کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل اول: حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب اور ان کی بغاوت نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12102
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتْلُو عَلَيَّ هَذِهِ الْآيَةَ {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا} [الطلاق: 2] حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ ثُمَّ قَالَ ”يَا أَبَا ذَرٍّ لَوْ أَنَّ النَّاسَ كُلَّهُمْ أَخَذُوا بِهَا لَكَفَتْهُمْ“ قَالَ فَجَعَلَ يَتْلُو بِهَا وَيُرَدِّدُهَا عَلَيَّ حَتَّى نَعَسْتُ ثُمَّ قَالَ ”يَا أَبَا ذَرٍّ كَيْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنَ الْمَدِينَةِ“ قَالَ قُلْتُ إِلَى السَّعَةِ وَالدَّعَةِ أَنْطَلِقُ حَتَّى أَكُونَ حَمَامَةً مِنْ حَمَامِ مَكَّةَ قَالَ ”كَيْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنْ مَكَّةَ“ قَالَ قُلْتُ إِلَى السَّعَةِ وَالدَّعَةِ إِلَى الشَّامِ وَالْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ قَالَ ”وَكَيْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنَ الشَّامِ“ قَالَ قُلْتُ إِذَنْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي قَالَ ”أَوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ“ قَالَ قُلْتُ أَوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ قَالَ ”تَسْمَعُ وَتُطِيعُ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: {وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا} … جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے نکلنے کی جگہ بنا دیتا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’اے ابو ذر! اگر سب لوگ اس آیت پر عمل کرنے لگ جائیں تو یہ آیت ان سب کے لیے کافی ہو گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آیت کو پڑھتے اور میرے سامنے بار بار دہراتے رہے، یہاں تک کہ میں اونگھنے لگا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! اگر تمہیں مدینہ سے نکال دیا گیا، تو تم کیا کرو گے؟ انھوں نے کہا: میں کسی ایسے علاقے میں چلا جاؤں گا، جہاں وسعت اور فراخی ہوگی، میں مکہ جا کر اس کے کبوتروں میں سے ایک کبوتر بن جاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں مکہ سے نکال دیا گیا تو پھر کیا کرو گے؟ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں وسعت وفراخی والی جگہ شام کی طرف چلا جاؤں گا کہ وہ مقدس سرزمین ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں شام سے بھی نکال دیا گیا تو تب کیاکروگے؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! تب میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے اس سے بہتر چیز نہ بتلا دوں؟ انھوں نے کہا: کیا کوئی کام اس سے بھی بہتر ہے؟ آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حاکم کی بات سننا اور اس کو مان لینا، خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا۔ وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسْبُہ اِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیْء ٍ قَدْرًا } … اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے گا۔اور اسے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا اور جو کوئی اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اسے کافی ہے، بے شک اللہ اپنے کام کو پورا کرنے والا ہے، یقینا اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کیا ہے۔ (سورۂ طلاق: ۱،۲) یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن یہ آیت اپنے مضمون میں پراثر اور واضح نظر آ رہی ہیں۔
حدیث نمبر: 12103
عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يَا أَبَا ذَرٍّ كَيْفَ أَنْتَ عِنْدَ وُلَاةٍ“ (وَفِي رِوَايَةٍ ”كَيْفَ أَنْتَ وَأَئِمَّةٌ مِنْ بَعْدِي“) ”يَسْتَأْثِرُونَ عَلَيْكَ بِهَذَا الْفَيْءِ“ قَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي فَأَضْرِبُ بِهِ حَتَّى أَلْحَقَكَ قَالَ ”أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ لَكَ مِنْ ذَلِكَ تَصْبِرُ حَتَّى تَلْقَانِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! جب ایسے حکمران آجائیں جو مال کے بارے میں تمہارے اوپر دوسروں کو ترجیح دیں گے تو تم کیا کرو گے؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا۔ اور پھر اس کے ساتھ لڑنا شروع کر دوں گا، یہاں تک کہ آپ سے آ ملوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتلادوں؟ وہ یہ ہے کہ تم ان حالات پر صبر کرنا، یہاں تک کہ مجھے آملو۔
حدیث نمبر: 12104
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”عَلَيْكَ السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ وَلَا تُنَازِعِ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَإِنْ رَأَيْتَ أَنَّ لَكَ“ زَادَ فِي رِوَايَةٍ ”مَا لَمْ يَأْمُرُوكَ بِإِثْمٍ بَوَاحٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشکل ہویا آسانی،خوشی ہو یا غمی اور خواہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے، تم پر لازم ہے کہ تم حکمران کی بات سنو اور اس کو تسلیم کرو اور حکومت کے بارے میں حکومت والوں سے جھگڑا نہ کرواور تم ان کی اطاعت کرو، جب تک وہ تمہیں صریح گناہ کا حکم نہ دیں۔
