حدیث نمبر: 12013
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يُوشِكُ أَنْ تَضْرِبُوا“ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً ”أَنْ يَضْرِبَ النَّاسُ أَكْبَادَ الْإِبِلِ يَطْلُبُونَ الْعِلْمَ لَا يَجِدُونَ عَالِمًا أَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ“ وَقَالَ قَوْمٌ هُوَ الْعُمَرِيُّ قَالَ فَقَدَّمُوا مَالِكًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم لوگ طلب علم کے لیے اونٹوں پر سفر کرکے ان کو تھکا دو گے اور لوگ اہل مدینہ کے عالم سے بڑھ کر کوئی بڑا عالم نہیں پائیں گے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے عمری مراد ہیں، لیکن جمہور کا خیال ہے کہ اس سے امام مالک بن انس رحمہ اللہ مراد ہیں، پس انھوں نے امام مالک کو ترجیح دی۔
وضاحت:
فوائد: … امام مالک l مشہور ائمہ اربعہ میں سے ایک ہیں،یہ امام دار الہجرہ ہیں، امام صاحب(۹۱) سن ہجری میں پیدا ہوئے اور (۱۷۹) سن ہجری میں وفات پائی، اہل علم ان کی امامت، جلالت، سیادت اور توقیر پر متفق ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کی تعظیم کرنے اور یاد کرنے میں ان کو کمال حاصل تھا۔
عمری سے مراد کون ہے؟ اس کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) عبد اللہ بن عبد العزیز بن عبد اللہ بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب، یہ بڑے زہد و تقوی والے تھے، امام نسائی نے ان کو ثقہ کہا اور امام ابن حبان نے کہا: اپنے زمانے کے سب سے بڑے زاہد تھے اور خلوت میں بہت زیادہ عبادت کرنے والے تھے۔ (۱۸۴) سن ہجری میں ان کی وفات ہوئی۔
(۲) امام ترمذی نے کہا: عمری سے مراد عبد العزیز بن عبد اللہ ہیں، جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تھے۔
عمری سے مراد کون ہے؟ اس کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) عبد اللہ بن عبد العزیز بن عبد اللہ بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب، یہ بڑے زہد و تقوی والے تھے، امام نسائی نے ان کو ثقہ کہا اور امام ابن حبان نے کہا: اپنے زمانے کے سب سے بڑے زاہد تھے اور خلوت میں بہت زیادہ عبادت کرنے والے تھے۔ (۱۸۴) سن ہجری میں ان کی وفات ہوئی۔
(۲) امام ترمذی نے کہا: عمری سے مراد عبد العزیز بن عبد اللہ ہیں، جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تھے۔