو اس شخص پر محمول کیا جائے جو گناہوں سے توبہ کیے بغیر مر گیا ہو، کیونکہ جو آدمی زندگی میں شرک اور دوسرے گناہوں سے توبہ کر لیتا ہے اور اس کی توبہ قبول ہو جاتی ہے تو اسے بخش دیا جائے گا۔
میں اس استدلال کے ذریعے عصرِ حاضر کے ایسے لوگوں کا ردّ کرنا چاہتا ہوں جو کبھی تو کبیرہ گناہوں کی وجہ سے مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں اور کبھی یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ یہ گناہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہو گا اور اگر کوئی مسلمان کبیرہ گناہ کا ارتکاب کر کے توبہ کیے بغیر مر جائے گا، تو اسے ہر صورت میں سزا ہو گی۔
ان لوگوں نے کتاب و سنت کی مخالفت کرتے ہوئے شرک اور اس سے ادنی گناہوں کو اس اعتبار سے برابر قرار دیا ہے کہ دونوں کی وجہ سے عذاب ضروری ہے، میں نے مختلف اوقات اور مجالس میں دلائل کے ساتھ ان لوگوں کا ردّ کیا ہے، بعض نے تو متأثر ہو کر اس عقیدے سے توبہ کر لی اور بہترین سلفی نوجوانوں میں شامل ہو گئے، اللہ تعالیٰ باقیوں کو بھی ہدایت دے۔ (صحیحہ: ۲۹۹۹)
حدیث نمبر: 12139
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ”أَلَا إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَسْرِقُوا“ قَالَ فَمَا أَنَا بِأَشَحَّ عَلَيْهِنَّ مِنِّي إِذْ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سلمہ بن قیس اشجمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: خبردار! یہ چار امور ہیں، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، اللہ نے جس جان کے قتل کرنے کو حرام ٹھہرایا ہے، اسے ناحق قتل نہ کرنا، زنا نہ کرنا اور چوری نہ کرنا۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے جب سے یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہیں، اس وقت سے مجھے ان کی کوئی رغبت اور حرص ہی نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 12140
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ لَا أَخِرَّ إِلَّا قَائِمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کی بیعت کی تھی کہ میں نہیں گروں گا، مگر کھڑے کھڑے ہی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا ایک مفہوم یہ ہے کہ اسلام پر عمل کرتے کرتے مروں گا۔
حدیث نمبر: 12141
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ عَنْ قُطْبَةَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَ بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَتِي الْحَوْصَلَةِ وَكَانَ يُكَنَّى بِأَبِي الْحَوْصَلَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا قطبہ بن قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی بیٹی حوصلہ کی طرف سے بیعت کی تھی۔ ان کی کنیت ابو حوصلہ تھی۔
حدیث نمبر: 12142
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ شَأْنِ ثَقِيفٍ إِذْ بَايَعَتْ فَقَالَ اشْتَرَطَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا صَدَقَةَ عَلَيْهَا وَلَا جِهَادَ وَأَخْبَرَنِي جَابِرٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”سَيَصَّدَّقُونَ وَيُجَاهِدُونَ إِذَا أَسْلَمُوا“ يَعْنِي ثَقِيفًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بنو ثقیف کے بارے میں پوچھا، جب انھوں نے بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا: بنو ثقیف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یہ شرط لگائی تھی کہ نہ ان پر صدقہ ہو گا اور نہ جہاد، پھر ابوزبیر نے کہا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے ان کو یہ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ جب وہ صحیح طور پر مسلمان ہوجائیں گے تو عنقریب صدقہ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت و دانائی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اگر کوئی قبیلہ یا فرد مشرف باسلام تو ہونا چاہتا ہے، لیکن اسلام کے ایک دو اجزا یا شقوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، تو حکمت یہ ہے کہ دونوں گھروں کی مصلحت کا خیال رکھتے ہوئے اس امید پر اس کی شرطیں قبول کر لی جائیں کچھ عرصہ تک ایمان و ایقان میں پختہ ہو کر اسلام کے ہر جزو اور شقّ کو تسلیم کر لے گا، درج ذیل حدیث اور اس کی شرح پر غور کریں: سیدنا فضالہ لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: عَلَّمَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَکَانَ فِیْمَا عَلَّمَنِی أَنْ قَالَ لِی: ((حَافِظْ عَلٰی الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ۔)) فَقُلْتُ: إِنَّ ھٰذِہِ سَاعَاتٌ لِی فِیْھَا أَشْغَالٌ، فَمُرْنِی بِأَمْرٍ جَامِعٍ إِذَا أَنَا فَعَلْتُہٗ أَجْزَأَ عَنِّی، قَالَ: ((حَافِظْ عَلٰی الْعَصْرَیْنِ: صَلَاۃٍ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَصَلَاۃٍ قَبْلَ غُرُوْبِھَا)) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کچھ امور کی تعلیم دی، ان میں سے ایک امر یہ بھی تھا: پانچوں نمازوں کی محافظت کیا کر۔ میں نے کہا: ان گھڑیوں میں تو میں مصروف رہتا ہوں، آپ مجھے کوئی ایسا جامع و مانع حکم دیں کہ میں اس پر عمل کرتا رہوں اور وہ مجھے کفایت کرتا رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو نمازوں یعنی طلوع آفتا ب سے پہلے والی اور غروبِ آفتاب سے پہلے والی نمازوں کی محافظت کرتا رہ۔ (ابوداود: ۴۵۳، صحیحہ: ۱۸۱۳)
