کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
حدیث نمبر: 12075
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ”أَعَاذَكَ اللَّهُ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ“ قَالَ وَمَا إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ قَالَ ”أُمَرَاءُ يَكُونُونَ بَعْدِي لَا يَقْتَدُونَ بِهَدْيِي وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ لَيْسُوا مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُمْ وَلَا يَرِدُوا عَلَيَّ حَوْضِي وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ وَسَيَرِدُوا عَلَيَّ حَوْضِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اللہ تمہیں بے وقوفوں اور نااہل لوگوں کی حکمرانی سے بچائے۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: بے وقوفوں کی حکومت سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو امراء میرے بعد آئیں گے، وہ میرے طریقے کی اقتداء نہیں کریں گے اور میری سنتوں پر عمل نہیں کریں گے، جس نے ان کے جھوٹے ہونے کے باوجود ان کی تصدیق کی اور ان کے ظلم وجور کے باوجود ان کی مدد کی، ان کا مجھ سے اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور نہ وہ مجھ پر میرے حوض پر آئیں گے اور جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کی اور نہ ان کے ظلم پر ان کی اعانت نہ کی، وہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں اور یہی لوگ میرے پاس میرے حوض پر آئیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12075
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابن حبان: 4514، والحاكم: 4/ 422، والدارمي: 2776، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14494»
حدیث نمبر: 12076
عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَخَلَ وَنَحْنُ تِسْعَةٌ وَبَيْنَنَا وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ فَقَالَ ”إِنَّهَا سَتَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يَكْذِبُونَ وَيَظْلِمُونَ فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكِذْبِهِمْ“ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے،ہم نو آدمی تھے، ہمارے درمیان چمڑے کا ایک تکیہ پڑا تھا، آپ نے فرمایا: عنقریب میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے، جو جھوٹ بولیں گے اور ظلم کریں گے، جو ان کے پا س گیا اور ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کی، … پھر سابق روایت کی طرح کے الفاظ ذکر کیے۔ ! مضارع کے نون اعرابی گرنے کی ظاہری کوئی وجہ نظر نہیں آتی (محقق مسند)۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12076
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه النسائي: 7/ 160، والترمذي: 2259 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18126 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18306»
حدیث نمبر: 12077
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا متن یہ ہے:((إِنَّہَا سَتَکُونُ أُمَرَاء ُ یَکْذِبُونَ وَیَظْلِمُونَ فَمَنْ صَدَّقَہُمْ بِکَذِبِہِمْ وَأَعَانَہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ فَلَیْسَ مِنَّا وَلَسْتُ مِنْہُمْ وَلَا یَرِدُ عَلَیَّ الْحَوْضَ وَمَنْ لَمْ یُصَدِّقْہُمْ بِکَذِبِہِمْ وَلَمْ یُعِنْہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ فَہُوَ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ وَسَیَرِدُ عَلَیَّ الْحَوْضَ۔)) … عنقریب جھوٹ بولنے والے اور ظلم کرنے والے امراء ہوں گے، جو ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے گا، وہ نہ مجھ سے ہو گا اور نہ میں اس سے ہوں گا اور ایسا آدمی میرے پاس حوض پر نہیں آئے گا، لیکن جو شخص ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق نہیں کرے گا اور ان کے ظلم پر ان کی مدد نہیں کرے گا، پس وہ مجھ سے ہو گا اور میں اس سے ہوں گا اور وہ میرے پاس حوض پر آئے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12077
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه البزار: 2834، والطبراني في الاوسط : 8486، والطبراني في الكبير : 3020، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23649»
حدیث نمبر: 12078
