کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان
حدیث نمبر: 12125
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي هَذِهِ فَحَمَلَهَا فَرُبَّ حَامِلِ الْفِقْهِ فِيهِ غَيْرُ فَقِيهٍ وَرُبَّ حَامِلِ الْفِقْهِ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ صَدْرُ مُسْلِمٍ إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمُنَاصَحَةُ أُولِي الْأَمْرِ وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس بندے کو ترو تازہ اور خوش و خرم رکھے ، جس نے میری حدیث سن کر اسے دوسرے تک پہنچایا ، فقہی اور علمی بات کو لے جانے والے بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں ، جو خود فقیہ نہیں ہوتے اور کئی لوگ اپنے سے زیادہ فقیہ تک احادیث کو پہنچاتے ہیں ، تین باتیں ایسی ہیں ، جن پر مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا ، خالص اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کرنا ، حکمرانوں کی خیر خواہی کرنا اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا ، مسلمانوں کی دعا دوسرے مسلمانوں کو گھیر کر رکھتی ہے ۔
وضاحت:
فوائد: … حکمرانوں کے لیے خیرخواہی یہ ہے کہ امورِ حق میں ان کی اطاعت کی جائے اور ان کی بغاوت نہ کی جائے۔
تین باتیں ایسی ہیں، جن پر مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا اس سے مراد یہ ہے کہ ان تین امور سے دلوں کی اصلاح ہوتی ہے، جس شخص نے ان تین امور کو اپنایا، اس کا دل خیانت اور شرّ سے پاک ہو گیا۔
خیانت نہ کرنے کامفہوم یہ ہے کہ مومن دیانتدار کے ساتھ حدیث میں مذکور امور سر انجام دیتا ہے اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتتا اگر یہ لفظ یَفِلُ پڑحا جائے جو کہ وغول سے ہے، جس کا معنی داخل ہونا ہے تو پھر اس کا معنی یہ ہے کہ ان مذکورہ امور سے دلوں کی اصلاح ہوتی ہے اور مومن ان کاموں کو سر انجام دے کر شرور سے بچ جاتا ہے جیسا کہ فوائد کے تحت بیان ہوا۔ (دیکھیں بلوغ الامانی اور نہایۃ ابن اثیر) (عبداللہ رفیق)
تین باتیں ایسی ہیں، جن پر مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا اس سے مراد یہ ہے کہ ان تین امور سے دلوں کی اصلاح ہوتی ہے، جس شخص نے ان تین امور کو اپنایا، اس کا دل خیانت اور شرّ سے پاک ہو گیا۔
خیانت نہ کرنے کامفہوم یہ ہے کہ مومن دیانتدار کے ساتھ حدیث میں مذکور امور سر انجام دیتا ہے اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتتا اگر یہ لفظ یَفِلُ پڑحا جائے جو کہ وغول سے ہے، جس کا معنی داخل ہونا ہے تو پھر اس کا معنی یہ ہے کہ ان مذکورہ امور سے دلوں کی اصلاح ہوتی ہے اور مومن ان کاموں کو سر انجام دے کر شرور سے بچ جاتا ہے جیسا کہ فوائد کے تحت بیان ہوا۔ (دیکھیں بلوغ الامانی اور نہایۃ ابن اثیر) (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 12126
حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ قَالَا حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ قَالَ مُحَمَّدٌ عَنِ الْقَاسِمِ وَقَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ رَجُلٍ قَالَ كُنَّا قَدْ حَمَلْنَا لِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ شَيْئًا نُرِيدُ أَنْ نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ فَأَتَيْنَا الرَّبَذَةَ فَسَأَلْنَا عَنْهُ فَلَمْ نَجِدْهُ قِيلَ اسْتَأْذَنَ فِي الْحَجِّ فَأُذِنَ لَهُ فَأَتَيْنَاهُ بِالْبَلْدَةِ وَهِيَ مِنًى فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ قِيلَ لَهُ إِنَّ عُثْمَانَ صَلَّى أَرْبَعًا فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَبِي ذَرٍّ وَقَالَ قَوْلًا شَدِيدًا وَقَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ثُمَّ قَامَ أَبُو ذَرٍّ فَصَلَّى أَرْبَعًا فَقِيلَ لَهُ عِبْتَ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ شَيْئًا ثُمَّ صَنَعْتَ قَالَ الْخِلَافُ أَشَدُّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَقَالَ ”إِنَّهُ كَائِنٌ بَعْدِي سُلْطَانٌ فَلَا تُذِلُّوهُ فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُذِلَّهُ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ وَلَيْسَ بِمَقْبُولٍ مِنْهُ تَوْبَةٌ حَتَّى يَسُدَّ ثُلْمَتَهُ الَّتِي ثَلَمَ وَلَيْسَ بِفَاعِلٍ“ ثُمَّ يَعُودُ فَيَكُونُ فِيمَنْ يُعِزُّهُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَغْلِبُونَا عَلَى ثَلَاثٍ أَنْ نَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَنُعَلِّمَ النَّاسَ السُّنَنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