کسی آدمی کے دماغ میں یہ نکتہ سرایت نہ کر جائے کہ دو نمازوں پر اکتفا کرنا بھی درست ہے، علمائے حق کے نزدیک اس حدیث کے دو معانی مراد لینا ممکن ہیں: (۱) اس آدمی کو اس کی مصروفیت کی وجہ سے جماعت سے پیچھے رہنے کی رخصت دی گئی تھی، نہ کہ ترکِ نماز کی، امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کی یہی رائے ہے اور (۲)وہ کوئی نو مسلم آدمی تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت نے اس بات کا تقاضا کیا کہ فی الحال اس کو رخصت دی جائے، جب ایمان میں رسوخ پیدا ہو جائے گا تو اس کے لیے پانچ نمازوں کی ادائیگی ممکن ہو جائے گی اور یہی بات اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے کہ جب کوئی مبلّغ کسی بے نمازی کو پانچ نمازوں کی ادائیگی کی تلقین کرتا ہے، لیکن وہ اس بات پر مصرّ ہے کہ وہ صرف دو تین نمازیں پڑھے گا تو اس حدیث کی روشنی میں اسے کہا جا سکتا ہے کہ چلو تم دو تین ہی پڑھتے رہو۔ (واللہ اعلم بالصواب)
درج بالا حدیث کو دیکھا جائے تو دوسرا معنی راجح اور درست معلوم ہوتا ہے: یہ حدیث اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کسی بڑی مصلحت کی خاطر کسی کو عارضی طور پر اسلام کے بعض احکام سے مستثنی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثقیف قبیلہ والے لوگوں کی شرطیں تسلیم نہ کرتے تو ممکن تھا کہ وہ کفر پر اڑے رہتے، جو کہ بہت بڑی مفسدت تھی، اس مفسدت سے تو وہ ناقص اسلام ہی بہتر ہے، جس میں جہاد اور صدقہ نہ ہوں، جبکہ رخصت دینے والے کو یہ امید بھی ہو کہ عنقریب یہ لوگ تمام اسلامی احکام کو تسلیم کر لیں گے۔ یہی معاملہ اس باب کی حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ پانچوں نمازیں نہ پڑھنے سے بہرحال دو ادا کر لینا بہتر ہے، ان دو کے ذریعے آہستہ آہستہ پانچ کا قائل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ قربان جائیے حکیم و دانا پیغمبر کی حکمت و دانائی پر۔
کسی آدمی کے دماغ میں یہ نکتہ سرایت نہ کر جائے کہ دو نمازوں پر اکتفا کرنا بھی درست ہے، علمائے حق کے نزدیک اس حدیث کے دو معانی مراد لینا ممکن ہیں: (۱) اس آدمی کو اس کی مصروفیت کی وجہ سے جماعت سے پیچھے رہنے کی رخصت دی گئی تھی، نہ کہ ترکِ نماز کی، امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کی یہی رائے ہے اور (۲)وہ کوئی نو مسلم آدمی تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت نے اس بات کا تقاضا کیا کہ فی الحال اس کو رخصت دی جائے، جب ایمان میں رسوخ پیدا ہو جائے گا تو اس کے لیے پانچ نمازوں کی ادائیگی ممکن ہو جائے گی اور یہی بات اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے کہ جب کوئی مبلّغ کسی بے نمازی کو پانچ نمازوں کی ادائیگی کی تلقین کرتا ہے، لیکن وہ اس بات پر مصرّ ہے کہ وہ صرف دو تین نمازیں پڑھے گا تو اس حدیث کی روشنی میں اسے کہا جا سکتا ہے کہ چلو تم دو تین ہی پڑھتے رہو۔ (واللہ اعلم بالصواب)
درج بالا حدیث کو دیکھا جائے تو دوسرا معنی راجح اور درست معلوم ہوتا ہے: یہ حدیث اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کسی بڑی مصلحت کی خاطر کسی کو عارضی طور پر اسلام کے بعض احکام سے مستثنی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثقیف قبیلہ والے لوگوں کی شرطیں تسلیم نہ کرتے تو ممکن تھا کہ وہ کفر پر اڑے رہتے، جو کہ بہت بڑی مفسدت تھی، اس مفسدت سے تو وہ ناقص اسلام ہی بہتر ہے، جس میں جہاد اور صدقہ نہ ہوں، جبکہ رخصت دینے والے کو یہ امید بھی ہو کہ عنقریب یہ لوگ تمام اسلامی احکام کو تسلیم کر لیں گے۔ یہی معاملہ اس باب کی حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ پانچوں نمازیں نہ پڑھنے سے بہرحال دو ادا کر لینا بہتر ہے، ان دو کے ذریعے آہستہ آہستہ پانچ کا قائل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ قربان جائیے حکیم و دانا پیغمبر کی حکمت و دانائی پر۔
حدیث نمبر: 12143
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَمْ يَشْعُرْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بِعْنِيهِ“ فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ ”أَعَبْدٌ هُوَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غلام نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت کرنے پر بعیت کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ نہ چل سکا کہ وہ غلام ہے، اتنے میں اس کا مالک اسے لینے کے لیے آگیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا۔ تم یہ غلام مجھے بیچ دو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سیاہ فام غلاموں کے عوض اس کو خریدلیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تک یہ نہ پوچھ لیتے کہ کیا یہ شخص غلام ہے؟ اس وقت تک کسی سے بیعت نہیں لیتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۹۱۴)