حدیث نمبر: 12035
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَكُونُ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ“ قَالَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ فَأَتَتْهُ قُرَيْشٌ فَقَالُوا ثُمَّ يَكُونُ مَاذَا قَالَ ”ثُمَّ يَكُونُ الْهَرْجُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد بارہ خلفا آئیں گے، جن کا تعلق قریش خاندان سے ہوگا۔ یہ کہنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لے گئے، قریش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دریافت کیا: اس کے بعد کیاہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد قتل ہو گا۔
حدیث نمبر: 12036
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ عَنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا حَتَّى يَكُونَ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ يَخْرُجُ كَذَّابُونَ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ ثُمَّ تَخْرُجُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَ الْأَبْيَضِ كِسْرَى وَآلِ كِسْرَى وَإِذَا أَعْطَى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَدَكُمْ خَيْرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَأَهْلِهِ وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عامر بن سعد کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دین غالب رہے گا، یہاں تک کہ قریش کے بارہ خلفاء ہوں گے، ان کے بعد قیامت سے قبل کچھ جھوٹے لوگ پیدا ہوں گے، ان کے بعد مسلمانوں کی ایک جماعت آئے گی، وہ کسری اور آل کسری کے سفید خزانوں کو باہر نکال لائیں گے، جب اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کو مال و برکت سے نوازے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے آپ پر اور پھر اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنے سے ابتدا کرے اور میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کی وضاحت میں مختلف قسم کی آراء پیش کی گئی ہیں۔ کیونکہ کئی صدیوں تک قریشیوں کی خلافت جاری رہی، کئی خلفاء اور امراء گزرے۔ اب اس حدیث میں مذکورہ بارہ خلفاء سے مراد کون لو گ ہیں؟ ہر ایک نے اس حدیث کے مختلف طرق سے ثابت ہونے والے متون اور تاریخ پر نگاہ رکھ کر اپنا اپنا نظریہ پیش کیا، کچھ تفصیل یہ ہے: ۱۔ اس حدیث کا مصداق یہ ہے کہ زمین کے مختلف خطوں میں یہ بارہ خلفاء ایک وقت میں ہوں گے اور پانچویں صدی ہجری میں عملی طور پر ایسے ہوا۔ اندلس میں پانچ افراد، جن میں ہر کوئی خلیفہ ہونے کا دعوی کرتا تھا، اُدھر مصر کا خلیفہ، بغداد میں عباسیوں کا خلیفہ اور اس کے ساتھ مختلف علاقوں میں علویوں اور خوارج کے خلفاء تھے۔
۲۔ اس سے مراد بنوامیہ کے بارہ خلفاء ہیں، بشرطیکہ ان میں صحابہ کو شمار نہ کیا جائے، اس اعتبار سے پہلا خلیفہ یزید بن معاویہ اور آخری مروان حمار تھا، یہ کل تیرہ بنتے ہیں۔ اگر مروان بن حکم کا شمار اس بنا پر نہ کیا جائے کہ ان کی صحبت میں اختلاف ہے یا وہ زبردستی قابض ہو گئے تھے تو یہ کل بارہ بنتے ہیں۔ بنوامیہ کے دور حکومت کے بعد فتنوں اور لڑائیوں کا دور شروع ہو گیا تھا۔
۳۔ یہ بارہ خلفاء امام مہدی کے بعد ہوں گے، جو آخری زمانے میں عیسی علیہ السلام سے پہلے تشریف لائیں گے۔
