کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل دوم: اللہ کی نافرمانی کی صورت میں کسی انسان کی اطاعت نہیں ہے
حدیث نمبر: 12115
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا طَاعَةَ لِبَشَرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی معصیت ہوتو کسی بھی انسان کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔
حدیث نمبر: 12116
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی معصیت ہوتی ہو تو مخلوق کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔
وضاحت:
فوائد: … اصل کلیہ اور ضابطہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کی جائے اور ان دونوں کی نافرمانی سے بچا جائے، کوئی تیسری ہستی ایسی نہیں ہے کہ فرمانبرداری و نافرمانی کے سلسلے میں جس کی حیثیت مستقل بالذات ہے۔
دیکھیں: حدیث نمبر (۳۲۹)
دیکھیں: حدیث نمبر (۳۲۹)
حدیث نمبر: 12117
وَعَنْهُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ فَلَمَّا خَرَجُوا قَالَ وَجَدَ عَلَيْهِمْ فِي شَيْءٍ فَقَالَ لَهُمْ أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُطِيعُونِي قَالَ قَالُوا بَلَى قَالَ فَقَالَ اجْمَعُوا حَطَبًا ثُمَّ دَعَا بِنَارٍ فَأَضْرَمَهَا فِيهِ ثُمَّ قَالَ عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ لَتَدْخُلُنَّهَا قَالَ فَهَمَّ الْقَوْمُ أَنْ يَدْخُلُوهَا قَالَ فَقَالَ لَهُمْ شَابٌّ مِنْهُمْ إِنَّمَا فَرَرْتُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّارِ فَلَا تَعْجَلُوا حَتَّى تَلْقَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ أَمَرَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوهَا فَادْخُلُوا قَالَ فَرَجَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ لَهُمْ ”لَوْ دَخَلْتُمُوهَا مَا خَرَجْتُمْ مِنْهَا أَبَدًا إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جہادی لشکر روانہ کیااور ایک نصاری کو ان پر امیر مقر ر فرمایا، وہ کسی بات پر اپنے لشکر سے ناراض ہوگیا، اس نے ان سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں میری اطاعت کرنے کا حکم نہیں دیا ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں،دیا ہے، پس اس نے کہا: لکڑیاں جمع کرو، پھر اس نے آگ منگوا کر ان کو آگ لگا دی اور کہا:میں تم لوگوں کو تاکیدی حکم دیتا ہو ں کہ تم اس آگ میں کود جاؤ، بعض لوگوں نے تو واقعی آگ میں گھس جانے کا ارادہ کر لیا، اتنے میں ان میں سے ایک نوجوان نے کہا: تم آگ سے بچنے کے لیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آئے ہو، لہٰذا جلدبازی نہ کرو، پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تو مل لو، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگ میں داخل ہونے کا حکم ہی دیا تو داخل ہوجانا، پس جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارا ماجرہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تم آگ میں داخل ہوجاتے تو کبھی بھی اس سے نہ نکل سکتے، اطاعت صرف جائز کا م میں ہوتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … کوئی اعلی ہو یا ادنی، حاکم ہو یا محکوم، جس کی بات بھی قرآن و حدیث کے مخالف ہو گی، اس کی کوئی اطاعت نہیں کی جائے گی۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: یہ حدیث ِ مبارکہ کئی فوائد پر مشتمل ہے، ایک فائدہ یہ ہے: اللہ تعالیٰ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیںکی جا سکتی، وہ امراء و حکام ہوں یا علماء و مشائخ۔ معلوم ہوا کہ درج ذیل تین گروہ گمراہ ہیں: (پہلا گروہ) … بعض صوفی منش لوگ اپنے پیروں اور شیخوں کی تقلید کرتے ہیں، اگرچہ وہ ان کو واضح نافرمانی کا حکم دیں، ان کی دلیل یہ ہے کہ وہ درحقیقت نافرمانی نہیں ہوتی، کیونکہ شیخ کی علم و معرفت کی سطح مرید سے کہیں زیادہ ہوتی ہے اور جو کچھ شیخ دیکھتا ہے، وہ مرید کو نظر نہیں آ رہا ہوتا۔