وضاحت:
فوائد: … غور کریں کہ مشکل ہو یا آسانی، خوشی ہو یا غمی، حق تلفی ہو یا حق کی ادائیگی، ہر حال میں حکمران کی بات سننے اور اس کو تسلیم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہاں جب حکمران صریح گناہ کا حکم دیں گے تو تب ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 12105
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”عَلَيْكَ السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشکل ہو یا آسانی، خوشی ہو یا ناخوشی اور بیشک تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے، پھر بھی تم نے حکمران کی بات سننی ہے اور اس کو ماننا ہے۔ ‘
حدیث نمبر: 12106
عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ الْأَحْمَسِيَّةِ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ وَهُوَ يَقُولُ ”وَلَوِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا“ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَسَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ إِنِّي لَأَرَى لَهُ السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام حصین احمسیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرفات میں خطبہ ارشاد فرما تے ہوئے سنا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے اوپر کسی غلام کو حکمران بنا دیاجائے اور وہ کتاب اللہ کے مطابق تمہاری قیادت و رہنمائی کرے تو تم اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں: میرے والد نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ مشکل ہو یا آسانی، خوشی ہو یا مجبوری، ہر حال میں حکمران کی بات سننی اور اس کی اطاعت کرنی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگر حکمران قرآن و حدیث کی روشنی میں رعایا کی حکمرانی کر رہا ہو تو پھر تو کوئی چارۂ کار نہیں ہو گا، ما سوائے اس کے کہ اس کی بات مانی جائے، اگرچہ وہ ناقص الخلقت اور ادھورا ہو، مال و دولت سے محروم ہو اور حسن و جمال سے خالی ہو۔
حدیث نمبر: 12107
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ عَلَيْهِ بُرْدٌ لَهُ قَدِ الْتَفَعَ بِهِ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ قَالَتْ فَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى عَضَلَةِ عَضُدِهِ تَرْتَجُّ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ وَإِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ مُجَدَّعٌ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا مَا أَقَامَ فِيكُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیدہ ام حصین رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ، وہ کہتی ہیں : میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک چادر تھی ، جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بغل کے نیچے سے نکال کر لپیٹا ہوا تھا ، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بازو کا پٹھہ حرکت کر رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : لوگو ! اللہ سے ڈر جاؤ ، اور اگرچہ تم پر کوئی ناک کٹا حبشی غلام امیر بنا دیا جائے ، تم نے اس کی بات سننی ہے اور اس کی اطاعت کرنی ہے ، جب تک وہ تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب کو قائم کرے ۔
حدیث نمبر: 12108
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَطْمَئِنُّ إِلَيْهِمُ الْقُلُوبُ وَتَلِينُ لَهُمُ الْجُلُودُ ثُمَّ يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَشْمَئِزُّ مِنْهُمُ الْقُلُوبُ وَتَقْشَعِرُّ مِنْهُمُ الْجُلُودُ“ فَقَالَ رَجُلٌ أَنُقَاتِلُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”لَا مَا أَقَامُوا الصَّلَاةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے او پر ایسے حکمران آئیں گے، جن کی حکمرانی پر تمہارے دل مطمئن ہوں گے اور تمہاری جلد ان کی اطاعت کے لیے نرم ہوگی، لیکن ان کے بعد ایسے حکمران بھی آئیں گے، جن سے تمہارے دل نفرت کریں گے اور ان کے خوف سے تمہارے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ایسے حکمرانوں سے لڑائی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک وہ نماز قائم رکھیں گے، اس وقت تک ان سے لڑنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … خیر و بھلائی والے خلفاء اور حکمرانوں کے بعد شرّ والوں نے حکمرانی کے ایسے انداز اختیار کیے کہ ان کی تاریخ پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 12109
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهُ سَتَكُونُ أُمَرَاءُ تَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ فَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ بَرِئَ وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ قَالَ ”لَا مَا صَلَّوْا لَكُمُ الْخَمْسَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسے حکمران ہوں گے کہ تم ان کے بعض امور کو پسند کرو گے اور بعض کو ناپسند، جس نے ان کے غلط کام پر انکار کیا، وہ بری ہو گیا، (یعنی اس نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی) ،جس نے ان کے غلط کام کو ناپسند کیا، وہ بھی (اللہ کی ناراضگی سے) بچ گیا، لیکن جو آدمی ان کے غلط کاموں پر راضی ہو گیا اور ان کی پیروی کرتا رہا، ( وہ اللہ کی ناراضگی سے نہیں بچ سکے گا۔) صحابہ کرام نے کہا:اللہ کے رسول! کیا ہم ایسے حکمرانوں سے لڑائی نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، وہ جب تک تمہارے لیے (یعنی تمہارے سامنے) پانچ نماز ادا کرتے رہیں گے، اس وقت تک نہیں لڑنا۔
وضاحت:
فوائد: … جس نے ایسے حکمرانوں کی اداؤں کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، وہ منافقت، حق پوشی اور چاپلوسی کرنے سے بچ جائے گا، جو حسبِ استطاعت خاموش ہو گیا، موافقت کی نہ مخالفت، تووہ کم از کم ان کے وبال میں شریک نہیں ہوگا، لیکن جو ان کے ساتھ راضی ہو گیا تو وہ تو ان کی سرکشی، بغاوت اور نافرمانی میں برابر کا شریک ہو گا۔ شاید یہ بات درست ہو کہ موجودہ دور کے تمام حکمران اور ان کے درباری اس قسم کی تمام احادیث کے مصداق ہیں۔
حدیث نمبر: 12110
عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَإِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حکمران کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، خواہ تمہارے اوپر کوئی ایسا حبشی حکمران بنا دیا جائے، جس کا سر منقّی جیسا ہو۔
حدیث نمبر: 12111
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يُهْلِكُ أُمَّتِي هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ“ قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”لَوْ أَنَّ النَّاسَ اعْتَزَلُوهُمْ“ وَقَالَ أَبِي فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ اضْرِبْ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ فَإِنَّهُ خِلَافُ الْأَحَادِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي قَوْلَهُ ”اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَاصْبِرُوا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریش کا قبیلہ میری امت کو ہلاک کرے گا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے حالات میں آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ ان سے الگ تھلک رہیں گے( تو وہ ان کے شرّ سے بچے رہیں گے۔ امام احمد نے مرض الموت کے دنوں میں کہا: اس حدیث کو مٹا دو، کیونکہ یہ حدیث ان احادیث کے خلاف ہے، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حکمرانوں کی بات سنو، ان کی اطاعت کرو اور صبر کرو۔
وضاحت:
فوائد: … یہ دو الگ الگ احادیث ہیں اور دونوں کے مصداق الگ الگ حکمران ہیں، ایسے حکمران بھی گزر چکے ہیں کہ ہر حال میں جن کی بات سننا اور ان کی اطاعت کرنا ضروری تھا، لیکن ایسے حکمران بھی ہو گزرے ہیں کہ جن سے اجتناب کرنا بہتر تھا۔
حدیث نمبر: 12112
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیرکی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیرکی نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی کی۔
حدیث نمبر: 12113
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ ”مَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی۔ اور جس نے میری اطاعت کی، اس نے دراصل اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔
وضاحت:
فوائد: … ایسے امیر کی اطاعت کب تک ضروری ہے؟ اگلا باب ملاحظہ ہو۔
حدیث نمبر: 12114
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ عَبَدَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَسَمِعَ وَأَطَاعَ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُدْخِلُهُ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ وَلَهَا ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ وَمَنْ عَبَدَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَسَمِعَ وَعَصَى فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى مِنْ أَمْرِهِ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ رَحِمَهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ کی عبادت کرے، ا س کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، حاکم کی بات سنے اور اس کی اطاعت کرے، جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے گا، اللہ اسے اسی دروازے سے جنت میں داخل کرے گااو ر جو آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرے، نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، حاکم کی بات سنے اور اس کی اطاعت نہ کرے، تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے، اگر وہ چاہے تو اسے معاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے عذاب سے دوچار کرے۔