۴۔ اس سے مرادوہ درج ذ یل بارہ خلفاء ہیں جن پر لوگ متحد ہو گئے تھے: (۱) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ (۲) سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ (۳) سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ (۴) سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ (۵) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ (۶) یزید بن معاویہ(۷) عبد الملک بن مروان(۸)ولید بن عبد الملک (۹) سلیمان بن عبد الملک (۱۰) یزید بن عبد الملک(۱۱) ہشام بن عبد الملک (۱۲)ولید بن یزید بن عبد الملک، سلیمان بن عبد الملک اور یزید بن عبد الملک کے درمیان عمر بن عبد العزیز کا دور تھا۔
۵۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے عمر بن عبد العزیز تک کل چودہ خلفاء گزرے، ان میں دو کی نہ ولایت درست تھی اور نہ مدّت لمبی تھی اور وہ معاویہ بن یزید اور مروان بن حکم ہیں۔ ان میں سے اکثر خلفاء اپنے عہدِ خلافت میں ہر اعتبارسے تقریبا منظم رہے، اگرچہ قابل جرح امور بھی منظر عام پر آئے، لیکن وہ مثبت پہلووؤں کی بہ نسبت شاذو نادرتھے۔ (فتح الباری: ۷۲۲۲ کے تحت)
۲۔ اس سے مراد بنوامیہ کے بارہ خلفاء ہیں، بشرطیکہ ان میں صحابہ کو شمار نہ کیا جائے، اس اعتبار سے پہلا خلیفہ یزید بن معاویہ اور آخری مروان حمار تھا، یہ کل تیرہ بنتے ہیں۔ اگر مروان بن حکم کا شمار اس بنا پر نہ کیا جائے کہ ان کی صحبت میں اختلاف ہے یا وہ زبردستی قابض ہو گئے تھے تو یہ کل بارہ بنتے ہیں۔ بنوامیہ کے دور حکومت کے بعد فتنوں اور لڑائیوں کا دور شروع ہو گیا تھا۔
۳۔ یہ بارہ خلفاء امام مہدی کے بعد ہوں گے، جو آخری زمانے میں عیسی علیہ السلام سے پہلے تشریف لائیں گے۔
۴۔ اس سے مرادوہ درج ذ یل بارہ خلفاء ہیں جن پر لوگ متحد ہو گئے تھے: (۱) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ (۲) سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ (۳) سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ (۴) سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ (۵) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ (۶) یزید بن معاویہ(۷) عبد الملک بن مروان(۸)ولید بن عبد الملک (۹) سلیمان بن عبد الملک (۱۰) یزید بن عبد الملک(۱۱) ہشام بن عبد الملک (۱۲)ولید بن یزید بن عبد الملک، سلیمان بن عبد الملک اور یزید بن عبد الملک کے درمیان عمر بن عبد العزیز کا دور تھا۔
۵۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے عمر بن عبد العزیز تک کل چودہ خلفاء گزرے، ان میں دو کی نہ ولایت درست تھی اور نہ مدّت لمبی تھی اور وہ معاویہ بن یزید اور مروان بن حکم ہیں۔ ان میں سے اکثر خلفاء اپنے عہدِ خلافت میں ہر اعتبارسے تقریبا منظم رہے، اگرچہ قابل جرح امور بھی منظر عام پر آئے، لیکن وہ مثبت پہلووؤں کی بہ نسبت شاذو نادرتھے۔ (فتح الباری: ۷۲۲۲ کے تحت)
حدیث نمبر: 12037
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَلْ سَأَلْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمْ تَمْلِكُ هَذِهِ الْأُمَّةُ مِنْ خَلِيفَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ قَدِمْتُ الْعِرَاقَ قَبْلَكَ ثُمَّ قَالَ نَعَمْ وَلَقَدْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”اثْنَا عَشَرَ كَعِدَّةِ نُقَبَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مسروق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہ ہمیں قرآن کریم پڑھا رہے تھے، اس دوران ایک آدمی نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمن! کیا آپ نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کبھی یہ دریافت کیا کہ اس امت میں کتنے خلفاء آئیں گے؟ انھوں نے کہا: میں جب سے عراق میں آیاہوں، آپ سے پہلے کسی نے مجھ سے یہ سوال نہیں کیا، جی ہاں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تھا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتھا کہ میری امت میں خلفاء کی تعداد بارہ ہو گی، جو بنو اسرائیل کے نقباء کی تعداد تھی۔