میں ایک ایسے ہی شیخ کو جانتا ہوں، وہ اپنے آپ کو مرشد سمجھتا ہے، وہ ایک دن مسجد میں اپنے مریدوں کے سامنے ایک قصہ بیان کر رہا تھا، جس کا خلاصہ یہ ہے: ایک صوفی شیخ نے ایک رات اپنے مرید کو حکم دیا کہ وہ اپنے باپ کو قتل کر کے آئے، جو اِس وقت بستر پر اپنی بیوی کے ساتھ لیٹا ہوا تھا، سو اس نے اپنے باپ کو قتل کر دیا اور اس بات پر خوش تھا کہ اس نے اپنے شیخ کے حکم کی تعمیل کی ہے۔ جب شیخ نے اس کی طرف دیکھا تو پوچھا: کیا تو اس گمان میں ہے کہ تو نے اپنے حقیقی باپ کو قتل کر دیا؟ نہیں،نہیں۔ وہ تو تیری ماں کا یار تھا، تیرا باپ تو گھر پر موجود ہی نہ تھا۔
اس نے قصہ بیان کر کے اس سے بزعم خودایک شرعی حکم کا استدلال کرتے ہوئے کہا: جب کوئی شیخ اپنے مرید کو ایسا حکم دے،جو شریعت کے مخالف ہو، تو مرید کو چاہیے کہ وہ اس کی پاسداری کرے۔ تم لوگ دیکھتے نہیں کہ اس شیخ نے اپنے مرید سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنے باپ کو قتل کر کے آئے۔ دراصل وہ اسے اس کی ماں کے ساتھ زناکرنے والے کو قتل کرنے کا حکم دے رہا تھا اور وہ شرعاً قتل کا ہی مستحق تھا۔
قارئین کرام! غور فرمائیں کہ اس قصہ کے باطل ہونے کی کئی وجوہات ہیں، مثال کے طور پر: (اول) … حدّ نافذ کرنا شیخ کا حق نہیں ہے، وہ کتنا عظیم ہی کیوں نہ ہو، یہ امیر یا والی کا حق ہے۔
(دوم) … اگر اس شیخ کو نفاذِ حدّ کا حق تھا تو اس نے عورت پر حدّ کیوں نہ لگائی؟ کیونکہ وہ دونوں اس برائی میں برابر کے مجرم اور برابر کے سزا کے حقدار تھے۔
(سوم) … شادی شدہ زانی کی حد رجم یعنی پتھروں سے سنگسار کرنا ہے، نہ کہ صرف قتل۔
واضح ہوا کہ شیخ نے کئی طرح سے شریعت کی مخالفت کی، یہی معاملہ اِ س مرشد کا ہے، جو اس قصے کو بنیاد بنا کر شیخ کی تقلید کو واجب قرار دے رہا ہے، اگرچہ یہ قصہ شریعت کے مخالف ہے۔
اِس مرشد نے اپنے باطل بیان کے دوران مریدوں سے یہ بات بھی کہی تھی کہ اگر تم اپنے شیخ کی گردن میں صلیب دیکھو تو تم اس پر اعتراض کرنے کا کوئی جواز نہیں رکھتے۔
اگرچہ یہ کلام واضح طور پر باطل ہے اور شرع اور عقل کے مخالف ہے، لیکن اس کے باوجود بااعتماد نوجوانوں سمیت بعض لوگوں پر اس کا جادو چل جاتا ہے۔
اسی قسم کے ایک مرید کے ساتھ اس قصہ کے موضوع پر میرا مباحثہ ہونے لگا، اس نے یہ سارا واقعہ اور اس سے کیا جانے والا استدلال اپنے مرشد سے سنا ہوا تھا۔ اس کے خیال کے مطابق یہ اس شیخ کی کرامت تھی اور اس کا اس قصے کے صحیح ہونے پر مکمل اعتماد تھا۔ اس نے مجھے کہا: تم لوگ کرامتوں کا انکار کرتے ہو۔ لیکن جب میں نے اسے کہا: اگر تیرا شیخ تجھے یہ حکم دے کہ تو اپنے والدین کو قتل کر دے تو کیا اس کی اطاعت کرے گا؟ اس نے کہا: میں ابھی تک اس مقام تک نہیں پہنچا۔
ستیاناس ہو اس قیادت کا، کہ جس سے لوگوں کے عقل ماؤف ہو جاتے ہیں اور وہ ضلالت و گمراہی میں پھنسے ہوئے شیخوں کے اس قدر تابع نظر آتے ہیں۔
(دوسرا گروہ) … مقلدین کا گروہ، جو اپنے امام کے قول کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث پر ترجیح دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب کسی مقلِّد سے کہا جاتا ہے کہ اقامت ہو جانے کے بعد فجر کی سنتیں نہ پڑھا کرو، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، تو وہ اس حدیث کی اطاعت نہیںکرے گا، بلکہ یوں لب کشائی کرے گا: ہمارے مذہب میں جائز ہے۔ اسی طرح جب (حنفی) مقلدوں سے کہا جاتا ہے کہ حلالہ والا نکاح باطل ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کرنے والے پر لعنت کی ہے، تو وہ جواب دے گا: نہیں، نہیں۔ بلکہ فلاں فلاں مذہب کے مطابق جائز ہے۔ اسی طرح کے سینکڑوں مسائل ہیں۔
