کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: زید بن عمرو بن نفیل کا تذکرہ
حدیث نمبر: 12012
أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ فَقَدَّمَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةً فِيهَا لَحْمٌ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ إِنِّي لَا آكُلُ مَا تَذْبَحُونَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ وَلَا آكُلُ إِلَّا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ حَدَّثَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زید بن عمرو بن نفیل سے بلدح سے نشیبی حصے میں ملاقات ہوئی،یہ آپ پر نزول وحی سے پہلے کا واقعہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی خدمت میں کھانا پیش کیا، اس میں گوشت بھی تھا، زید نے کھانا کھانے سے انکار کیا اور کہا کہ تم لوگ اپنے بت خانوں پر جو جانور ذبح کرتے ہو، میں وہ نہیں کھاتا اور جس ذبیحہ پر اللہ کا نام نہ لیا جائے، میں وہ بھی نہیں کھایا کرتا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا۔
وضاحت:
فوائد: … زید بن عمرو بن نفیل کے بیٹے سیدنا سعید بن زید عدوی رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعث سے قبل زید بن عمرو کو بت پرستی سے نفرت تھی،یہ حق کی تلاش میں رہتے تھے، فطری طور پر انہیںیہودیت اور نصرانیت بھی پسند نہ آئی، دراصل یہ شریعت ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے جس کی بنیاد توحید پر تھی، غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ نہیں کھاتے تھے، اسی لیے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سامنے کھانا پیش کیا تو انہوں نے سمجھا کہ دیگر اہل مکہ کی طرح آپ نے بھی بتوں کے نام پر یہ جانور ذبح کیا ہوگا، جبکہ در حقیقت ایسا نہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی شروع ہی سے غیر اللہ کے نام کی چیز نہ کھاتے تھے اللہ نے آپ کو ایسے کھانوں سے ہمیشہ محفوظ رکھا، صحیح بخاری میں ہے کہ زید بن عمرو بن نفیل، اہل مکہ سے کہا کرتے تھے کہ بکری کو اللہ نے پیدا کیا، اسی نے اس کے لیے آسمان سے پانی نازل کیا اور اسی نے اس کے لیے زمین سے گھاس اور چارہ اگایا اور پھر تم اس بکری کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرتے ہو۔ تمہارے اس عمل اور عقیدے پر حیف ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كنى الصحابيات / حدیث: 12012
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3826 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6110 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6110»