کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ورقہ بن نوفل کا تذکرہ
حدیث نمبر: 12016
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ خَدِيجَةَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ فَقَالَ ”قَدْ رَأَيْتُهُ فِي الْمَنَامِ فَرَأَيْتُ عَلَيْهِ ثِيَابَ بَيَاضٍ فَأَحْسِبُهُ لَوْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ ثِيَابُ بَيَاضٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ورقہ بن نوفل کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس کو خواب میں دیکھا ہے، اس نے سفید کپڑے زیب ِ تن کیے ہوئے تھے، میرا خیال ہے کہ اگر وہ جہنمی ہوتا تو اس پر سفید کپڑے نہ ہوتے۔
وضاحت:
فوائد: … ورقہ بن نوفل، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا زاد بھائی تھے، یہ بھی زید بن عمرو کی طرح فطرت پر برقرار تھے، لیکن انھوں نے نصرانیت کو پسند کر کے قبول کر لیا اور مختلف پادریوں کو ملے، انھوںنے اسی مذہب کی روشنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہونے والی پہلی وحی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حوصلہ افزائی کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كنى الصحابيات / حدیث: 12016
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، أخرجه عبد الرزاق: 9709 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24871»