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ خَفَضَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِي السَّمَاءِ شَيْءٌ فَقَالَ ”أَلَا إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يَكْذِبُونَ وَيَظْلِمُونَ فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَمَالَأَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَا أَنَا مِنْهُ وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُمَالِئْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ أَلَا وَإِنَّ دَمَ الْمُسْلِمِ كَفَّارَتُهُ أَلَا وَإِنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ هُنَّ الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف اپنی نظر اٹھائی اور پھر اسے نیچے کیا، یہاں تک کہ ہم نے سمجھاکہ آسمان پر کوئی اہم واقعہ رونماہوا ہے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے، جو جھوٹ بولیں گے اور ظلم کریں گے، جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور ظلم پر ان کی مدد کی، اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں اور جس نے ان کی جھوٹ کی تصدیق نہیں کی اور ان کے ظلم پر ان کی موافقت نہ کی، وہ میرا اور میں اس کا ہوں، خبردار! مسلمان کا خون کفارہ ہے اوریہ کلمات باقی رہنے والے اعمال صالحہ ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلَّہِ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ اور اَللَّہُ أَکْبَرُ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12078
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18543»
حدیث نمبر: 12079
عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ وَتَرَوْنَ أَثَرَةً“ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا يَصْنَعُ مَنْ أَدْرَكَ ذَاكَ مِنَّا قَالَ ”أَدُّوا الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ وَسَلُوا اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ“ وَفِي رِوَايَةٍ ”إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا“ قَالَ قُلْنَا مَا تَأْمُرُنَا قَالَ ”أَدُّوا لَهُمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے اوپر کچھ حکمران مسلط ہوں گے، تم دیکھو گے کہ وہ مستحقین پر غیر مستحق لوگوں کو ترجیح دیں گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو آدمی ایسے حالات پائے، وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ذمہ جو حقوق ہوں، تم ان کو ادا کرنا اور جو تمہارے حقوق ہوں، تم ان کا اللہ تعالیٰ سے سوال کرنا۔ ایک روایت میں ہے: تم میرے بعد دیکھو گے کہ نا اہل اور غیر مستحق لوگوں کو ترجیح دی جائے گی اور تم ایسے ایسے کام دیکھو گے جنہیں تم اچھا نہیں سمجھو گے۔ ہم نے کہا: ایسی صور ت حال میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ذمے ان کے جو حقوق ہوں، تم انہیں ادا کرتے رہنا اور اپنے حقوق کا اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے رہنا۔
وضاحت:
فوائد: … رعایا کی انتہائی اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ہر زمان و مکاں میں حکمت، مصلحت اور اپنے حالات سے متعلقہ ارشاداتِ نبوی کا خیال رکھے، جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں، اگر حکمران اپنی عوام کے حقوق ادا نہ کر رہے ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ رعایا بھی ظلم پر اتر آئے اور اپنے حکمرانوں کے حقوق کو نظر انداز کر دے،کیونکہ ایسے جذبات کا نتیجہ ظلم و ستم اور خانہ جنگی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، نسلیں تباہ کروانے سے بہتر ہے کہ حق تلفی پر صبر کر لیا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کا کمال اور حسن یہ ہے کہ ہر وقت اور ہر مقام کے حالات سے نپٹنے کے لیے اس میں رہنمائی ملتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12079
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 7052، ومسلم: 1843 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3640»
حدیث نمبر: 12080
(وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهُ سَيَلِي أَمْرَكُمْ مِنْ بَعْدِي رِجَالٌ يُطْفِئُونَ السُّنَّةَ وَيُحْدِثُونَ بِدْعَةً وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا“ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِي إِذَا أَدْرَكْتُهُمْ قَالَ ”لَيْسَ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ طَاعَةٌ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ“ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد تم پر ایسے لوگ حکمران ہوں گے، جو سنتوں کو مٹائیں گے،بدعات کو فروغ دیں گے اور نمازوں کو ان کے مقررہ اوقات سے مؤخر کریں گے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں ان لوگوں کو پالوں تو میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام عبد کے بیٹے! اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والے کی اطاعت نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار یہ بات ارشاد فرمائی۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اس ارشاد پر عمل کرنے کے لیے بھی حکمتوں اور مصلحتوںکی تعلیم دی ہے، مثال کے طور پر اگر حکمران نمازوں کو ان کے اوقات سے ہی مؤخر کر دیں تو مخفی انداز میں نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لیا جائے گا اور اگر ایسے حکمرانوں کی جماعت کے موقع پر بھی بندہ حاضر ہو تو وہ نفل کی نیت کر کے ان کے ساتھ شریک ہو گا اور یہ نہیں کہے گا کہ اس نے تو نماز ادا کر لی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12080
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه ابن ماجه: 2865 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3789»
حدیث نمبر: 12081
