کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب چہارم: حکمرانی طلب کرنے سے ممانعت اور اس سے نفرت دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 12061
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبدالرحمن! حکمرانی یا ذمہ داری طلب نہ کرنا، اگر تجھے تیرے طلب کرنے کے بعد حکمرانی ملی تو تجھے اس کے سپرد کر دیا جائے گا اور اگر تجھے طلب کرنے کے بغیر حکمرانی ملی تو اس بارے میں تیری مدد کی جائے گی اور جب تو کسی کام پر قسم اٹھائے، اسکے بعد تمہیں معلوم ہو کہ اس کے برعکس کام زیادہ بہتر ہے تو وہ کام کر لینا جو زیادہ بہتر ہو اور اپنے حلف کا کفارہ دے دینا۔
وضاحت:
فوائد: … اب اسلامی مملکتوں اور ان کے باسیوں کے مسائل کیسے حل ہوں گے، جبکہ اقتدار کے حصول کیے حریصانِ اقتدار یوں جھپٹ پڑتے ہیں، جیسے ہفتوں کے بھوکے دستر خوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔
جب پوری مملکت کا نظام ان کے سپرد کر دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت بھی شامل حال نہیں ہو گی تو عوام الناس کے مسائل کیسے حل ہوں گے، ایک تانت نہیں، پورا تانا بانا بگڑ گیا ہے۔
لیکن یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جب مسلمانوں کے حالات ناسازگار نہ ہوں اور مستقبل میں زیادہ مسائل پیدا ہو جانے کا خطرہ ہو تو وہ آدمی مسئولیت کا مطالبہ کر سکتا ہے، جس کا مقصد پرخلوص انداز میں اہل اسلام کی خدمت اور امت مسلمہ کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینا ہو، جبکہ وہ اپنے اندر اتنی صلاحیت اور قابلیت کو محسوس بھی کرتا ہو، جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے طویل قحط اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے نبٹنے کے لیے وزارت کا سوال کیا تھا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُوْنِیْ بِہٖٓ اَسْتَخْلِصْہُ لِنَفْسِیْ فَلَمَّا کَلَّمَہ قَالَ اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ۔ قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَایِنِ الْاَرْضِ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ۔} … اور بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ کہ میں اسے اپنے لیے خاص کر لوں، پھر جب اس نے اس سے بات کی تو کہا بلاشبہ تو آج ہمارے ہاں صاحب اقتدار، امانتدار ہے۔اس نے کہا مجھے اس زمین کے خزانوں پر مقرر کر دے، بے شک میں پوری طرح حفاظت کرنے والا، خوب جاننے والا ہوں۔ (سورہ ٔ یوسف: ۵۴، ۵۵)
جب پوری مملکت کا نظام ان کے سپرد کر دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت بھی شامل حال نہیں ہو گی تو عوام الناس کے مسائل کیسے حل ہوں گے، ایک تانت نہیں، پورا تانا بانا بگڑ گیا ہے۔
لیکن یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جب مسلمانوں کے حالات ناسازگار نہ ہوں اور مستقبل میں زیادہ مسائل پیدا ہو جانے کا خطرہ ہو تو وہ آدمی مسئولیت کا مطالبہ کر سکتا ہے، جس کا مقصد پرخلوص انداز میں اہل اسلام کی خدمت اور امت مسلمہ کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینا ہو، جبکہ وہ اپنے اندر اتنی صلاحیت اور قابلیت کو محسوس بھی کرتا ہو، جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے طویل قحط اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے نبٹنے کے لیے وزارت کا سوال کیا تھا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُوْنِیْ بِہٖٓ اَسْتَخْلِصْہُ لِنَفْسِیْ فَلَمَّا کَلَّمَہ قَالَ اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ۔ قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَایِنِ الْاَرْضِ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ۔} … اور بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ کہ میں اسے اپنے لیے خاص کر لوں، پھر جب اس نے اس سے بات کی تو کہا بلاشبہ تو آج ہمارے ہاں صاحب اقتدار، امانتدار ہے۔اس نے کہا مجھے اس زمین کے خزانوں پر مقرر کر دے، بے شک میں پوری طرح حفاظت کرنے والا، خوب جاننے والا ہوں۔ (سورہ ٔ یوسف: ۵۴، ۵۵)
حدیث نمبر: 12062
