کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فصل سوم: لڑکوں کی حکمرانی کا بیان
حدیث نمبر: 12093
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”هَلَاكُ أُمَّتِي عَلَى يَدِ غِلْمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ“ قَالَ مَرْوَانُ وَهُوَ مَعَنَا فِي الْحَلْقَةِ قَبْلَ أَنْ يَلِيَ شَيْئًا فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ غِلْمَةً قَالَ وَأَمَّا وَاللَّهِ لَوْ أَشَاءُ أَقُولُ بَنُو فُلَانٍ وَبَنُو فُلَانٍ لَفَعَلْتُ قَالَ فَقُمْتُ أَخْرُجُ أَنَا مَعَ أَبِي وَجَدِّي إِلَى مَرْوَانَ بَعْدَمَا مُلِّكُوا فَإِذَا هُمْ يُبَايِعُونَ الصِّبْيَانَ مِنْهُمْ وَمَنْ يُبَايِعُ لَهُ وَهُوَ فِي خِرْقَةٍ قَالَ لَنَا هَلْ عَسَى أَصْحَابُكُمْ هَؤُلَاءِ أَنْ يَكُونُوا الَّذِينَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ أَنَّ هَذِهِ الْمُلُوكَ يُشْبِهُ بَعْضُهَا بَعْضًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی ہلاکت قریش کے لڑکوں کے ہاتھوں سے ہوگی۔ اس وقت مروان بھی ہمارے ساتھ اس حلقہ درس میں موجود تھا اور ابھی اسے حکومت نہیں ملی تھی، یہ سن کر وہ کہنے لگا: ان نوجوانوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میں چاہوں تو بیان کرسکتا اور بتاسکتا ہوں کہ وہ بنو فلاں اور بنو فلاں ہوں گے۔ یعنی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان کے قبائل اور خاندانوں کے ناموں سے بھی واقف تھے، بعد میں جب مروان کا خاندان بر سراقتدار آیا تو میں اپنے والد اور دادا کے ہمراہ مروان کے ہاں گیا،وہ اپنے لڑکوں کے حق میں بیعت لے رہے تھے اور بیعت کرنے والے بھی لڑکے ہی تھے، مروان شاہی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے، اس نے ہم سے کہا: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا تھا کہ وہ ذکر کر رہے تھے کہ یہ بادشاہ ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12093
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 3605 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8287»
حدیث نمبر: 12094
عَنْ مَالِكِ بْنِ ظَالِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَا الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ يَقُولُ ”إِنَّ هَلَاكَ أُمَّتِي أَوْ فَسَادَ أُمَّتِي رُؤُوسٌ أُمَرَاءُ أُغَيْلِمَةٌ سُفَهَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابو القاسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سچے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی ہلاکت اور فساد قریش کے ناسمجھ نوجوان حکمرانوں کے ہاتھوں سے ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12094
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وانظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7961»
حدیث نمبر: 12095
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ وَإِمَارَةِ الصِّبْيَانِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ستر سال کے بعد والے دور سے اور لڑکوں کی حکومت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی ہلاکت قریشی لڑکوں کے ہاتھوں پر ہو گی۔ (بخاری)
ابن ابی شیبہ کی روایت ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بازار میں چلتے اور کہتے تھے: اے اللہ! نہ مجھے ساٹھ سن ہجری والا سال پائے اور نہ لڑکوں کی امارت۔
اس میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ پہلے لڑکے کی امارت کا ظہور ۶۰ ھ میں ہو گا اور ایسے ہی ہوا، یزید بن معاویہ خلیفہ بنا اور چونسٹھ سن ہجری تک باقی رہا، اس کی یہ عادت بھی تھی کہ وہ مختلف علاقوں سے بزرگوں کو معزول کر کے اپنے چھوٹی عمر کے قرابتداروں کو والی بناتا تھا۔ اس کی وفات کے بعد اس کا بیٹا معاویہ والی بنا جو کچھ مہینوں کے بعد مر گیا۔
ہلاکت یہ ہے کہ وہ امارت و بادشاہت طلب کرنے کے لیے اور اس کی وجہ سے لوگوں سے لڑیں گے، اس طرح لوگوں کے احوال میں فساد آ جائے گا اور پے در پے فتنوں کا ظہور ہو گااور ایسے ہی ہوا اور دل خراش واقعات پیش آئے۔
اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ ظالم بادشاہوں کے خلاف بغاوت کرنے سے گریز کیا جائے، کیونکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان بادشاہوں کے نام بھی جانتے تھے اور یہ بھی بتلا یا تھا کہ امت کی ہلاکت ان کے ہاتھوں پر ہو گی، لیکن اس کے باوجود انھوں نے بغاوت کا حکم نہ دیا، کیونکہ بغاوت کی وجہ سے جہاں ہلاکتیں زیادہ ہونی تھیں، وہاں اطاعت کے امور سے دوری بھی ہونی تھی، اس لیے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے خفیف مفسدت اور آسان کام کو اختیار کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12095
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، اخرجه البزار: 3358 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8654 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8639»
حدیث نمبر: 12096
عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ شَهْرٍ قَالَ سَمِعْتُ كَلِمَتَيْنِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً وَمِنَ النَّجَاشِيِّ أُخْرَى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”انْظُرُوا قُرَيْشًا فَخُذُوا مِنْ قَوْلِهِمْ وَذَرُوا فِعْلَهُمْ“ وَكُنْتُ عِنْدَ النَّجَاشِيِّ جَالِسًا فَجَاءَ ابْنُهُ مِنَ الْكُتَّابِ فَقَرَأَ آيَةً مِنَ الْإِنْجِيلِ فَعَرَفْتُهَا أَوْ فَهِمْتُهَا فَضَحِكْتُ فَقَالَ مِمَّ تَضْحَكُ أَمِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى فَوَاللَّهِ إِنَّ مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ أَنَّ اللَّعْنَةَ تَكُونُ فِي الْأَرْضِ إِذَا كَانَ أُمَرَاؤُهَا الصِّبْيَانَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عامر بن شہر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دو خاص باتیں سنی ہیں، ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دوسری نجاشی سے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ تم قریش پر نظر رکھنا، تم نے ان کی باتیں قبول کر لینی ہیں اور ان کے کردار کو چھوڑ دینا ہے۔ اور میں نجاشی کے ہاں بیٹھا ہوا تھا کہ اس کا بیٹا ایک کتاب لے کرآیا، اس نے انجیل کی ایک آیت پڑھی، میں نے اسے سمجھ لیا تو میں ہنس پڑا، نجاشی نے کہا: تم کس بات پر ہنسے ہو؟ کیا تم اللہ تعالیٰ کی کتاب سن کر ہنسے ہو؟ اللہ کی قسم! عیسیٰ بن مریم پر جو باتیں نازل کی گئی تھیں، ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ جب دنیا میں نوجوان حکمران ہوں گے تو زمین پر لعنت اترے گی۔
وضاحت:
فوائد: … اگر کوئی حکمران بن جائے تو جہاں تک ہو سکے، اس کے ساتھ گزارہ کرنے کی کوشش کی جائے اور اس پر کیچڑ نہ اچھالا جائے، وگرنہ بغاوت کے نتائج سنگین ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12096
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابن حبان: 4585، وابن ابي شيبة: 15/ 231، وابويعلي: 6864 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15536 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15621»