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَأْمُرُونَكُمْ بِمَا لَا يَفْعَلُونَ فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكِذْبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَنْ يَرِدَ عَلَيَّ الْحَوْضَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے اوپر ایسے حکمران آئیں گے کہ وہ تمہیں ایسی باتوں کا حکم دیں گے جن پر خود عمل نہیں کریں گے، جس نے ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں، ایسا آدمی ہر گز میرے پاس حوض پر نہیں آئے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12081
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5702 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5702»
حدیث نمبر: 12082
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”تَكُونُ أُمَرَاءُ تَغْشَاهُمْ غَوَاشٍ أَوْ حَوَاشٍ مِنَ النَّاسِ يَظْلِمُونَ وَيَكْذِبُونَ فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكِذْبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَيُصَدِّقْهُمْ بِكِذْبِهِمْ وَيُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ حکمران ہوں گے کمینے قسم کے لوگ ان کے پاس کثرت سے ہوں گے، وہ ظلم کریں گے او رجھوٹ بولیں گے، جو آدمی ان کے پاس جا کر ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم پر ان کی اعانت کرے گا، اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کچھ تعلق نہیں ہے اور جو آدمی ان کے پاس نہ گیا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کی او رنہ ظلم پر ان کی مدد کی، وہ مجھ سے ہے اور میں اس کاہوں۔
وضاحت:
فوائد: … اگر کوئی حکمران راہِ اعتدال سے ہٹ جائے اور ظاہری اسباب کے مطابق اس کی اصلاح بھی مشکل لگ رہی ہو تو اس سے کنارہ کشی کی جائے اور دور رہنے کی کوشش کی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12082
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه ابويعلي: 1286، والطيالسي: 2223، و ابن حبان: 286 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11192 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11210»
حدیث نمبر: 12083
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”ضَافَ ضَيْفٌ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَفِي دَارِهِ كَلْبَةٌ مُجِحٌّ فَقَالَتِ الْكَلْبَةُ وَاللَّهِ لَا أَنْبَحُ ضَيْفَ أَهْلِي قَالَ فَعَوَى جِرَاؤُهَا فِي بَطْنِهَا قَالَ قِيلَ مَا هَذَا قَالَ فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ هَذَا مَثَلُ أُمَّةٍ تَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمْ يَقْهَرُ سُفَهَاؤُهَا أَحْلَامَهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں ایک آدمی دوسرے کے ہاں مہمان ٹھہرا، میزبان کے گھر میں ایک حاملہ کتیا تھی، کتیا نے سوچا، اللہ کی قسم! میں اپنے مالکوں کے مہمان کو نہیں بھونکوں گی۔ اتنے میں اس کے پیٹ کا پلّا مسلسل چیخنے لگ گیا، کسی نے کہا: یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ یہ اس امت کی مثال ہے، جو تمہارے بعد آئے گی، اس کے بیوقوف لوگ اس کے عقلمندوں پر غالب آ جائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12083
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو عوانة سمع من عطاء قبل الاختلاط وبعده، وكان لا يعقل ذا من ذا، فقال ابن معين: لايُحتج بحديثه، اخرجه البزار: 3372، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6588 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6588»
حدیث نمبر: 12084
وَعَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ قَالَ إِنَّا لَقُعُودٌ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَنْتَظِرُ أَنْ يَخْرُجَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ ”اسْمَعُوا“ فَقُلْنَا سَمِعْنَا ثُمَّ قَالَ ”اسْمَعُوا“ فَقُلْنَا سَمِعْنَا فَقَالَ ”إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ فَلَا تُعِينُوهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكِذْبِهِمْ فَلَنْ يَرِدَ عَلَيَّ الْحَوْضَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے اس انتظار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ ظہر کے لیے باہر تشریف لائیں گے، آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا: سنو! ہم نے عرض کیا: جی ہم سن رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: سنو! ہم نے کہا: ہم سن رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے اوپر حکمران مسلط ہوں گے، تم ان کے ظلم پر ان کی مدد نہیں کرنا، جس نے ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کی وہ حوضِ کوثر پرمیرے پاس نہیں آئے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12084
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه ابن حبان: 284، والطبراني: 3627، والحاكم: 1/ 78 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21389»
حدیث نمبر: 12085
