کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
حدیث نمبر: 12072
قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَعْنِي لِكَعْبٍ إِنِّي أَسْأَلُكَ عَنْ أَمْرٍ فَلَا تَكْتُمْنِي قَالَ وَاللَّهِ لَا أَكْتُمُكَ شَيْئًا أَعْلَمُهُ قَالَ مَا أَخْوَفُ شَيْءٍ تَخَوَّفُهُ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَئِمَّةً مُضِلِّينَ قَالَ عُمَرُ صَدَقْتَ قَدْ أَسَرَّ ذَلِكَ إِلَيَّ وَأَعْلَمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں، تم نے مجھ سے کوئی بات چھپانی نہیں ہے،سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جو کچھ جانتا ہوں، اللہ کی قسم! اس میں سے کچھ بھی آپ سے نہیں چھپاؤں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سب سے زیادہ کس چیز سے خوف کھاتے ہو؟ انہوں نے کہا: گمراہ کرنے والے حکمرانوں سے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے درست کہا ہے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ بات راز دارانہ انداز سے بتلائی تھی۔
حدیث نمبر: 12073
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كُنْتُ مُخَاصِرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى مَنْزِلِهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ”غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ عَلَى أُمَّتِي مِنَ الدَّجَّالِ“ فَلَمَّا خَشِيتُ أَنْ يَدْخُلَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ شَيْءٍ أَخْوَفُ عَلَى أُمَّتِكَ مِنَ الدَّجَّالِ قَالَ ”الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو بہ پہلو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کی طرف جارہا تھا کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: دجال کے علاوہ بھی ایک فتنہ ہے، جس کا مجھے اپنی امت پر اندیشہ ہے۔ جب میں اس بات سے ڈرا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنے گھر میں داخل ہونے لگے ہیں تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اپنی امت پر دجال سے بھی زیادہ کس بات کا اندیشہ رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا۔
وضاحت:
فوائد: … دجال مسلمانوں اور کافروں دونوں کے حق میں بہت بڑی آزمائش ہو گا،مسلمانوں کے لیے موت سے پہلے اور کافروں کے لیے موت کے بعد، لیکن یہ آزمائش مسلمانوں کے لیے وقتی ہے، بالآخروہ سرمدی اور ابدی کامیابی حاصل کر لیں گے،گمراہ حکمرانوں کا مضرّ پہلو دجال کے شرّ و فساد سے بھی زیادہ ہے، کیونکہ رعایا کا جو آدمی ظالم حکمرانوں کی موافقت کرنے لگے، اس کا دین و دنیا خسارے میں پڑ جاتے ہیں اور جو ان کی مخالفت کرے، وہ مصائب کی دھونکنی میں دھونک دیا جاتا ہے یا پھر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
ماضی اورحال میں ظالم اور گمراہ حکمرانوں کے قول و کردار نے اِن احادیث ِ مبارکہ کی توضیح و تصدیق کر دی ہے۔
ماضی اورحال میں ظالم اور گمراہ حکمرانوں کے قول و کردار نے اِن احادیث ِ مبارکہ کی توضیح و تصدیق کر دی ہے۔
حدیث نمبر: 12074
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الْأَئِمَّةُ الضَّالُّونَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے تاکیداً فرمایا کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر گمراہ حکمرانوں کا ہے۔
وضاحت:
۔
فوائد: … اَلنَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْکِھِمْ … لوگ اپنے بادشاہوں والا دین اختیار کرتے ہیں۔ جیسا حکمران ہو گا، ویسی رعایا ہو گی۔ ظالم و جابر حکمرانوں سے عوام بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ جو لوگ منافقت اور چاپلوسی کرتے ہوئے ان کے ساتھ مل جاتے ہیں، وہ دین و دنیا میں خسارہ اٹھاتے ہیں اور جو ان سے دور رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں، ان کو بھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یا تو ان کو قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یا موت کے گھاٹ اترنا پڑتا ہے، یا پھر حکمرانوں کی پابندیوں کے مطابق زندگی گزارنی پڑتی ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث سے مراد گمراہ کن مذہبی پیشوا اور مشائخ ہوں، جو اپنے مریدوں کا اعتقاد بڑھانے اور حسنِ عقیدت قائم رکھنے کے لیے ہزاروں طرح کے مکرو فریب کرتے ہیں اور اپنے مریدوں اور معتقدوں کو راضی رکھنے کے لیے ان کے خلافِ شرع کاموں پر سکوت اختیار کرتے ہیں، لعنت ہو ایسی مولویت اور مشائخیت پر، تر نوالوں کی خاطر شریعت کو مسخ کر رہے ہیں۔ آخر سلف صالحین بھی پیشوا تھے، جو اپنے لیے خود کمائی کرتے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضامندی کی خاطر لوگوں کو نصیحت کرتے، وہ دنیا داروں کے خوف و خطر، پاس و لحاظ اور خفگی و ناراضگی کی کوئی پروا نہ کرتے۔
فوائد: … اَلنَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْکِھِمْ … لوگ اپنے بادشاہوں والا دین اختیار کرتے ہیں۔ جیسا حکمران ہو گا، ویسی رعایا ہو گی۔ ظالم و جابر حکمرانوں سے عوام بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ جو لوگ منافقت اور چاپلوسی کرتے ہوئے ان کے ساتھ مل جاتے ہیں، وہ دین و دنیا میں خسارہ اٹھاتے ہیں اور جو ان سے دور رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں، ان کو بھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یا تو ان کو قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یا موت کے گھاٹ اترنا پڑتا ہے، یا پھر حکمرانوں کی پابندیوں کے مطابق زندگی گزارنی پڑتی ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث سے مراد گمراہ کن مذہبی پیشوا اور مشائخ ہوں، جو اپنے مریدوں کا اعتقاد بڑھانے اور حسنِ عقیدت قائم رکھنے کے لیے ہزاروں طرح کے مکرو فریب کرتے ہیں اور اپنے مریدوں اور معتقدوں کو راضی رکھنے کے لیے ان کے خلافِ شرع کاموں پر سکوت اختیار کرتے ہیں، لعنت ہو ایسی مولویت اور مشائخیت پر، تر نوالوں کی خاطر شریعت کو مسخ کر رہے ہیں۔ آخر سلف صالحین بھی پیشوا تھے، جو اپنے لیے خود کمائی کرتے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضامندی کی خاطر لوگوں کو نصیحت کرتے، وہ دنیا داروں کے خوف و خطر، پاس و لحاظ اور خفگی و ناراضگی کی کوئی پروا نہ کرتے۔