حدیث نمبر: 12038
عَنْ سَفِينَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ عَامًا ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ الْمُلْكُ“ قَالَ سَفِينَةُ أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَنَتَيْنِ وَخِلَافَةَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَشْرَ سِنِينَ وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اثْنَيْ عَشَرَ سَنَةً وَخِلَافَةَ عَلِيٍّ سِتَّ سِنِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سفینہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خلافت تیس برس تک رہے گی، بعد ازاں ملوکیت آجائے گی۔ سفینہ نے کہا، ذرا شمار کرو، دو سال سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت، دس سال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت، بارہ سال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت اور چھ سال سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت تھی۔
وضاحت:
فوائد: … خلفائے راشدین کے ادوار خلافت کی تفصیل یہ ہے: سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ: دو سال، تین ماہ، دس دن
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ: دس سال، چھ ماہ، آٹھ دن
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ: گیارہ سال، گیارہ ماہ، نو دن
سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ: چار سال، نو ماہ، سات دن
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ: چھ ماہ
سنن ابی داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((خِلَافَۃُ النُّـبُوَّۃِ ثَـلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُؤْتِی اللّٰہُ الْمُلْکَ اَوْ مَلَّکَہُ مَنْ یَّشَائُ۔)) … تیس سال تک نبوت والی خلافت رہے گی، پھر اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا، اپنی بادشاہت عطا کر دے گا۔ ملا علی قاری نے کہا: اس حدیث کا یہ معنی معلوم ہوتا ہے کہ تیس سال تک خلافت ِ کاملہ جاری رہے گی، اس میں مخالفت کا اور حق سے دور ہونے کا عنصر نہیں ہو گا، لیکن اس کے بعد کبھی یہ وصف مثبت نظر آئے گا اور کبھی منفی۔ (مرقاۃ: ۹/ ۲۷۱)
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ بادشاہت فی نفسہ کوئی مذموم چیز نہیں ہے، کہ اس حدیث کا معنی یہ کیا جائے کہ تیس سالہ دورِ خلافت کے بعد والی امارت و ملوکیت پر طعن و تشنیع شروع کر دیا جائے۔ اسلام میں وہ بادشاہت مذموم ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام سے عملاً یا علماً اور عملاً ناآشنا ہو۔ ایسے بادشاہ کو امیر المومنین کا لقب دیا جائے یا خلیفۃ المسلمین کا، اس سے اس کی امارت یا خلافت کو کوئی سہارا نہیں ملے گا۔ اسلام میں القاب کا اعتبار نہیں ہے، عمل
اور حقیقت کو معتبر سمجھا جاتا ہے۔ اگر کسی بادشاہ کا مقصد دین حق کی اشاعت اور اس کی سر بلندی، اسلامی تہذیب و تمدن کا نفاذ اور اس کا فروغ ہو، تو وہ قابل تعریف ہو گا، اگرچہ وہ باپ کے مر جانے کے بعد وراثۃً تخت نشین ہوا ہو۔ آج کل لوگوں نے نفس بادشاہت کو خلافت و نبوت کے منافی تصور کر رکھا ہے، جس کے لیے کوئی شرعی بنیاد نہیں۔ علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں: وہ بادشاہت، جو تصورِ خلافت کے منافی اور مخالف ہے، وہ جبروتیت (اور سرکشی) ہے، جسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس وقت کسریت سے تعبیر کیا تھا، جب اس کے کچھ ظاہری آثار سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ میں انہوں نے دیکھے۔ لیکن وہ بادشاہت جس میں قہر و غلبہ، عصبیت اور شکوہ نہ ہو، وہ خلافت کے منافی ہے نہ نبوت کے۔ سلیمان علیہ السلام اور داود علیہ السلام دونوں نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی تھے، لیکن اس کے باوجود وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور دنیوی امور میں راہِ مستقیم پر قائم رہے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کی بادشاہت بھی ایسے ہی تھی، ان کا مقصد محض بادشاہت کا حصول یا دنیاوی عزّ و جاہ میں اضافہ نہ تھا۔ جب مسلمان اکثر حکومتوں پر غالب آ گئے تو طبعی عصبیت کی بنا پر ان کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہوا، بہرحال وہ مسلمانوں کے خلیفہ تھے، انھوں نے مسلم قوم کی اسی طرح رہنمائی کی، جس طرح بادشاہ اپنی اقوام کی اس وقت کرتے ہیں، جب قومی عصبیت اور شاہی مزاج اس کا متقاضی ہوتا ہے۔
اسی طرح دیندار خلفاء کا حال ہے جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد ہوئے۔ انہیں بھی جب ضرورت لاحق ہوئی شاہانہ طور طریقے استعمال کیے۔ ان خلفاء کے حالات کا مطالعہ کرتے وقت اس بات کی ضرورت ہے کہ صرف صحیح روایات پر اعتماد کیا جائے نہ کہ کمزور روایات پر۔ جس خلیفہ کے افعال ٹھیک ہوں وہ خلیفہ ٔ رسول ہے اور جو اس معیار پر پورا نہ اترے وہ دنیا کے عام بادشاہوں کی طرح بادشاہ ہے، اگرچہ اس کو خلیفہ ہی کیوں نہ کہا جاتا ہو۔ (تاریخ ابن خلدون: ۲/ ۱۴۲)
حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں اصل مطاع اور قانون ساز اللہ تعالیٰ ہے، خلیفہ کا منصب نہ قانون سازی ہے اور نہ اس کی ہر بات واجب الاطاعت ہے، وہ اللہ کے حکم کا پابند اور اس کو نافذ کرنے والا ہے اور اس کی اطاعت بھی اسی شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ حکمرانی کا یہ تصور پہلے چار خلفاء کے دل و دماغ میں جس شدت کے ساتھ جاگزیں تھا، بعد میں یہ تصور بتدریج دھندلاتا چلا گیا، اسی کیفیت کو بادشاہت کے نام سے تعبیر کیا گیا، ورنہ فی الواقع بادشاہت اسلام میں مذموم نہیں ہے۔ سیدنا عمر بن عبد العزیز اصطلاحی طور پر بادشاہ ہی تھے، یعنی طریقہ ٔ ولی عہدی سے خلیفہ بنے تھے، لیکن اپنے طرزِ حکمرانی کی بنا پر اپنا نیک نام چھوڑ گئے۔ اسی طرح اسلامی تاریخ میں اور بھی متعدد بادشاہ ایسے گزرے ہیں، جن کے روشن کارناموں سے تاریخ اسلام کے اوراق مزین اور جن کی شخصیتیں تمام مسلمانوں کی نظروںمیں محمود و مستحسن ہیں۔ اسی طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھی اگر کوئی شخص بادشاہ کہنے پر مصر ہے تو بصد شوق کہے۔ ان جیسا عادل، خدا ترس اور عظیم کارنامے سرانجام دینے والا بادشاہ دنیا کی پوری تاریخ پیش نہیں کر سکتی۔ لیکن اگر کوئی شخص اس نقطۂ نظر سے ان کو بادشاہ کہے کہ وہ اسلامی طرزِ حکومت سے دور ہٹ گئے تھے، ان کے دورِ حکومت کا نظام اسلامی نہیں تھا اور ان کو اخلاق و شریعت کی حدود پھاند جانے میںکوئی باک نہ تھا، جس طرح کہ مولانا مودودی نے خلافت و ملوکیت میں یہی کچھ باور کرانے کی کوشش کی ہے، تو یہ سراسر ظلم،ناانصافی، غیر متعدل طرزِ فکر اور یکسر امرِ واقعہ کے خلاف ہے۔ اس موضوع پر حافظ صلاح الدین یوسف کی کتاب خلافت و ملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت کا مطالعہ بہت مفید رہے گا۔ ان شاء اللہ۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ: دس سال، چھ ماہ، آٹھ دن
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ: گیارہ سال، گیارہ ماہ، نو دن
سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ: چار سال، نو ماہ، سات دن