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”سَيَكُونُ أُمَرَاءُ بَعْدِي يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد عنقریب ایسے حکمران آئیں گے، جو ایسی باتیں کریں گے، جن پر ان کا اپنا عمل نہیں ہو گا اور وہ جو کچھ کریں گے، اس کا ان کو حکم نہیں دیا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … عصر حاضر کے حکمرانوں اور ان کے حواریوں کو بھی بیان بازی اور بڑھکیں مارنے کا بڑا شوق ہے، حکومتی خزانے کو لٹا کر سوشل ویلفیئر سے متعلقہ چند کام کر کے اپنے نام کے یوںکتبے لگاتے ہیں اور افتتاح کرتے ہیں، جیسے ان کے باپوں نے ذاتی زمین فروخت کر کے یہ عوامی خدمت سرانجام دی ہو، چار کلو میٹر کی سڑک مرمت کروا کے اور ایک پرائمری سکول تعمیر کر کے شہنشاہِ تعمیرات بن جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12085
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي اخرجه ابن حبان: 177 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4363 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4363»
حدیث نمبر: 12086
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ وَأَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ قَالَا ثَنَا كَامِلٌ قَالَ ثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى تَصِيرَ لِلُكَعٍ“ قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ حَتَّى تَصِيرَ لِلُكَعِ بْنِ لُكَعٍ وَقَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ لِلَكِيعِ بْنِ لَكِيعٍ وَقَالَ أَسْوَدُ يَعْنِي اللَّئِيمَ بْنَ اللَّئِيمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی، جب تک کہ یہ حقیر کی ملکیت میں نہیں آجائے گی۔ اسمٰعیل بن عمر اور ابن بکیر نے کہا: جب تک یہ حقیر بن حقیر کی ملکیت میں نہیں آجائے گی۔ اسود راوی نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ اس سے مراد برا شخص کا برا بیٹا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … لکع بن لکع (کمینہ بن کمینہ) سے مراد وہ شخص ہے، جو ردی اور گھٹیا نسب والا ہو گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد ایسا شخص ہو جس کا نسب غیر معروف ہو اور لوگ اس کی تعریف نہ کرتے ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12086
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8322 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8305»
حدیث نمبر: 12087
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو بردہ بن نیاز رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12087
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 512 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15837 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15931»
حدیث نمبر: 12088
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ وَعَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ وَأَبِي أُمَامَةَ قَالَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ الْأَمِيرَ إِذَا ابْتَغَى الرِّيبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدَهُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مقداد بن اسود اور سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب حاکم لوگوں کے عیوب ڈھونڈنا شروع کر دیتا ہے تو وہ ان کو خراب کر دیتاہے۔
وضاحت:
فوائد: … جو حاکم اپنی رعایا کے لیے خیر و بھلائی کا طالب ہو گا، وہ کسی بڑی ضرورت اور مصلحت کے بغیر ان کے معائب و نقائص تلاش نہیں کرے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو عیوب پر پردہ ڈالنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12088
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، اخرجه ابوداود: 4889 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23815 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24316»
حدیث نمبر: 12089
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ شَدَّدَ سُلْطَانَهُ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ أَوْهَنَ اللَّهُ كَيْدَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ کی معصیت کر کے اپنے بادشاہ کو تقویت پہنچاتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مکر کو کمزور اور ناکام کر دے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12089
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن لھيعة، ولانقطاعه بين يزيد بن ابي حبيب وقيس بن سعد ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24342»
حدیث نمبر: 12090
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِذَا بَلَغَ بَنُو آلِ فُلَانٍ ثَلَاثِينَ رَجُلًا اتَّخَذُوا مَالَ اللَّهِ دُوَلًا وَدِينَ اللَّهِ دَخَلًا وَعِبَادَ اللَّهِ خَوَلًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب فلاں آدمی کی اولاد کی تعداد تیس ہوجائے گی تو یہ لوگ اللہ کے مال کو آپس میں ہی ادل بدل کریں گے، اللہ تعالیٰ کے دین میں عیب و نقص نکالیں گے اور اللہ کے بندوں کو غلام بنا لیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … ایک روایت میں فلاں آدمی کی بجائے ابو عاص کی اولاد کا ذکر ہے۔ بنو ابی العاص سے مراد بنو امیہ ہیں، جن کے دور حکومت میں اس باب میں مذکورہ احادیث کا مصداق بننے والے خلفاء موجود تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12090
