کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: احنف بن قیسlکا تذکرہ
حدیث نمبر: 12008
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الْأَحْنَفِ قَالَ بَيْنَمَا أَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالَ أَلَا أُبَشِّرُكَ قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ أَتَذْكُرُ إِذْ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِكَ بَنِي سَعْدٍ أَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ قَالَ فَقُلْتُ أَنْتَ وَاللَّهِ مَا قَالَ إِلَّا خَيْرًا وَلَا أَسْمَعُ إِلَّا حُسْنًا فَإِنِّي رَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِكَ قَالَ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَحْنَفِ“ قَالَ فَمَا أَنَا لِشَيْءٍ أَرْجَى مِنْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حسن سے روایت ہے کہ احنف نے کہا: میں ایک دفعہ بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا کہ بنو سلیم کا ایک آدمی آ کر مجھے ملا اور اس نے مجھ سے کہا:کیا میں تمہیں ایک خوش خبری سناؤں؟ میں نے کہا: جی ضرور سنائیں۔ اس نے کہا: کیا آپ کو یاد ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تمہاری قوم بنو سعد کی طرف روانہ فرمایا تھا تاکہ میں انہیں اسلام کی دعوت دوں تو تم نے اس موقع پر کہا تھا کہ اللہ کی قسم! اس رسول نے اچھی بات ہی کہی ہے اور میں نے بھی ان کے متعلق اچھا ہی سنا ہے، جب میں نے واپس آکر تمہاری بات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آگاہ کیا تو آپ نے یوں دعا کی تھی: اے اللہ! تو احنف کو بخش دے۔ انھوں نے کہا: پس مجھے سب سے زیادہ امید اسی دعا پر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … احنف بن قیس، مشہور قول کے مطابق ان کا نام ضحاک ہے، بعض نے ضخر اور حارث بھی نقل کیا ہے، احنف ان کا نام نہیں، بلکہ لقب ہے۔ ان کی شہرت نام کی بجائے اس لقب سے ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ پایا اور اسی دور میں اسلام بھی قبول کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات نہ کر سکے، انھوں نے سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا عبد اللہ بن مسعود اور سیدنا ابو ذر وغیرہ سے احادیث روایت کی ہیں، امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ احنف، اہل بصرہ کے سردار ہیں، ان کی وفات (۶۷) سن ہجری میں بصرہ میں ہوئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كنى الصحابيات / حدیث: 12008
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، اخرجه البخاري في التاريخ الكبير : 2/ 50، وفي الاوسط : 1/ 185، والطبراني في الكبير : 7285، والحاكم: 3/ 614 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23161 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23548»
حدیث نمبر: 12009
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ لَمَّا أَقْبَلَ أَهْلُ الْيَمَنِ جَعَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْتَقْرِي الرِّفَاقَ فَيَقُولُ هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ قَرَنٍ حَتَّى أَتَى عَلَى قَرَنٍ فَقَالَ مَنْ أَنْتُمْ قَالُوا قَرَنٌ فَوَقَعَ زِمَامُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْ زِمَامُ أُوَيْسٍ فَنَاوَلَهُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَعَرَفَهُ فَقَالَ عُمَرُ مَا اسْمُكَ قَالَ أَنَا أُوَيْسٌ فَقَالَ هَلْ لَكَ وَالِدَةٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَهَلْ كَانَ بِكَ مِنَ الْبَيَاضِ شَيْءٌ قَالَ نَعَمْ فَدَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَأَذْهَبَهُ عَنِّي إِلَّا مَوْضِعَ الدِّرْهَمِ مِنْ سُرَّتِي لِأَذْكُرَ بِهِ رَبِّي قَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لِي أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ خَيْرَ التَّابِعِينَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أُوَيْسٌ وَلَهُ وَالِدَةٌ وَكَانَ بِهِ بَيَاضٌ فَدَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَأَذْهَبَهُ عَنْهُ إِلَّا مَوْضِعَ الدِّرْهَمِ فِي سُرَّتِهِ“ فَاسْتَغْفَرَ لَهُ ثُمَّ دَخَلَ فِي غِمَارِ النَّاسِ فَلَمْ يُدْرَ أَيْنَ وَقَعَ قَالَ فَقَدِمَ الْكُوفَةَ قَالَ وَكُنَّا نَجْتَمِعُ فِي حَلْقَةٍ فَنَذْكُرُ اللَّهَ وَكَانَ يَجْلِسُ مَعَنَا فَكَانَ إِذَا ذَكَرَ هُوَ وَقَعَ حَدِيثُهُ مِنْ قُلُوبِنَا مَوْقِعًا لَا يَقَعُ حَدِيثُ غَيْرِهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اسیربن جابر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب اہل یمن کے قافلے اور وفود آئے تو امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے قافلوں کے پاس بار بار جا کر دریافت کرتے کہ آیا تم میں بنو قرن قبیلے کا کوئی فرد بھی ہے؟ یہاں تک کہ آپ بنو قرن کے لوگوں کے پاس پہنچ گئے، آپ نے ان سے دریافت کیا کہ تم لوگ کس قبیلہ سے ہو؟ انہوں نے بتلایا کہ وہ بنو قرن قبیلے کے لوگ ہیں، اسی دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یا اویس کی سواری کی مہار نیچے گر گئی تو ان میں سے ایک نے دوسرے کو وہ مہار تھما دی، اسی دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اویس کو پہچان گئے، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: آپ کا نام کیا ہے؟ انہوں نے بتلایا: جی میرا نام اویس ہے۔ انھوں نے پوچھا: تمہاری والدہ حیات ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے پوچھا: کیا تمہارے جسم پر سفید داغ (دھبہ) تھا؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، پھر میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی اوراس نے اسے ختم کر دیا تھا، البتہ اس میں سے ایک درہم جتنا دھبہ میری ناف کے قریب باقی رہ گیا ہے، تاکہ میں اسے دیکھ کر اپنے رب کو یاد کرتا رہوں۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا:آپ میرے حق میں دعائے مغفرت کریں۔ اس نے کہا: آپ اس بات کا زیادہ حق رکھتے ہیں کہ آپ میرے حق میں مغفرت کی دعا کریں، کیونکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ تابعین میں سے سب سے افضل آدمی کا نام اویس ہے، اس کی والدہ حیات ہے، اس کے جسم پر سفید نشانات تھے، اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ نے اس مرض کو اس سے زائل کر دیا، صرف ایک درہم کے برابر نشان اس کی ناف کے قریب باقی رہ گیا۔ یہ سن کر اویس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں دعائے مغفرت کی، اس کے بعد وہ لوگوں کی بھیڑ میں چلے گئے اور کچھ پتہ نہ چل سکا کہ وہ کدھر غائب ہوگئے۔ اسیر کہتے ہیں: وہ کوفہ آئے، ہم ایک حلقہ میں جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے، جناب اویس وہ بھی ہمارے ساتھ تشریف رکھتے، جب وہ وعظ و نصیحت کرتے تو ان کی باتوں کا ہمارے دلوں پر اس قدر اثر ہوتا کہ کسی دوسرے کی تذکیر کا اتنا اثر نہ ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كنى الصحابيات / حدیث: 12009
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 2542، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 266 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 266»
حدیث نمبر: 12010
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ نَادَى رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يَوْمَ صِفِّينَ أَفِيكُمْ أُوَيْسٌ الْقَرَنِيُّ قَالُوا نَعَمْ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ مِنْ خَيْرِ التَّابِعِينَ أُوَيْسًا الْقَرَنِيَّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے مروی ہے کہ جنگ صفین کے دن اہل شام میں سے ایک شخص نے بلند آواز سے پکار کر دریافت کیا:آیا تمہارے اندر اویس قرنی نام کا کوئی آدمی موجود ہے؟ لوگوں نے بتلایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ تابعین میں سب سے افضل شخص اویس قرنی ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … ا ویس ایکیمنی باشندہ تھا، اپنی والدہ کی خدمت کرنے کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہ سکا، ایسے شخص کو محدثین کی اصطلاح میں مُخَضْرَم کہتے ہیں۔ جبیہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا: اب آپ کہاں جانا چاہتے ہیں؟ انھوں نے کہا: کوفہ کی طرف۔ آپ نے کہا: کیا میں کوفہ کے عامل کی طرف خط لکھ دوں (تاکہ وہ آپ کو عزت دے)؟ انھوں نے کہا: مفلس اور فقیر لوگوںمیں رہنا مجھے زیادہ پسند ہے۔ اگلے سال اس قبیلے کا ایک معزز آدمی حج کرنے کے لیے آیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کی ملاقات ہوئی۔ آپ نے اس سے اویس کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا: اویس کے پاس تھوڑا سا سامان ہے اور ایک ردّی گھر میں سکونت پذیر ہیں۔ (مسلم)
اویسl دور رسالت میں اسلام قبول کرچکے تھے، ان دنوں ان کی والدہ حیات تھیں، ان کے سوا اس کی خدمت
کرنے والا اور کوئی نہ تھا، وہ اپنی والدہ کی خدمت کی وجہ سے شرف صحابیت حاصل نہ کر سکے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو ان کی تفصیل بتا دی تھی، جس کا ذکر مذکورہ بالا احادیث میں گزرا ہے، ساری علامات کی تصدیق کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے دعا کی درخواست کی۔ جناب اویسl نے عاجزی کے طور پر کہا کہ آپ صحابی ٔ رسول ہیں۔ آپ میرے حق میں دعا فرمائیں، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ساری بات بتلائی تو انہوںنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں دعا کی اور پھر لوگوں کے ہجوم میں کہیں غائب ہوگئے تاکہ لوگوں میں ان کی اس انداز سے شہرت نہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كنى الصحابيات / حدیث: 12010
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره اخرجه الحاكم: 3/ 402، والبيھقي في الدلائل : 6/ 378 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15942 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16038»