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ حُجَيْرَةَ الشَّيْخَ يَقُولُ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ نَاجَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِّرْنِي فَقَالَ ”إِنَّهَا أَمَانَةٌ وَخِزْيٌ وَنَدَامَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن حُجیرہ کہتے ہیں:سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے سننے والے آدمی نے مجھے بیان کیا کہ انھوں نے کہا: میں ایک رات صبح تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سرگوشیاں کرتا رہا، میں نے باتوں باتوں میں عرض کیا، اللہ کے رسول! مجھے کسی علاقہ کا امیربنادیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حکمرانی امانت ہے اور قیامت کے دن، شرمندگی، اور رسوائی کا باعث ہوگی، ما سوائے اس آدمی کے، جو اس ذمہ داری کو حق کے ساتھ لے اور اس ضمن میں اپنے اوپر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو ادا کرے۔
وضاحت:
فوائد: … بہت کم اور خاص لوگ ہیں، جنھوں نے حکمرانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت پائی ہے، وگرنہ اکثریت تو اپنی نا اہلی اور ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے اس منصب کا حق ادا نہ کر سکی۔
قارئین کرام! آپ خود اندازہ لگائیں کہ ہم اپنے اپنے گھروں کے پانچ دس افراد کے اور اداروں کے پرنسپل اور مدیر سو دو سو بچوں کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہیں اور جو کروڑوں افراد کی ذمہ داری قبول کر لیتا ہے، وہ کیا کرے گا، الا ما شاء اللہ۔
قارئین کرام! آپ خود اندازہ لگائیں کہ ہم اپنے اپنے گھروں کے پانچ دس افراد کے اور اداروں کے پرنسپل اور مدیر سو دو سو بچوں کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہیں اور جو کروڑوں افراد کی ذمہ داری قبول کر لیتا ہے، وہ کیا کرے گا، الا ما شاء اللہ۔
حدیث نمبر: 12063
وَعَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا أَبَا ذَرٍّ لَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ وَلَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے ابوذر! تو کسی یتیم کے مال پر نگران نہ بننا اور دوآدمیوں کے اوپر امیر نہ بننا۔
حدیث نمبر: 12064
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ وَسَتَصِيرُ حَسْرَةً وَنَدَامَةً“ قَالَ حَجَّاجٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ”نِعْمَتِ الْمُرْضِعَةُ وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ“ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ وَسَتَصِيرُ نَدَامَةً وَحَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَبِئْسَتِ الْمُرْضِعَةُ وَنِعْمَتِ الْفَاطِمَةُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ عنقریب امارت،حکمرانی کا لالچ کرو گے، لیکن یہ چیز قیامت والے دن بطورِ انجام حسرت اور ندامت ہو گی، یہ دودھ پلانے کے لحاظ سے تو بہت اچھی ہے، لیکن دودھ چھڑانے کی حیثیت میں بہت بری ہے۔ ایک روایت میں ہے: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم عنقریب امارت اور حکمرانی کا لالچ کر وگے، لیکن قیامت کے دن اس کا انجام مذامت اور حسرت ہوگا، یہ دودھ پلاتے ہوئے بہت اچھی اور دودھ چھڑانے کے بعد بہت بری لگتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ابو الحسن سندھی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: فَنِعْمَتِ الْمُرْضِعَۃُ (دودھ پلانے والی تو اچھی ہوتی ہے) سے مراد زندگی کی حالت ہے، جو امارت تک پہنچاتی ہے اور وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَۃُ (دودھ چھڑانے والی بڑی بری ہوتی ہے) سے مراد وہ حالت ہے، جس میں امارت کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے اور وہ موت ہے، ان دو جملوں کا مفہوم یہ ہوا کہ امارت والوں کی زندگی تو بڑی اچھی ہوتی ہے، لیکن موت بڑی بری ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔ (صحیحہ: ۲۵۳۰)
دنیا میں سب سے زیادہ ذمہ داریاں وقت کے امیر او رحاکم پر عائد ہوتی ہیں، انھوں نے رعایا کے ہر فرد کی مذہبی ضرورت پوری کرنی ہے، اپنی سلطنت میں قرآن و حدیث کے احکام عملی طور پر نافذ کرنے ہیں، مساجد کی امامت کا عہدہ سنبھالنا ہے، موقع ملے تو فتوحات کے سلسلے کو جاری رکھنا ہے، ہر گھر کی مالی اور دنیوی ضرورتیں پوری کرنی ہیں، رعایا کی دشمنانِ اسلام سے حفاظت کرنی ہے، اسلام کو پچھلی نسلوںسے منتقل کر کے اگلی نسلوں تک پہنچانا ہے، رعایا کے کسی فرد کو کسی دوسرے فرد پر ظلم کرنے کا موقع نہیں دینا … … غرضیکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نیابت اختیار کرنی ہے۔