قاسم بن عوف شیبانی، ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، اس نے کہا:ہم ابوذر کو کوئی چیز بطور ہدیہ دینا چاہتے تھے، ہم وہ اٹھا کر لے گئے اور ربذہ مقام میں پہنچے، جب ہم نے ان کے متعلق دریافت کیا تو بتلایا گیا کہ انہوں نے حج کے لیے جانے کی اجازت مانگی تھی اور انہیں مل گئی تھی، پھر ہم منیٰ میں ان سے ملے، ہم ان کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ان کو بتایا گیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مِنی میں چاررکعت پڑھی ہے، یہ بات ابوذر رضی اللہ عنہ پر بہت گراں گزری اور انہوں نے سخت باتیں کہہ دیں اور پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یہاں نماز پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھی تھیں، میں نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ یہاں مِنی میں نماز پڑھی ہے (انھوں نے بھی دو رکعتیں پڑھائی ہیں)، اس کے بعد سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر چار رکعات پڑھیں۔ کسی نے ان سے کہا کہ تم نے جس با ت کو امیر المومنین کے لیے معیوب سمجھا ہے، اس پر خود عمل کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا: اختلاف کرنا بہت برا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ میرے بعد ایک بادشاہ آئے گا، تم اسے رسوا نہ کرنا، جس نے اسے رسواکرنے کا ارادہ کیا، اس نے اسلام کی رسی کو اپنی گردن سے اتار پھینکا، اور اس کی توبہ اس وقت تک قبول نہ ہوگی، جب تک اس کی ڈالی ہوئی دراڑ ختم نہ ہو گی، مگر وہ ایسا نہ کرسکے گا۔ یعنی اپنی ڈالی ہوئی دراڈ کو پر نہ کر سکے گا۔ اس کے بعد وہ اس بادشاہ کی عزت کرے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ یہ حکمران تین باتوں میں ہم پر غالب نہ آجائیں یعنی وہ ہمیں ان تین کاموں سے روک نہ سکیں، بلکہ ہم یہ کام برابر کرتے رہیں۔ امر بالمعروف، نہی عن المنکر او رلوگوں کو سنتوں کی تعلیم دینا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا منی میں پوری نماز ادا کرنا، نماز کے ابواب میں اس کی وجوہات بیان کی جا چکی ہیں۔
حدیث نمبر: 12127
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ قَالَ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْجُوبُ الْبَصَرِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ قَالَ لِي مَنْ أَنْتَ فَقُلْتُ أَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ قَالَ فَمَا فَعَلَ وَالِدُكَ قَالَ قُلْتُ قَتَلَتْهُ الْأَزَارِقَةُ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْأَزَارِقَةَ لَعَنَ اللَّهُ الْأَزَارِقَةَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كِلَابُ النَّارِ قَالَ قُلْتُ الْأَزَارِقَةُ وَحْدَهُمْ أَمِ الْخَوَارِجُ كُلُّهَا قَالَ بَلَى الْخَوَارِجُ كُلُّهَا قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ السُّلْطَانَ يَظْلِمُ النَّاسَ وَيَفْعَلُ بِهِمْ قَالَ فَتَنَاوَلَ يَدِي فَغَمَزَهَا بِيَدِهِ غَمْزَةً شَدِيدَةً ثُمَّ قَالَ وَيْحَكَ يَا ابْنَ جُمْهَانَ عَلَيْكَ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ عَلَيْكَ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ إِنْ كَانَ السُّلْطَانُ يَسْمَعُ مِنْكَ فَأْتِهِ فِي بَيْتِهِ فَأَخْبِرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فَإِنْ قَبِلَ مِنْكَ وَإِلَّا فَدَعْهُ فَإِنَّكَ لَسْتَ بِأَعْلَمَ مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سعید بن جمہان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ نابینا ہوچکے تھے، میں نے سلام کہا، انہوں نے مجھ سے پوچھا، تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں سعید بن جمہان ہوں، انہو ں نے کہا: تمہارے والد کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا؟ میں نے کہا: ازارقہ نے اسے قتل کر ڈالا۔ انھوں نے کہا: اللہ، ازارقہ پر لعنت کرے، اللہ ازارقہ پر لعنت کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے بیان فرمایا تھا کہ یہ لوگ جہنم کے کتے ہیں۔ میں نے پوچھا: صرف ازارقہ یا سارے خوارج؟ انہو ں نے کہا: سارے خوارج۔ میں نے کہا: بادشاہ لوگوں پر ظلم ڈھاتا ہے اور کچھ اچھے کام بھی کرتا ہے، (اس کے بارے میں کیا کہنا یا کرنا چاہیے)؟ انہو ں نے میرا ہاتھ پکڑ کر زور سے دبایا اور پھر کہا: اے ابن جمہان! تم پر افسوس، تم سوا داعظم یعنی بڑے لشکر کے ساتھ رہنا، اگر بادشاہ تمہاری بات سنتا ہو تو اس کے گھر میں اس کے پاس جا کر جو کچھ تم جانتے ہو، اس کو بتلا دینا، اگر وہ آپ کی بات مان لے تو بہتر، ورنہ رہنے دینا، کیونکہ تم اس سے زیادہ نہیں جانتے۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۱۲۸۲۲) والے باب میں خوارج کی تفصیل آ رہی ہے
حدیث نمبر: 12128
وَعَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ وَغَيْرِهِ قَالَ جَلَدَ عِيَاضُ بْنُ غَنْمٍ صَاحِبَ دَارٍ حِينَ فُتِحَتْ فَأَغْلَظَ لَهُ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ الْقَوْلَ حَتَّى غَضِبَ عِيَاضٌ ثُمَّ مَكَثَ لَيَالِيَ فَأَتَاهُ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ هِشَامٌ لِعِيَاضٍ أَلَمْ تَسْمَعِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا أَشَدَّهُمْ عَذَابًا فِي الدُّنْيَا لِلنَّاسِ“ فَقَالَ عِيَاضُ بْنُ غَنْمٍ يَا هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ قَدْ سَمِعْنَا مَا سَمِعْتَ وَرَأَيْنَا مَا رَأَيْتَ أَوَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْصَحَ لِسُلْطَانٍ بِأَمْرٍ فَلَا يُبْدِهِ عَلَانِيَةً وَلَكِنْ لِيَأْخُذْ بِيَدِهِ فَيَخْلُوَ بِهِ فَإِنْ قَبِلَ مِنْهُ فَذَاكَ وَإِلَّا كَانَ قَدْ أَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ لَهُ“ وَإِنَّكَ يَا هِشَامُ لَأَنْتَ الْجَرِيءُ إِذْ تَجْتَرِئُ عَلَى سُلْطَانِ اللَّهِ فَهَلَّا خَشِيتَ أَنْ يَقْتُلَكَ السُّلْطَانُ فَتَكُونَ قَتِيلَ سُلْطَانِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
شریح بن عبید حضرمی وغیرہ سے مروی ہے کہ ایک علاقہ فتح ہوا اور سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے ایک گھر کے مالک کی پٹائی کردی، سیدنا ہشام بن حکیم بن حزام نے ان کو سخت قسم کی باتیں کہہ دیں، عیاض رضی اللہ عنہ ناراض ہوگئے، کچھ دنوں کے بعد سیدنا ہشام بن حکیم نے آکر معذرت کی، پھر سیدنا ہشام نے عیاض رضی اللہ عنہ سے کہا:کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا، جو دنیا میں لوگوں کو سخت عذاب دیتے ہیں۔ سیدناعیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے کہا: ہشام! جو کچھ تم نے سنا، وہ ہم بھی سن چکے ہیں اور جو کچھ تم نے دیکھا، وہ ہم بھی دیکھ چکے ہیں۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی بادشاہ کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا ارادہ کرے، وہ لوگوں کے سامنے کچھ نہ کہے، بلکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر خلوت میں لے جائے، اگر وہ حکمران اس کی بات کو قبول کر لے تو بہتر، ورنہ اس آدمی نے اپنا فریضہ ادا کر دیا۔ اے ہشام! تم بڑے جرأت مند ہو،کیونکہ تم نے تو اللہ کے سلطان پر جرأت کی ہے، کیا تمہیں اس بات سے ڈر نہیں لگتا کہ اللہ تعالیٰ کا بادشاہ تم کو قتل کر دے اور اس طرح تم اللہ کے بادشاہ کے مقتول بن جاؤ۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکمران کو سمجھانے کا بڑا خوبصورت طریقہ بیان کیا ہے، راوی نے اس طریقہ کو نہ اپنانے کا انجام بھی بیان کر دیا ہے۔