اکثر محقق علماء و فقہاء کا یہ خیال ہے کہ اس قسم کے مقلد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مصداق ہیں: {اِتَّخَذُوْا أَحْبَارَھُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ} (سورۂ توبہ: ۳۱) … ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو ربّ بنایا ہے۔ فخر الرازی نے اپنے تفسیر میں اس کی خوب وضاحت کی ہے۔
(تیسرا گروہ) … وہ لوگ، جو اپنے حکمرانوں کے وضع کردہ ان قوانین و ضوابط کی پیروی کرتے ہیں، جو شریعت کے مخالف ہوتے ہیں، جیسے کیمونزم اور اس کے ملتے جلنے نظام۔ اور ان سے بدتر وہ لوگ ہیں، جو شریعت کے ان مخالف امور کو شریعت سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ ایسی مصیبت ہے جس نے عصرِ حاضر کے علم و اصلاح کے دعویداروں کا گھیراؤ کر لیا ہے اور عوام کو ان سے بڑا دھوکہ ہوا ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ یہ پیروکار اپنے قائدین سمیت اس آیت کا مصداق بنتے ہیں: {اِتَّخَذُوْا أَحْبَارَھُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ} (سورۂ توبہ: ۳۱) … ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو ربّ بنایا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے حمایت و حفاظت اور سلامتی کا سوال کرتے ہیں۔ (صحیحہ: ۱۸۱)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: یہ حدیث ِ مبارکہ کئی فوائد پر مشتمل ہے، ایک فائدہ یہ ہے: اللہ تعالیٰ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیںکی جا سکتی، وہ امراء و حکام ہوں یا علماء و مشائخ۔ معلوم ہوا کہ درج ذیل تین گروہ گمراہ ہیں: (پہلا گروہ) … بعض صوفی منش لوگ اپنے پیروں اور شیخوں کی تقلید کرتے ہیں، اگرچہ وہ ان کو واضح نافرمانی کا حکم دیں، ان کی دلیل یہ ہے کہ وہ درحقیقت نافرمانی نہیں ہوتی، کیونکہ شیخ کی علم و معرفت کی سطح مرید سے کہیں زیادہ ہوتی ہے اور جو کچھ شیخ دیکھتا ہے، وہ مرید کو نظر نہیں آ رہا ہوتا۔
میں ایک ایسے ہی شیخ کو جانتا ہوں، وہ اپنے آپ کو مرشد سمجھتا ہے، وہ ایک دن مسجد میں اپنے مریدوں کے سامنے ایک قصہ بیان کر رہا تھا، جس کا خلاصہ یہ ہے: ایک صوفی شیخ نے ایک رات اپنے مرید کو حکم دیا کہ وہ اپنے باپ کو قتل کر کے آئے، جو اِس وقت بستر پر اپنی بیوی کے ساتھ لیٹا ہوا تھا، سو اس نے اپنے باپ کو قتل کر دیا اور اس بات پر خوش تھا کہ اس نے اپنے شیخ کے حکم کی تعمیل کی ہے۔ جب شیخ نے اس کی طرف دیکھا تو پوچھا: کیا تو اس گمان میں ہے کہ تو نے اپنے حقیقی باپ کو قتل کر دیا؟ نہیں،نہیں۔ وہ تو تیری ماں کا یار تھا، تیرا باپ تو گھر پر موجود ہی نہ تھا۔
اس نے قصہ بیان کر کے اس سے بزعم خودایک شرعی حکم کا استدلال کرتے ہوئے کہا: جب کوئی شیخ اپنے مرید کو ایسا حکم دے،جو شریعت کے مخالف ہو، تو مرید کو چاہیے کہ وہ اس کی پاسداری کرے۔ تم لوگ دیکھتے نہیں کہ اس شیخ نے اپنے مرید سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنے باپ کو قتل کر کے آئے۔ دراصل وہ اسے اس کی ماں کے ساتھ زناکرنے والے کو قتل کرنے کا حکم دے رہا تھا اور وہ شرعاً قتل کا ہی مستحق تھا۔
قارئین کرام! غور فرمائیں کہ اس قصہ کے باطل ہونے کی کئی وجوہات ہیں، مثال کے طور پر: (اول) … حدّ نافذ کرنا شیخ کا حق نہیں ہے، وہ کتنا عظیم ہی کیوں نہ ہو، یہ امیر یا والی کا حق ہے۔
(دوم) … اگر اس شیخ کو نفاذِ حدّ کا حق تھا تو اس نے عورت پر حدّ کیوں نہ لگائی؟ کیونکہ وہ دونوں اس برائی میں برابر کے مجرم اور برابر کے سزا کے حقدار تھے۔
(سوم) … شادی شدہ زانی کی حد رجم یعنی پتھروں سے سنگسار کرنا ہے، نہ کہ صرف قتل۔
واضح ہوا کہ شیخ نے کئی طرح سے شریعت کی مخالفت کی، یہی معاملہ اِ س مرشد کا ہے، جو اس قصے کو بنیاد بنا کر شیخ کی تقلید کو واجب قرار دے رہا ہے، اگرچہ یہ قصہ شریعت کے مخالف ہے۔
اِس مرشد نے اپنے باطل بیان کے دوران مریدوں سے یہ بات بھی کہی تھی کہ اگر تم اپنے شیخ کی گردن میں صلیب دیکھو تو تم اس پر اعتراض کرنے کا کوئی جواز نہیں رکھتے۔