لیکن یہ ذمہ داریاں کون پوری کرے گا، خصوصا اس دور میں، جہاں عیاشیوں کے لیے عہدوں کے تختوں پر چڑھا
جاتا ہے۔ سچ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، کہ امارت و حاکمیت کی گھڑیاں ندامت و حسرت کا سماں پیدا کریں گی، لیکن اس وقت، جب پچھتاوا فائدہ نہیں دے گا۔
دنیا میں سب سے زیادہ ذمہ داریاں وقت کے امیر او رحاکم پر عائد ہوتی ہیں، انھوں نے رعایا کے ہر فرد کی مذہبی ضرورت پوری کرنی ہے، اپنی سلطنت میں قرآن و حدیث کے احکام عملی طور پر نافذ کرنے ہیں، مساجد کی امامت کا عہدہ سنبھالنا ہے، موقع ملے تو فتوحات کے سلسلے کو جاری رکھنا ہے، ہر گھر کی مالی اور دنیوی ضرورتیں پوری کرنی ہیں، رعایا کی دشمنانِ اسلام سے حفاظت کرنی ہے، اسلام کو پچھلی نسلوںسے منتقل کر کے اگلی نسلوں تک پہنچانا ہے، رعایا کے کسی فرد کو کسی دوسرے فرد پر ظلم کرنے کا موقع نہیں دینا … … غرضیکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نیابت اختیار کرنی ہے۔
لیکن یہ ذمہ داریاں کون پوری کرے گا، خصوصا اس دور میں، جہاں عیاشیوں کے لیے عہدوں کے تختوں پر چڑھا
جاتا ہے۔ سچ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، کہ امارت و حاکمیت کی گھڑیاں ندامت و حسرت کا سماں پیدا کریں گی، لیکن اس وقت، جب پچھتاوا فائدہ نہیں دے گا۔
حدیث نمبر: 12065
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”وَيْلٌ لِلْأُمَرَاءِ وَيْلٌ لِلْعُرَفَاءِ وَيْلٌ لِلْأُمَنَاءِ لَيَتَمَنَّيَنَّ أَقْوَامٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ ذَوَائِبَهُمْ كَانَتْ مُعَلَّقَةً بِالثُّرَيَّا يَتَذَبْذَبُونَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَمْ يَكُونُوا عَمِلُوا عَلَى شَيْءٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حکمرانوں کے لیے تباہی ہے، ان کے ماتحت افسروں اور کارندوں کے لیے ہلاکت ہے، دنیا میں جن لوگوں کو امین سمجھ کر امانات ان کے سپرد کی گئیں، ان کے لیے ہدایت ہے، یہ لوگ قیامت کے دن تمنا کریں گے کہ کاش ان کے سر کے بال ثریا ستارے کے ساتھ باندھ دئیے جاتے اور یہ آسمان اور زمین کے درمیان لٹکتے رہتے اور یہ ذمہ داری قبول نہ کرتے۔
وضاحت:
فوائد: … اربابِ حکومت اور دوسرے عہدیداران اس حدیث کا بدرجۂ اتم مصداق ہیں، انتہائی شاذو نادر شخصیات کے علاوہ ہر کوئی جانبداری اور رشوت خوری میں مبتلا ہے۔ قوم کے خزانوں کے منہ مخصوص ہستیوں کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔
حدیث نمبر: 12066
وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”وَيْلٌ لِلْوُزَرَاءِ لَيَتَمَنَّى أَقْوَامٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ ذَوَائِبَهُمْ كَانَتْ مُعَلَّقَةً بِالثُّرَيَّا يَتَذَبْذَبُونَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَأَنَّهُمْ لَمْ يَلُوا عَمَلًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وزیروں کے لیے ہلاکت ہے، یہ لوگ قیامت کے دن یہ تمنا کریں گے کہ کاش ان کے سر کے بالوں کو ثریا ستارے کے ساتھ لٹکا دیا جاتا اور یہ آسمان و زمین کے درمیان لٹکتے رہتے، لیکن یہ ذمہ داری قبول نہ کرتے۔
حدیث نمبر: 12067
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ أَشَدَّهُمْ كَرَاهِيَةً لِهَذَا الشَّأْنِ حَتَّى يَقَعَ فِيهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں میں سب سے اچھا اس آدمی کو پاؤگے جو امارت و حکمرانی کو سب سے زیادہ ناپسند کرتا ہو گا، یہاں تک کہ وہ اس میں پڑ جائے۔
وضاحت:
فوائد: … ایسے لوگ امارت کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر اس کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، خلفائے راشدین اور عمر بن عبد العزیز جیسی ہستیوں کی سوانح عمریوں سے ان ذمہ داریوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 12068