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ: چھ ماہ
سنن ابی داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((خِلَافَۃُ النُّـبُوَّۃِ ثَـلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُؤْتِی اللّٰہُ الْمُلْکَ اَوْ مَلَّکَہُ مَنْ یَّشَائُ۔)) … تیس سال تک نبوت والی خلافت رہے گی، پھر اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا، اپنی بادشاہت عطا کر دے گا۔ ملا علی قاری نے کہا: اس حدیث کا یہ معنی معلوم ہوتا ہے کہ تیس سال تک خلافت ِ کاملہ جاری رہے گی، اس میں مخالفت کا اور حق سے دور ہونے کا عنصر نہیں ہو گا، لیکن اس کے بعد کبھی یہ وصف مثبت نظر آئے گا اور کبھی منفی۔ (مرقاۃ: ۹/ ۲۷۱)
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ بادشاہت فی نفسہ کوئی مذموم چیز نہیں ہے، کہ اس حدیث کا معنی یہ کیا جائے کہ تیس سالہ دورِ خلافت کے بعد والی امارت و ملوکیت پر طعن و تشنیع شروع کر دیا جائے۔ اسلام میں وہ بادشاہت مذموم ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام سے عملاً یا علماً اور عملاً ناآشنا ہو۔ ایسے بادشاہ کو امیر المومنین کا لقب دیا جائے یا خلیفۃ المسلمین کا، اس سے اس کی امارت یا خلافت کو کوئی سہارا نہیں ملے گا۔ اسلام میں القاب کا اعتبار نہیں ہے، عمل
اور حقیقت کو معتبر سمجھا جاتا ہے۔ اگر کسی بادشاہ کا مقصد دین حق کی اشاعت اور اس کی سر بلندی، اسلامی تہذیب و تمدن کا نفاذ اور اس کا فروغ ہو، تو وہ قابل تعریف ہو گا، اگرچہ وہ باپ کے مر جانے کے بعد وراثۃً تخت نشین ہوا ہو۔ آج کل لوگوں نے نفس بادشاہت کو خلافت و نبوت کے منافی تصور کر رکھا ہے، جس کے لیے کوئی شرعی بنیاد نہیں۔ علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں: وہ بادشاہت، جو تصورِ خلافت کے منافی اور مخالف ہے، وہ جبروتیت (اور سرکشی) ہے، جسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس وقت کسریت سے تعبیر کیا تھا، جب اس کے کچھ ظاہری آثار سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ میں انہوں نے دیکھے۔ لیکن وہ بادشاہت جس میں قہر و غلبہ، عصبیت اور شکوہ نہ ہو، وہ خلافت کے منافی ہے نہ نبوت کے۔ سلیمان علیہ السلام اور داود علیہ السلام دونوں نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی تھے، لیکن اس کے باوجود وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور دنیوی امور میں راہِ مستقیم پر قائم رہے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کی بادشاہت بھی ایسے ہی تھی، ان کا مقصد محض بادشاہت کا حصول یا دنیاوی عزّ و جاہ میں اضافہ نہ تھا۔ جب مسلمان اکثر حکومتوں پر غالب آ گئے تو طبعی عصبیت کی بنا پر ان کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہوا، بہرحال وہ مسلمانوں کے خلیفہ تھے، انھوں نے مسلم قوم کی اسی طرح رہنمائی کی، جس طرح بادشاہ اپنی اقوام کی اس وقت کرتے ہیں، جب قومی عصبیت اور شاہی مزاج اس کا متقاضی ہوتا ہے۔
اسی طرح دیندار خلفاء کا حال ہے جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد ہوئے۔ انہیں بھی جب ضرورت لاحق ہوئی شاہانہ طور طریقے استعمال کیے۔ ان خلفاء کے حالات کا مطالعہ کرتے وقت اس بات کی ضرورت ہے کہ صرف صحیح روایات پر اعتماد کیا جائے نہ کہ کمزور روایات پر۔ جس خلیفہ کے افعال ٹھیک ہوں وہ خلیفہ ٔ رسول ہے اور جو اس معیار پر پورا نہ اترے وہ دنیا کے عام بادشاہوں کی طرح بادشاہ ہے، اگرچہ اس کو خلیفہ ہی کیوں نہ کہا جاتا ہو۔ (تاریخ ابن خلدون: ۲/ ۱۴۲)
حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں اصل مطاع اور قانون ساز اللہ تعالیٰ ہے، خلیفہ کا منصب نہ قانون سازی ہے اور نہ اس کی ہر بات واجب الاطاعت ہے، وہ اللہ کے حکم کا پابند اور اس کو نافذ کرنے والا ہے اور اس کی اطاعت بھی اسی شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ حکمرانی کا یہ تصور پہلے چار خلفاء کے دل و دماغ میں جس شدت کے ساتھ جاگزیں تھا، بعد میں یہ تصور بتدریج دھندلاتا چلا گیا، اسی کیفیت کو بادشاہت کے نام سے تعبیر کیا گیا، ورنہ فی الواقع بادشاہت اسلام میں مذموم نہیں ہے۔ سیدنا عمر بن عبد العزیز اصطلاحی طور پر بادشاہ ہی تھے، یعنی طریقہ ٔ ولی عہدی سے خلیفہ بنے تھے، لیکن اپنے طرزِ حکمرانی کی بنا پر اپنا نیک نام چھوڑ گئے۔ اسی طرح اسلامی تاریخ میں اور بھی متعدد بادشاہ ایسے گزرے ہیں، جن کے روشن کارناموں سے تاریخ اسلام کے اوراق مزین اور جن کی شخصیتیں تمام مسلمانوں کی نظروںمیں محمود و مستحسن ہیں۔ اسی طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھی اگر کوئی شخص بادشاہ کہنے پر مصر ہے تو بصد شوق کہے۔ ان جیسا عادل، خدا ترس اور عظیم کارنامے سرانجام دینے والا بادشاہ دنیا کی پوری تاریخ پیش نہیں کر سکتی۔ لیکن اگر کوئی شخص اس نقطۂ نظر سے ان کو بادشاہ کہے کہ وہ اسلامی طرزِ حکومت سے دور ہٹ گئے تھے، ان کے دورِ حکومت کا نظام اسلامی نہیں تھا اور ان کو اخلاق و شریعت کی حدود پھاند جانے میںکوئی باک نہ تھا، جس طرح کہ مولانا مودودی نے خلافت و ملوکیت میں یہی کچھ باور کرانے کی کوشش کی ہے، تو یہ سراسر ظلم،ناانصافی، غیر متعدل طرزِ فکر اور یکسر امرِ واقعہ کے خلاف ہے۔ اس موضوع پر حافظ صلاح الدین یوسف کی کتاب خلافت و ملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت کا مطالعہ بہت مفید رہے گا۔ ان شاء اللہ۔
حدیث نمبر: 12039
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ وَفَدْنَا مَعَ زِيَادٍ (وَفِي رِوَايَةٍ وَفَدْتُ مَعَ أَبِي) إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ (وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ نَعْزِيهِ) وَفِينَا أَبُو بَكْرَةَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَيْهِ لَمْ يُعْجَبْ بِوَفْدٍ مَا أُعْجِبَ بِنَا فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرَةَ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ وَيَسْأَلُ عَنْهَا فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ ”أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيًا“ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا دُلِّيَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحْتَ بِأَبِي بَكْرٍ ثُمَّ وُزِنَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ فَاسْتَاءَ لَهَا وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا فَسَاءَهُ ذَاكَ ثُمَّ قَالَ ”خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ“ قَالَ فَزُخَّ فِي أَقْفَائِنَا فَأُخْرِجْنَا فَقَالَ زِيَادٌ لَا أَبًا لَكَ أَمَا وَجَدْتَ حَدِيثًا غَيْرَ ذَا حَدِّثْهُ بِغَيْرِ ذَا قَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أُحَدِّثُهُ إِلَّا بِذَا حَتَّى أُفَارِقَهُ فَتَرَكَنَا ثُمَّ دَعَا بِنَا فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرَةَ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبَكَعَهُ بِهِ فَزُخَّ فِي أَقْفَائِنَا فَأُخْرِجْنَا فَقَالَ زِيَادٌ لَا أَبًا لَكَ أَمَا تَجِدُ حَدِيثًا غَيْرَ ذَا حَدِّثْهُ بِغَيْرِ ذَا فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أُحَدِّثُهُ إِلَّا بِهِ حَتَّى أُفَارِقَهُ قَالَ ثُمَّ تَرَكَنَا أَيَّامًا ثُمَّ دَعَا