اگرچہ یہ کلام واضح طور پر باطل ہے اور شرع اور عقل کے مخالف ہے، لیکن اس کے باوجود بااعتماد نوجوانوں سمیت بعض لوگوں پر اس کا جادو چل جاتا ہے۔
اسی قسم کے ایک مرید کے ساتھ اس قصہ کے موضوع پر میرا مباحثہ ہونے لگا، اس نے یہ سارا واقعہ اور اس سے کیا جانے والا استدلال اپنے مرشد سے سنا ہوا تھا۔ اس کے خیال کے مطابق یہ اس شیخ کی کرامت تھی اور اس کا اس قصے کے صحیح ہونے پر مکمل اعتماد تھا۔ اس نے مجھے کہا: تم لوگ کرامتوں کا انکار کرتے ہو۔ لیکن جب میں نے اسے کہا: اگر تیرا شیخ تجھے یہ حکم دے کہ تو اپنے والدین کو قتل کر دے تو کیا اس کی اطاعت کرے گا؟ اس نے کہا: میں ابھی تک اس مقام تک نہیں پہنچا۔
ستیاناس ہو اس قیادت کا، کہ جس سے لوگوں کے عقل ماؤف ہو جاتے ہیں اور وہ ضلالت و گمراہی میں پھنسے ہوئے شیخوں کے اس قدر تابع نظر آتے ہیں۔
(دوسرا گروہ) … مقلدین کا گروہ، جو اپنے امام کے قول کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث پر ترجیح دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب کسی مقلِّد سے کہا جاتا ہے کہ اقامت ہو جانے کے بعد فجر کی سنتیں نہ پڑھا کرو، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، تو وہ اس حدیث کی اطاعت نہیںکرے گا، بلکہ یوں لب کشائی کرے گا: ہمارے مذہب میں جائز ہے۔ اسی طرح جب (حنفی) مقلدوں سے کہا جاتا ہے کہ حلالہ والا نکاح باطل ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کرنے والے پر لعنت کی ہے، تو وہ جواب دے گا: نہیں، نہیں۔ بلکہ فلاں فلاں مذہب کے مطابق جائز ہے۔ اسی طرح کے سینکڑوں مسائل ہیں۔
اکثر محقق علماء و فقہاء کا یہ خیال ہے کہ اس قسم کے مقلد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مصداق ہیں: {اِتَّخَذُوْا أَحْبَارَھُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ} (سورۂ توبہ: ۳۱) … ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو ربّ بنایا ہے۔ فخر الرازی نے اپنے تفسیر میں اس کی خوب وضاحت کی ہے۔
(تیسرا گروہ) … وہ لوگ، جو اپنے حکمرانوں کے وضع کردہ ان قوانین و ضوابط کی پیروی کرتے ہیں، جو شریعت کے مخالف ہوتے ہیں، جیسے کیمونزم اور اس کے ملتے جلنے نظام۔ اور ان سے بدتر وہ لوگ ہیں، جو شریعت کے ان مخالف امور کو شریعت سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ ایسی مصیبت ہے جس نے عصرِ حاضر کے علم و اصلاح کے دعویداروں کا گھیراؤ کر لیا ہے اور عوام کو ان سے بڑا دھوکہ ہوا ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ یہ پیروکار اپنے قائدین سمیت اس آیت کا مصداق بنتے ہیں: {اِتَّخَذُوْا أَحْبَارَھُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ} (سورۂ توبہ: ۳۱) … ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو ربّ بنایا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے حمایت و حفاظت اور سلامتی کا سوال کرتے ہیں۔ (صحیحہ: ۱۸۱)
حدیث نمبر: 12118
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ ”لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“ وَقَالَ لِلْآخَرِينَ قَوْلًا حَسَنًا وَقَالَ ”لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَّةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم لوگ آگ میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے۔ اور جن لوگوں نے آگ میں داخل ہونے سے انکار کیا تھا، آپ نے ان کے بارے میں اچھی بات ارشاد فرمائی اور فرمایا: اللہ کی معصیت ہو تو کسی کی اطاعت نہیں کی جاسکتی، اطاعت تو صرف جائز کام میں ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 12119
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ فِيمَا أَحَبَّ أَوْ كَرِهَ إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انسان پر لازم ہے کہ وہ حکمران کی بات سنے اور اس کی اطاعت کرے، وہ ان امور کو چاہتا ہو یا نہ چاہتا ہو، ما سوائے اس کے کہ جب اس کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دیا جائے تو اس حکم کو نہ سنے اور نہ اس کی اطاعت کرے۔
