کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فصل چہارم: خواتین کی حکومت و سربراہی کا بیان
حدیث نمبر: 12097
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ بَشِيرٌ يُبَشِّرُهُ بِظَفَرِ جُنْدٍ لَهُ عَلَى عَدُوِّهِمْ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَامَ فَخَرَّ سَاجِدًا ثُمَّ أَنْشَأَ يُسَائِلُ الْبَشِيرَ فَأَخْبَرَهُ فِيمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَلِيَ أَمْرَهُمُ امْرَأَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْآنَ هَلَكَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَاءَ هَلَكَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَاءَ“ ثَلَاثًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں موجود تھے ، ایک خوشخبری دینے والے قاصد نے آ کر مسلمانوں کی دشمن پر فتح کی نوید سنائی ، اس وقت آپ کا سر مبارک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گود میں تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اور سجدہ ریز ہو گئے ، اس کے بعد آپ اس قاصد سے حالات دریافت کرنے لگے ، اس نے آپ کو جو خبریں دیں ان میں سے ایک خبر یہ بھی تھی کہ ایک عورت دشمنوں پر حکمران بن چکی ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب مرد عورتوں کی اطاعت کرنے لگیں گے تو وہ ہلاک ہو جائیں گے ، مرد جب عورتوں کی اطاعت کرنے لگے تو وہ ہلاک ہو جائیں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12097
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف بكار بن عبد العزيز، وابوه عبد العزيز روي عنه جمع، وذكره ابن حبان و العجلي في الثقات ، اخرج قصة سجود الشكر ابوداود: 2774، والترمذي: 1578، وابن ماجه: 1394 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20455 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20729»
حدیث نمبر: 12098
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ يَلِي أَمْرَ فَارِسٍ“ قَالُوا امْرَأَةٌ قَالَ ”مَا أَفْلَحَ قَوْمٌ يَلِي أَمْرَهُمْ امْرَأَةٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایران کا حکمر ان کون ہے؟ صحابہ نے بتلایا کہ ایک عورت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ قوم فلاح نہیں پاسکتی، جس پر عورت حکمران ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12098
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه الطيالسي: 878، وابن ابي شيبة: 15/ 266 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20782»
حدیث نمبر: 12099
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَفْظٍ ”لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ تَمْلِكُهُمُ امْرَأَةٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس قوم پر عورت حکمران ہو وہ ہرگز فلاح نہیں پاسکتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12099
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20673»
حدیث نمبر: 12100
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ أَسْنَدُوا أَمْرَهُمْ إِلَى امْرَأَةٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پاسکتی، جو اپنے معاملات کو عورتوں کے سپرد کردیتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12100
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20673»
حدیث نمبر: 12101
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ فَارِسٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”إِنَّ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ قَتَلَ رَبَّكَ“ (يَعْنِي كِسْرَى) قَالَ وَقِيلَ لَهُ (يَعْنِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) إِنَّهُ قَدِ اسْتَخْلَفَ ابْنَتَهُ قَالَ فَقَالَ ”لَا يُفْلِحُ قَوْمٌ تَمْلِكُهُمُ امْرَأَةٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہلِ فارس میں سے ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ربّ تبارک وتعالیٰ نے تمہارے ربّ یعنی کسریٰ کو قتل کر دیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا گیا کہ اس نے اپنی بیٹی کو اپنا نائب بنا رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ قوم فلاح نہیں پائے گی، جس پر عورت حکمران ہو۔
وضاحت:
فوائد: … شریعت ِ اسلامیہ میں عورت کی اہمیت اور حقوق مسلّمہ ہیں، لیکن حکمرانی اور حاکمیت کے معاملات مردوں کے ساتھ خاص ہیں، عورتوں کا ان امور میں کوئی حق نہیں ہے، وہ معاشرہ اپنی مثال آپ ہے، جس میں خواتین و حضرات اپنی اپنی ذمہ داریاں سمجھتے ہوں اور ان کو نبھاتے ہوں، آپ غور کریں کہ عورت کے لیے مسجد کی بہ نسبت گھر کے مخفی مقام میں فرض نماز پڑھنا افضل اور بہتر قرار دیا گیا ہے، اگرچہ مسجد میں آنے کی اجازت دی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12101
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرج القطعة الثانية البخاري: 4425، 7099 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20438 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20710»