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، اخرجه البزار: 1620، والحاكم: 4/ 480 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11758 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11780»
حدیث نمبر: 12091
عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي صَالِحٍ قَالَ أَقْبَلَ مَرْوَانُ يَوْمًا فَوَجَدَ رَجُلًا وَاضِعًا وَجْهَهُ عَلَى الْقَبْرِ فَقَالَ أَتَدْرِي مَا تَصْنَعُ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ أَبُو أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ نَعَمْ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ آتِ الْحَجَرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا تَبْكُوا عَلَى الدِّينِ إِذَا وَلِيَهُ أَهْلُهُ وَلَكِنِ ابْكُوا عَلَيْهِ إِذَا وَلِيَهُ غَيْرُ أَهْلِهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
داود بن ابی صالح کہتے ہیں کہ ایک دن مروان آیا اور اس نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے اپنا چہرہ قبر کے اوپر رکھا ہوا تھا، مروان نے کہا: کیا تو جانتا ہے کہ تو کیا کر رہا ہے؟ جب وہ اس پر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ وہ تو سیدنا ابو ایو ب تھے، پس انہوں نے کہا: ہاں، میں جانتا ہوں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ہوں، نہ کہ کسی پتھر کے پاس، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جب دین کے وارث اہل اور مستحق لوگ ہوں تو تم دین پر مت رونا، البتہ تم دین پر اس وقت رونا، جب نا اہل لوگ اس کے وارث اور مالک بن جائیں گئے۔
وضاحت:
فوائد: … جب نا اہل لوگ دین کے ذمہ دار بن جاتے ہیں اور وہ دینی معاملات کو ہینڈل کرتے ہیں تو واقعی رونا آتا ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12091
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة داود بن ابي صالح، وكثيرُ بن زيد مختلف فيه، اخرجه الحاكم: 4/515، و الطبراني في الكبير : 3999 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23585 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23983»
حدیث نمبر: 12092
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ دَخَلَ عَائِذُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ يَزِيدُ وَكَانَ مِنْ صَالِحِي أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”شَرُّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ“ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَظُنُّهُ قَالَ إِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ وَلَمْ يَشُكَّ يَزِيدُ فَقَالَ اجْلِسْ إِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهَلْ كَانَتْ لَهُمْ أَوْ فِيهِمْ نُخَالَةٌ إِنَّمَا كَانَتِ النُّخَالَةُ بَعْدَهُمْ وَفِي غَيْرِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حسن کہتے ہیں کہ سیدنا عائذبن عمرو رضی اللہ عنہ ، جو کہ نیکوکار صحابہ میں سے تھے، عبید اللہ بن زیاد کے ہاں گئے،اور انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بد ترین حکمران وہ ہوں گے جو لوگوں پر ظلم ڈھائیں گے، پس تو ان میں سے ہونے سے بچ جا۔ آگے سے ابن زیاد نے کہا: بیٹھ جا، تو تو آٹے کے چھانن کی طرح کم تر صحابہ میں سے ہے، انھوں نے کہا: صحابۂ کرام میں سے کم تر کوئی نہیں تھا، یہ کمتری تو بعد والوں میں اور غیر صحابہ میں پائی جاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: الحُطَمَۃُ ایسے بے درد و ظالم چرواہے کو کہتے ہیں جو اونٹوں کو پانی پلانے کے لیے لے جانے اور واپس لے آنے اور ان کو ہانکنے میں ان سے سختی سے پیش آتا ہے اور ان پر ظلم کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برے حکمران کے لیے یہ لفظ بطورِ ضرب المثل بیان کیا ہے، جیسا کہ النھایۃ میں ہے۔ (صحیحہ: ۲۸۸۵)
ظالم حاکم کے بہت زیادہ مفاسد ہیں، اس کی رعایا کا کوئی بندہ بھی اس سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور ظلم و بربریت کی وجہ سے ایسے حاکموں کے دماغ بھی ماؤف ہو چکے ہوتے ہیں اور کئی مظلوم انسانوں کا بارِ گراں ان کے سر پر ہوتا ہے۔ نیز معلوم ہوا کہ صحابہ کرا م کی جماعت کا ہر فرد اعلی اور بلند پایا ہے، ہم میں سے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ان میں سے کسی ہستی پر کوئی تنقید کرے یا ان کو برا بھلا کہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12092
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1830 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20637 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20913»