کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
حدیث نمبر: 12056
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا مِنْ نَبِيٍّ وَلَا وَالٍ إِلَّا وَلَهُ بِطَانَتَانِ بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَفِي رِوَايَةٍ وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا وَمَنْ وُقِيَ شَرَّهُمَا فَقَدْ وُقِيَ وَهُوَ مَعَ الَّتِي تَغْلِبُ عَلَيْهِ مِنْهُمَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی اور حاکم کے دو ہم راز ہوتے ہیں، ایک ہم راز اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے منع کرتا ہے اور دوسرا اس کی ہلاکت و تباہی کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتا۔ جو حاکم اس کے شرّ سے بچ گیا، وہ تو محفوظ ہو گیا اور وہ اس کے ساتھ ہوتا ہے جو ان میں سے غالب آجاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … حافظ ابن حجر نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی درج ذیل حدیث اِس حدیث کے معنی میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ وَلِیَ مِنْکُمْ عَمَلًا فَارَادَ اللّٰہُ بِہٖ خَیْرًا جَعَلَ لَہٗ وَزِیْرًا صَالِحًا اِنْ نَسِیَ ذَکَرَہٗ وَاِنْ ذَکَرَ اَعَانَہٗ۔)) … جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ذمہ دار بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے تو اسے نیک وزیر عطا کرتا ہے، اگر وہ بھول جائے تو وہ اسے یاد کراتا ہے اور اگر اسے یاد ہو تو وہ اس کی اعانت کرتا ہے۔ ابن التین نے کہا: ممکن ہے کہ دو ہم رازوں سے مراد دو وزیر ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اِن سے مراد فرشتہ اور شیطان ہوں۔ جبکہ کرمانی کا خیال ہے کہ ان سے نفسِ امارہ اور نفسِ مطمئنہ بھی مراد لیے جا سکتے ہیں۔ (فتح الباری: ۱۳/۲۳۶)
حافظ ابن حجر نے اس بحث سے پہلے اشہب کا قول نقل کرتے ہوئے کہا: حاکم کو چاہیے کہ لوگوں کے احوال سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے بااعتماد، مامون، سمجھدار اور عقلمند لوگوں کی تقرری کرے، کیونکہ جب وہ غیر معتمد لوگوں کو معتبر سمجھنا شروع کرتا ہے، اس وقت تباہیاں حاکم کا مقدر بن جاتی ہیں۔ (فتح الباری: ۱۳/۲۳۶)
درج ذیل حدیث سے بھی اس موضوع کی خوب توضیح ہو رہی ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا اَرَادَ اللّٰہُ بِالْاَمِیْرِ خَیْرًا جَعَلَ لَہٗ وَزِیْرَ صِدْقٍ: اِنْ نَسِیَ ذَکَّرَہٗ وَاِنْ ذَکَرَ اَعَانَہٗ، وَاِذَا اَرَادَ اللّٰہٗ بِہٖ غَیْرَ ذَالِکَ جَعَلَ لَہٗ وَزِیْرَ سُوْئٍ: اِنْ نَسِیَ لَمْ یُذَکِّرْہُ وَاِنْ ذَکَرَ لَمْ یُعِنْہٗ۔)) … جب اللہ تعالیٰ کسی امیر کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں تو اسے سچا
وزیر عطا کر دیتے ہیں، جب وہ بھولتا ہے تو وہ اسے یاد کراتا ہے اور اگر اسے یاد ہوتا ہے تو وہ اس کی معاونت کرتا ہے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کسی امیر کے ساتھ دوسرا ارادہ کرتے ہیں تو اسے برا وزیر دے دیتے ہیں، جب وہ بھول جاتا ہے تو وہ اسے یاد نہیں کراتا اور اگر اسے یاد ہو تو وہ اس کی مدد نہیں کرتا۔ (ابوداود: ۲۹۳۲)
لیکن کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسی قانون میں داخل ہیں؟ تو دوسری احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حفاظت و سلامت میں رکھا، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے: سیدنا ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا بَعَثَ اللّٰہُ مِنْ نَّبِیٍّ وَلَا اسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِیْفَۃٍ اِلاَّ کَانَتْ لَہٗ بِطَانَتَانِ: بِطَانَۃً تَاْمُرُہٗ بِالْمَعْرُوْفِ وَتْحُضُّہٗ عَلَیْہِ وَبِطَانَۃً تَاْمُرُہٗ بِالشَّرِ وَتَحُضُّہٗ عَلَیْہِ فَالْمَعْصُوْمُ مَنْ عَصَمَ اللّٰہٗ تَعَالٰی۔)) … اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا اور نہ کسی خلیفے کو خلافت عطا کی، مگر اس کے ساتھ دو ہم راز ہوتے ہیں، ایک ہم راز اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور اس کی رغبت دلاتا ہے اور ایک ہم راز شرّ کا حکم دیتا ہے اور اس پر آمادہ کرتا ہے، اور معصوم وہ ہے، جسے اللہ تعالیٰ بچا لے۔ (صحیح بخاری: ۷۱۹۸)
اس لیے شرّ والے ہم راز کی صحبت اور آمادگی سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی بات قبول کر لیں۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں دو ہم رازوں سے مراد فرشتہ اور شیطان ہوں، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْکُمْ مِنْ اَحَدٍ اِلاَّ وَقَدْ وَکَّلَ اللّٰہٗ بِہٖ قَرِیْنَہٗ مِنَ الْجِنِّ)) قَالُوْا: وَاِیَّاکَ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَاِیَّایَ، اِلاَّ اَنَّ اللّٰہَ اَعَانَنِیْ عَلَیْہِ فَاَسْلَمَ، فَـلَا یَأْمُرُنِیَ اِلاَّ بِخَیْرٍ۔)) … اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک شیطان مصاحب مقرر کر دیا ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ (کا معاملہ بھی یہی ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی، میرے ساتھ بھی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری مدد کی اور وہ مسلمان ہو گیا، اب وہ مجھے صرف خیر کا حکم دیتا ہے۔ (صحیح مسلم: ۲۸۱۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12056
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه النسائي: 7/ 158، والترمذي: 2369 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7239 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7239»
حدیث نمبر: 12057
