حدیث نمبر: 12011
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ مَا كَانَ أَشَدَّ عَلَى ابْنِ عُيَيْنَةَ أَنْ يَقُولَ حَدَّثَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن امام احمد سے مروی ہے کہ میرے والد امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: امام سفیان ابن عینیہ رحمتہ اللہ علیہ کے لیے حَدَّثَنَا کہنے سے زیادہ مشکل کوئی کام نہ تھا۔
وضاحت:
فوائد: … حَدَّثَنَا کہنے سے مراد احادیث بیان کرنا ہے، یعنی امام سفیان احادیث بیان کرنے کو سب سے مشکل کام سمجھتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کوئی ایسی بات منسوب ہو جائے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد نہ فرمائی ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث میں کوئی غلطی ہو جائے۔
سفیان بن عیینہ تبع تابعی ہیں، مکہ مکرمہ ان مسکن تھا اور انھوں نے وفات بھییہیں پائی، انہوںنے امام زہری، امام عمرو بن دینار، امام شعبی، امام عبداللہ بن دینار اور امام محمد بن منکدر سے سماع حدیث کیا اور ان سے امام اعمش، امام ثوری، امام ابن جریج، امام شعبہ، امام عبد اللہ بن مبارک، امام حماد بن زید، امام شافعی، امام احمد اور امام ابن مدینی وغیرہ نے احادیث روایت کیں، ان کی جلالت و عظمت و رفعت پر اہل علم کا اتفاق ہے، ان کی ولادت (۱۰۷) سن ہجری میں اور وفات (۱۹۸) سن ہجری میں ہوئی۔
سفیان بن عیینہ تبع تابعی ہیں، مکہ مکرمہ ان مسکن تھا اور انھوں نے وفات بھییہیں پائی، انہوںنے امام زہری، امام عمرو بن دینار، امام شعبی، امام عبداللہ بن دینار اور امام محمد بن منکدر سے سماع حدیث کیا اور ان سے امام اعمش، امام ثوری، امام ابن جریج، امام شعبہ، امام عبد اللہ بن مبارک، امام حماد بن زید، امام شافعی، امام احمد اور امام ابن مدینی وغیرہ نے احادیث روایت کیں، ان کی جلالت و عظمت و رفعت پر اہل علم کا اتفاق ہے، ان کی ولادت (۱۰۷) سن ہجری میں اور وفات (۱۹۸) سن ہجری میں ہوئی۔