کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل چہارم: مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے اور بادشاہ کا اکرام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12129
عَنِ الْبَخْتَرِيِّ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ سَلْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”اثْنَانِ خَيْرٌ مِنْ وَاحِدٍ وَثَلَاثٌ خَيْرٌ مِنِ اثْنَيْنِ وَأَرْبَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ ثَلَاثَةٍ فَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَنْ يَجْمَعَ أُمَّتِي إِلَّا عَلَى هُدًى“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک کی نسبت دو، دو کی نسبت تین اور تین کی نسبت چا ر بہتر ہیں، پس تم جماعت کے ساتھ رہو، اللہ تعالیٰ میری امت کو ہدایت کے سوا دوسرے کسی کا م پر ہرگز جمع نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 12130
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ خَالَفَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمانوں کی جماعت کی ایک بالشت بھر بھی مخالفت کی، اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے اتار پھینکی۔
حدیث نمبر: 12131
وَعَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ انْطَلَقْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ لَيَالِيَ سَارَ النَّاسُ إِلَى عُثْمَانَ فَقَالَ يَا رِبْعِيُّ مَا فَعَلَ قَوْمُكَ قَالَ قُلْتُ عَنْ أَيِّ بَالِهِمْ تَسْأَلُ قَالَ مَنْ خَرَجَ مِنْهُمْ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فَسَمَّيْتُ رِجَالًا فِيمَنْ خَرَجَ إِلَيْهِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَاسْتَذَلَّ الْإِمَارَةَ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا وَجْهَ لَهُ عِنْدَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ربعی بن حراش کہتے ہیں: جن ایام میں لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مخالفت میں بغاوت کر کے ان کی طرف روانہ ہوئے تو میں انہی راتوں میں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں مدائن گیا، انہو ں نے مجھ سے کہا: ربعی! تمہاری قوم نے کیا کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ ان کے کس فعل کے بارے میں پوچھ رہے ہیں؟ انہو ں نے کہا: کون لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف گئے ہیں؟ سو میں نے جانے والوں میں سے کچھ افراد کے نام ذکر کر دئیے، انہو ں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کی اور امارت و حکومت کو ذلیل کرنے کی کوشش کی، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں جا کر ملے گا کہ اللہ کے ہاں اس کی کوئی توقیر نہیں ہو گی۔
حدیث نمبر: 12132
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ أَكْرَمَ سُلْطَانَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الدُّنْيَا أَكْرَمَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ أَهَانَ سُلْطَانَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الدُّنْيَا أَهَانَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی دنیا میں اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے بادشاہ کا اکرام کرے، اللہ قیامت کے دن اس کا اکرام کرے گا اور جس نے دنیا میں اللہ کے بنائے ہوئے بادشاہ کی توہین و تذلیل کی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ذلیل ورسوا کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … بادشاہ کی عزت اور بے عزتی عام آدمی کی عزت اور بے عزتی کی بہ نسبت زیادہ اہمیت رکھتی ہے، ہر صاحب ِ عزت اس چیز کو محسوس کرتا ہے، اس لیے حکمرانوں کے ساتھ وہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے، جو عوام الناس کے ساتھ اختیار کیا جاتا ہے، اسی قسم کی ایک درج ذیل مثال پر غور کریں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَقِیْلُوْا ذَوِيْ الْھَیْئَاتِ عَثَرَاتِھِمْ اِلَّا الْحُدُوْدَ۔)) … صاحب ِ حیثیت لوگوں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو، مگریہ کہ وہ حدود ہوں۔ (ابو دواد: ۴۳۷۵، صحیحہ: ۶۳۸)
دنیا کا ہر وہ معاشرہ جس کو تہذیب و شائستگی سے ادنی سا تعلق بھی رہا ہو، اپنے اندر موجود باوقار، شریف النفس اور رذائل سے دور رہنے والے افراد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کی چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں اور فرو گذاشتوں کو نظر انداز کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ کیونکہ شریعت کا مقصد تربیت کرنا ہے، تربیت کے لیے ضروری نہیں کہ زجر و توبیخ سے ہی کام لیا جائے یا تعزیر ہی لگائی جائے، کیونکہ بعض صاحب ِ حیثیت لوگوں کو شرم دلانے کے لیے اور آئندہ ایسے جرائم سے محفوظ کرنے کے لیے یہی کافی ہوتا ہے کہ لوگوں پر ان کا پول کھل جائے، جبکہ عام لوگوں کو سمجھانے کیلیے یہ کلیہ کافی نہیں ہے۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں اسی اخلاقی خوبی کو سراہنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، ہاں اگر جرم کی نوعیت حدود اللہ کی پامالی تک جا پہنچتی ہے تو پھر قانون مساوات سب کے لیے ہے۔
دنیا کا ہر وہ معاشرہ جس کو تہذیب و شائستگی سے ادنی سا تعلق بھی رہا ہو، اپنے اندر موجود باوقار، شریف النفس اور رذائل سے دور رہنے والے افراد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کی چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں اور فرو گذاشتوں کو نظر انداز کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ کیونکہ شریعت کا مقصد تربیت کرنا ہے، تربیت کے لیے ضروری نہیں کہ زجر و توبیخ سے ہی کام لیا جائے یا تعزیر ہی لگائی جائے، کیونکہ بعض صاحب ِ حیثیت لوگوں کو شرم دلانے کے لیے اور آئندہ ایسے جرائم سے محفوظ کرنے کے لیے یہی کافی ہوتا ہے کہ لوگوں پر ان کا پول کھل جائے، جبکہ عام لوگوں کو سمجھانے کیلیے یہ کلیہ کافی نہیں ہے۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں اسی اخلاقی خوبی کو سراہنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، ہاں اگر جرم کی نوعیت حدود اللہ کی پامالی تک جا پہنچتی ہے تو پھر قانون مساوات سب کے لیے ہے۔