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ رَجُلَانِ مَعِي مِنْ قَوْمِي قَالَ فَأَتَيْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَا وَتَكَلَّمَا فَجَعَلَا يُعَرِّضَانِ بِالْعَمَلِ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ رُئِيَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَخْوَنَكُمْ عِنْدِي مَنْ يَطْلُبُهُ فَعَلَيْكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“ قَالَ فَمَا اسْتَعَانَ بِهِمَا عَلَى شَيْءٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری قوم کے دو آدمی میرے ساتھ آئے، ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو کی اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئولیت کا مطالبہ کیا، ان کی یہ بات سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک تبدیل ہوگیا یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضی کے آثار آپ کے چہرہ پر دکھائی دینے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ـ: جو آدمی امارت کا طلبگار ہو، میر ے نزدیک تم سب سے بڑھ کر خائن ہے، تم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو کسی ذمہ داری پر مامور نہ کیا۔
حدیث نمبر: 12069
عَنْ سِمَاكٍ عَنْ ثَرْوَانَ بْنِ مِلْحَانَ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ فَمَرَّ عَلَيْنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْفِتْنَةِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يَكُونُ بَعْدِي قَوْمٌ يَأْخُذُونَ الْمُلْكَ يَقْتُلُ عَلَيْهِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا“ قَالَ قُلْنَا لَهُ لَوْ حَدَّثَنَا غَيْرُكَ مَا صَدَّقْنَاهُ قَالَ فَإِنَّهُ سَيَكُونُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ثروان بن ملحان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مسجد میں بیٹھے تھے، ہمارے پاس سے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا، ہم نے ان سے عرض کیا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فتنہ کے بارے میں کچھ سنا ہو تو ہمیں بیان کریں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ میرے بعد کچھ لوگ آئیں گے، جو ایک دوسرے کو قتل کر کے حکومت حاصل کریں گے۔ ہم نے ان سے کہا: اگر کوئی دوسرا آدمی ہمیں یہ حدیث بیان کرتا تو ہم اس کی تصدیق نہ کرتے، انہوں نے کہا: ایسا عنقریب ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن اقتدار کے حریصوں کی زندگیاں اسی انداز میں گزری ہیں۔
حدیث نمبر: 12070
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ بَعَثَنِي إِلَى الشَّامِ يَا يَزِيدُ إِنَّ لَكَ قَرَابَةً عَسَى أَنْ تُؤْثِرَهُمْ بِالْإِمَارَةِ وَذَلِكَ أَكْبَرُ مَا أَخَافُ عَلَيْكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَحَدًا مُحَابَاةً فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا حَتَّى يُدْخِلَهُ جَهَنَّمَ وَمَنْ أَعْطَى أَحَدًا حِمَى اللَّهِ فَقَدِ انْتَهَكَ فِي حِمَى اللَّهِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ أَوْ قَالَ تَبَرَّأَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یزید بن ابی سفیان کہتے ہیں: سیدناابو بکر رضی اللہ عنہ نے جب مجھے شام کی طرف روانہ کیا تو مجھ سے کہا: اے یزید! وہاں تیری قرابت داری ہے، ہوسکتا ہے تم ذمہ داریاں دینے میں اپنے قرابت داروں کو ترجیح دو، مجھے تمہارے بارے میں اس بات کا سب چیزوں سے زیادہ اندیشہ ہے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مسلمانوں کے امور میں سے کسی امر کا ذمہ دار بنے، پھر وہ اپنی پسند کے پیش نظر کسی کو ان پر حاکم بنائے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو گی۔ یایوں فرمایا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ ختم ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 12071
وَعَنْ مَسْعُودِ بْنِ قَبِيصَةَ أَوْ قَبِيصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ يَقُولُ صَلَّى هَذَا الْحَيُّ مِنْ مُحَارِبٍ الصُّبْحَ فَلَمَّا صَلَّوْا قَالَ شَابٌّ مِنْهُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّهُ سَيُفْتَحُ لَكُمْ مَشَارِقُ الْأَرْضِ وَمَغَارِبُهَا وَإِنَّ عُمَّالَهَا فِي النَّارِ إِلَّا مَنِ اتَّقَى اللَّهَ وَأَدَّى الْأَمَانَةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مسعود بن قبیصہ یا قبیصہ بن مسعود کہتے ہیں کہ بنو محارب کے اس قبیلہ کے لوگوں نے نمازِ فجر ادا کی، جب وہ نماز پڑھ چکے تو ان میں سے ایک نوجوان نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: عنقریب تمہارے لیے زمین کے مشرق و مغرب کی فتح ہو گی، لیکن خبردار! نگران حکمران جہنم میں جائیں گے، سوائے ان لوگوں کے جو اللہ سے ڈر گئے اور امانت ادا کی۔