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا فَأَرَادَ بِهِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ صِدْقٍ فَإِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس آدمی کو مسلمانوں کے معاملات سپرد کردے اور پھر اس کے بارے میں خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو مخلص وزیر عطا کر دیتا ہے، وہ اگر بھولنے لگتا ہے تو وہ وزیر اسے یاددہانی کرادیتا ہے اور اگر اسے بات یادرہتی ہے تو وہ وزیر اس کی اعانت کر دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ جو حکمران مسلمانوں کے ساتھ مخلص ہوں گے، وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اپنے لیے اچھے حواریوں کا انتخاب کریں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12057
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، اخرجه ابوداود: 2932، والنسائي: 7/ 159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24414 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24918»
حدیث نمبر: 12058
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَا بُعِثَ مِنْ نَبِيٍّ وَلَا اسْتُخْلِفَ مِنْ خَلِيفَةٍ إِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی نبی کو مبعوث نہیں کیا گیا اور کسی خلیفہ کو خلافت عطا نہیں کی گئی، مگر اس کے دو خاص مشیر ہوتے ہیں، ایک مشیر اسے اچھائی کا حکم دیتا ہے اور اس کی ترغیب دلاتا ہے اور دوسرا مشیر اسے برائی کا حکم دیتا اور اس پر آمادہ کرتا رہتا ہے، بہرحال معصوم وہی ہو گا، جس کو اللہ تعالیٰ بچا لے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12058
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 7198، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11342 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11362»
حدیث نمبر: 12059
حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَأَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَسَنٌ يَوْمَ الْأَضْحَى فَقَرَّبَ إِلَيْنَا خَزِيرَةً فَقُلْتُ أَصْلَحَكَ اللَّهُ لَوْ قَرَّبْتَ إِلَيْنَا مِنْ هَذَا الْبَطِّ يَعْنِي الْوَزَّ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَكْثَرَ الْخَيْرَ فَقَالَ يَا ابْنَ زُرَيْرٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يَحِلُّ لِلْخَلِيفَةِ مِنْ مَالِ اللَّهِ إِلَّا قَصْعَتَانِ قَصْعَةٌ يَأْكُلُهَا هُوَ وَأَهْلُهُ وَقَصْعَةٌ يَضَعُهَا بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن زریر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں عیدالا ضحی کے روز سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا،انہوں نے خزیرہ ہمیں پیش کیا، میں نے عرض کیا: اللہ آپ کے احوال کی اصلاح فرمائے، اگر آپ اس بطخ کے گوشت میں سے کچھ ہمارے سامنے پیش کر دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا، اللہ نے آپ کو آسودہ اور خوش حال بنایا ہے، انہوں نے کہا: اے ابن زریر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: خلیفہ کے لیے اللہ کے مال یعنی بیت المال میں صرف دو پیالے لینا حلال ہے، ایک پیالہ اپنے اور اس کے اہل و عیال کے کھانے کے لیے اور دوسرا لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے۔
وضاحت:
فوائد: … خزیرہ: گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ کر ان کو پانی میں پکایا جاتا ہے، جب وہ پک جاتے ہیں تو ان پر آٹا ڈالا جاتا ہے۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث پر یہ عنوان قائم کرتے ہیں: مَالِلْخَلِیْفَۃِ مِنْ بَیْتِ الْمَالِ … خلیفہ کا بیت المال میں کتنا حصہ ہے۔
دراصل خلیفہ عوام کا خادم ہوتا ہے، وہ لوگوں کی مذہبی اصلاح کرتا ہے، وہ لوگوں کو امن مہیا کرتا ہے، جس کا صلہ وہ اللہ تعالیٰ سے وصول کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خلیفہ کو سادہ زندگی گزارنے کی رغبت دلائی۔
لیکن آج کل عہدے سنبھالنے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ موجودہ دور کا معیار پورا کیا جائے اور مستقبل کے لیے بہت کچھ جمع کر لیا جائے، قطع نظر اس سے کہ وہ حلال ہے یا حرام، حکومتی عہدیدار اپنے ذاتی مقاصد پورے کرنے کے لیے قوم کی دولت داؤ پر لگا دیتے ہیں۔
آخرت کا معاملہ تو در کنار، جو حکمران دنیا میں اپنی نیک نامی اور اچھائی پسند کرتا ہو، اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان اداؤں کا پابند بننا پڑے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12059
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 578 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 578»
حدیث نمبر: 12060
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّتْ إِبِلُ الصَّدَقَةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى وَبَرَةٍ مِنْ جَنْبِ بَعِيرٍ فَقَالَ ”مَا أَنَا بِأَحَقَّ بِهَذِهِ الْوَبَرَةِ مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صدقہ کے اونٹ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب سے گزرے،آپ نے ایک اونٹ کے پہلو سے اون کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: اس اون کا جتنا حقدار ایک عام مسلمان ہے، میں میرا حق اس سے زیادہ حقدار نہیں ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12060
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن بشواهده، اخرجه ابويعلي: 463، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 667 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 667»