بِنَا فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرَةَ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبَكَعَهُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ أَتَقُولُ الْمُلْكَ (وَفِي رِوَايَةٍ تَقُولُ أَنَا مُلُوكٌ) فَقَدْ رَضِينَا بِالْمُلْكِ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَجَدْتُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک وفد کی صورت میں زیاد کے ہمراہ گئے، ایک روایت میں ہے کہ میں اپنے والد کی معیت میں وفد کی صورت میں سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا، ایک اور حدیث میں ہے کہ عبدالرحمن نے کہا، ہم ان کے ہاں تعزیت کے لیے گئے، جب ہم ان کے ہاں پہنچے تو وہ کسی وفد کی آمد پر اس قدر خوش نہ ہوئے تھے، جس قدر وہ ہمارے وفد کے آنے پر خوس ہوئے، انہو ں نے کہا: ابو بکرہ ! آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث سنائیں، سیدنا ابو بکر ہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچھے خواب بہت پسند تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے پوچھا کرتے تھے کہ اگر کسی نے اچھا خواب دیکھا ہو تو وہ بیان کرے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہوتو وہ بیان کرے۔ ایک آدمی نے کہا: جی میں نے دیکھا کہ گویا ایک ترازو آسمان کی طرف سے نیچے کولٹکا دی گئی ہے، آپ کا اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وزنی رہے، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو تو لاگیا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ وزنی رہے، اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو تولاگیا، عمر وزنی رہے اس کے بعد ترازو کو اٹھا لیا گیا۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ غمگین ہوگئے، حماد نے بھی بیان کیا کہ یہ بات سن کر معاویہ رضی اللہ عنہ افسردہ ہوگئے۔ اور پھر کہا: اس حدیث میں میں نبوت والی خلافت کی طرف اشارہ ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا، حکومت عطا فرمائے گا۔ یہ حدیث سن کر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں اپنے دربار سے باہر بھجوادیا، زیاد نے کہا: کیا آپ کو اس کے سوا دوسری کوئی حدیث یاد نہ تھی؟ سیدنا ابوبکر ہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں جب تک ان کے پاس جاتا رہوں گا، ان کو یہی حدیث سناؤں گا، کچھ دنوں بعد ایک دفعہ پھر سیدنا معاویہ نے ہمیں بلوایا اور کہا: ابو بکرہ! آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث ہی بیان کر دیں، انہوں نے وہی حدیث دہرائی۔ سیدنا معاویہ کو یہ حدیث سنناناپسندگزرا اور انہوں نے ہمیں اپنے دربار سے باہر نکلوادیا۔ زیاد نے کہا: کیا تمہیں اس کے علاوہ کوئی اور حدیث یاد نہیں تھی؟ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں جب تک ان کے ہا ں جاتا رہوں گا، یہی حدیث سناتا رہوں گا، کچھ دنوں بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں پھر بلوایا اور کہا: ابو بکرہ ! ہمیں کوئی حدیث ِ رسول ہی سنا دو، سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے پھر وہی حدیث ِ مبارکہ دوہرا دی، انہیں پھر ناگوار گزری، لیکن اس بار سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ ہماری حکومت کو ملوکیت کہتے ہیں؟ ایک روایت میں ہے:آپ ہمیں خلیفہ کی بجائے بادشاہ کہتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ہم ملوکیت پر ہی راضی ہیں۔ابو عبدالرحمن نے کہا کہ میں نے یہ حدیث اپنے والد کی کتاب میں ان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی پائی۔