حدیث نمبر: 12120
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی کوئی فرمانبرداری نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 12121
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا يُونُسُ وَحُمَيْدٌ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ زِيَادًا اسْتَعْمَلَ الْحَكَمَ الْغِفَارِيَّ عَلَى جَيْشٍ فَأَتَاهُ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَقِيَهُ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ أَتَدْرِي لِمَ جِئْتُكَ فَقَالَ لَهُ لِمَ قَالَ هَلْ تَذْكُرُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ الَّذِي قَالَ لَهُ أَمِيرُهُ اقْعَ فِي النَّارِ فَأَدْرَكَ فَاحْتَبَسَ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”لَوْ وَقَعَ فِيهَا لَدَخَلَا النَّارَ جَمِيعًا لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى“ قَالَ نَعَمْ قَالَ إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أُذَكِّرَكَ هَذَا الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حسن سے روایت ہے کہ زیاد نے حکم غفاری کو ایک لشکر پر امیر بنایا، سیدناعمران بن حصین رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور لوگوں کے ما بین اس سے ملے اور کہا: کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ہاں کس لیے آیا ہوں؟ ا س نے کہا: جی بتائیں، کس لیے آئے ہیں؟ انہو ں نے کہا، کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ بات یاد ہے جوآپ نے اس آدمی سے ارشاد فرمائی تھی، جسے اس کے امیر نے کہا تھا، آگ میں گھس جا، مگر اس آدمی نے یہ بات ماننے سے انکار کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: اگر وہ آگ میں داخل ہو جاتا تو وہ دونوں(حکم دینے والا اور اس کو ماننے والا) جہنم میں جاتے، اللہ تعالیٰ کی معصیت ہو رہی ہو تو کسی کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔ حکم غفاری نے کہا: جی ہاں، یاد ہے۔ پھر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں یہ حدیث یاد دلانا چاہتا تھا۔
حدیث نمبر: 12122
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ أَرَادَ زِيَادٌ أَنْ يَبْعَثَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى خُرَاسَانَ فَأَبَى عَلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ أَتَرَكْتَ خُرَاسَانَ أَنْ تَكُونَ عَلَيْهَا قَالَ فَقَالَ إِنِّي وَاللَّهِ مَا يَسُرُّنِي أَنْ أُصَلِّيَ بِحَرِّهَا وَتُصَلُّوا بِبَرْدِهَا إِنِّي أَخَافُ إِذَا كُنْتُ فِي نُحُورِ الْعَدُوِّ أَنْ يَأْتِيَنِي كِتَابٌ مِنْ زِيَادٍ فَإِنْ أَنَا مَضَيْتُ هَلَكْتُ وَإِنْ رَجَعْتُ ضُرِبَتْ عُنُقِي قَالَ فَأَرَادَ الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ عَلَيْهَا قَالَ فَانْقَادَ لِأَمْرِهِ قَالَ فَقَالَ عِمْرَانُ أَلَا أَحَدٌ يَدْعُو لِي الْحَكَمَ قَالَ فَانْطَلَقَ الرَّسُولُ قَالَ فَأَقْبَلَ الْحَكَمُ إِلَيْهِ قَالَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ فَقَالَ عِمْرَانُ لِلْحَكَمِ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا طَاعَةَ لِأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى“ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ عِمْرَانُ لِلَّهِ الْحَمْدُ أَوِ اللَّهُ أَكْبَرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ زیاد نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو خراسان کی طرف بھیجنے کا اردہ کیا، لیکن انھوں نے یہ ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا، ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا: آپ نے خراسان کی امارت کا انکار کر دیا؟ انہوں نے کہا: مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ امارت کی مشکلات تو میں برداشت کروں اور اس کے ثمرات سے تم فائدہ اٹھاؤ، دراصل میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ اگر میں دشمن کے مقابلے میں ہوں اور زیاد کا خط مجھے ملے، (اس خط کے مطابق) اگر میں آگے بڑھوں تو ہلاک ہوتا ہوں اور اگر پیچھے ہٹوں تومجھے قتل کر دیا جائے، پس زیاد نے سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کو اس لشکر پر امیر بنانے کا ارادہ کیا اور انھوں نے زیاد کے اس حکم کو تسلیم کر لیا، اُدھر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا:کوئی ہے جو حکم رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلا لائے؟ ایک آدمی گیا اور حکم رضی اللہ عنہ آ گئے،جب وہ ان کے ہا ں پہنچے تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ کی معصیت ہوتی ہو تو کسی کی اطاعت نہیں کی جا سکتی۔ ؟ انھوں نے کہا، جی ہاں، عمران رضی اللہ عنہ (نے شکر ادا کرتے ہوئے) لِلّٰہِ الْحَمْدُ یا اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا۔
حدیث نمبر: 12123
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ مُعَاذًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ لَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِكَ وَلَا يَأْخُذُونَ بِأَمْرِكَ فَمَا تَأْمُرُ فِي أَمْرِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا طَاعَةَ لِمَنْ لَمْ يُطِعِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے راویت ہے، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر ہم پر ایسے حکمران مسلط ہو جائیں جو آپ کی سنت کی اقتدا نہ کریں اور آپ کے حکم پر عمل نہ کریں تو ان کے بارے میں ہمارے لیے کیا حکم ہو گا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کرتا، اس کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔
حدیث نمبر: 12124
فَقَالَ عُبَادَةُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنَّكَ لَمْ تَكُنْ مَعَنَا إِذْ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا بَايَعْنَاهُ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ وَعَلَى النَّفَقَةِ فِي الْيُسْرِ وَالْعُسْرِ وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ وَعَلَى أَنْ نَقُولَ فِي اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَا نَخَافَ لَوْمَةَ لَائِمٍ فِيهِ وَعَلَى أَنْ نَنْصُرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ عَلَيْنَا يَثْرِبَ فَنَمْنَعَهُ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْهُ أَنْفُسَنَا وَأَزْوَاجَنَا وَأَبْنَاءَنَا وَلَنَا الْجَنَّةُ فَهَذِهِ بَيْعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّتِي بَايَعْنَا عَلَيْهَا فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ وَفَّى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِمَا بَايَعَ عَلَيْهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ قَدْ أَفْسَدَ عَلَيَّ الشَّامَ وَأَهْلَهُ فَإِمَّا تُكِنُّ إِلَيْكَ عُبَادَةَ وَإِمَّا أُخَلِّي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الشَّامِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ رَحِّلْ عُبَادَةَ حَتَّى تُرْجِعَهُ إِلَى دَارِهِ مِنَ الْمَدِينَةِ فَبَعَثَ بِعُبَادَةَ حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَدَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ فِي الدَّارِ وَلَيْسَ فِي الدَّارِ غَيْرُ رَجُلٍ مِنَ السَّابِقِينَ أَوْ مِنَ التَّابِعِينَ قَدْ أَدْرَكَ الْقَوْمَ فَلَمْ يَفْجَأْ عُثْمَانَ إِلَّا وَهُوَ قَاعِدٌ فِي جَنْبِ الدَّارِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ مَا لَنَا وَلَكَ فَقَامَ عُبَادَةُ بَيْنَ ظَهْرَيِ النَّاسِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَا الْقَاسِمِ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّهُ سَيَلِي أُمُورَكُمْ بَعْدِي رِجَالٌ يُعَرِّفُونَكُمْ مَا تُنْكِرُونَ وَيُنْكِرُونَ عَلَيْكُمْ مَا تَعْرِفُونَ فَلَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَلَا تَعْتَلُّوا بِرَبِّكُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ابو ہریرہ! تم تو اس وقت موجود نہ تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے ہمارے ہاں یثرب میں تشریف لائے، ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی کہ ہم چستی اور سستی یعنی ہر حال میں آپ کی بات سن کر اس کی اطاعت کریں گے، اور خوش حالی ہو یا تنگ دستی، جب بھی ضرورت پڑی تو ہر حال میں خرچ کریں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے، اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی والی بات کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے سے خوف زدہ نہیں ہوں گے، ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دل وجان سے مدد کریں گے اورجن جن چیزوں سے ہم اپنی جانوں، بیویوں اور بیٹوں کو بچاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی ان سے بچائیں گے اور اس کے بدلے ہمیں جنت ملے گی۔ یہ وہ امورِ بیعت ہیں، جن پر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی ہے، جو اس کی خلاف ورزی کرے گا، اس کا وبال اسی پر ہوگا۔ اللہ کے بارے میں جو بیعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لی اور کی ہے، کون ہے جو اپنی بیعت کو ان سے بڑھ کر پورا کرنے والا ہو؟ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو لکھا کر سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے شام اور اہل شام کو میرے خلاف کر دیا ہے، آپ یا تو عبادہ رضی اللہ عنہ کو اپنے ہاں بلالیں، ورنہ میں انہیں شام سے باہر نکلوا دوں گا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ آپ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ واپس بھیج دیں، پس سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کو واپس بھجوادیا، پس جب وہ مدینہ واپس آئے تو وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ گھرمیں ان کے ہاں گئے، گھر میں سابقین اولین میں سے صرف ایک آدمی تھا اور وہ بھی لوگوں کے پاس چلا گیا، عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے، وہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: عبادہ!آپ کا اور ہمارا کیا معاملہ ہے؟ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور کہا: میں نے ابو القاسم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ عنقریب تمہارے معاملات پر اسے لوگ غالب آجائیں گے کہ تم جن کاموں کو غلط سمجھتے ہو گے، وہ انہیں صحیح سمجھیں گے اور تم جن کاموں کو اچھا سمجھتے ہو گے، وہ انہیں غلط سمجھیں گے، جو آدمی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے تو اس کی اطاعت نہیں کی جاسکتی، تم اپنے رب کے ہاں اس کی کوئی معذرت پیش نہیں کر سکو گے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو ہجرت سے قبل مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ جا کر اسلام قبول کرنے اور بیعت عقبہ اولیٰ میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا، اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے بارہ افراد کو نقیب یعنی ذمہ دار اور نگران مقرر کیا تھا، ان نقباء میں سے ایک سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ تھے، حدیث کے شروع میں سیدنا عبادہ اس بیعت والے امور کا ذکر کر رہے ہیں۔