کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: خاتمہ: ایسے لوگوں کے مناقب، جو صحابہ میں سے نہیں ہیں امام ابراہیم نخعیlاور امام اسودlکا تذکرہ
حدیث نمبر: 12007
عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ قُلْتُ كَيْفَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا قَالَ كَانَ يَخْرُجُ مَعَ خَالِهِ الْأَسْوَدِ قَالَ وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَائِشَةَ إِخَاءٌ وَوُدٌّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو معشرکہتے ہیں کہ ابراہیم نخعی ، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس جایا کرتے تھے۔ حدیث کے راوی سعید بن ابی عروبہ نے اپنے شیخ ابو معشر سے دریافت کیا کہ وہ ان کی خدمت میں کیسے چلے جاتے تھے؟ انھوں نے کہا: وہ اپنے ماموں اسود کے ساتھ جاتے تھے، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور اسود کے مابین بھائی چارہ اور کافی الفت و محبت تھی۔
وضاحت:
فوائد: … امام اسود بن یزید بن قیس بن عبداللہ بن مالک بن علقمہ نخعی کوفی تابعی مشہور فقیہ ہیں، ان کی کنیت ابو عمرو اور ابو عبدالرحمن ہے، یہ عبدالرحمن بن یزید کے بھائی اور علقمہ بن قیس کے بھتیجے اور ابراہیم بن یزید نخعی کے ماموں ہیں، انہیں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوااور انہوں نے سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا معاذ، سیدنا ابو موسیٰ اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ سے احادیث روایت کی ہیں، انھوں نے الگ الگ سفروں میں اسی سے زائد حج اور عمرے ادا کئے۔عجلی کہتے ہیں کہ انہوںنے اسلام سے پہلے کا دور بھی پایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں مشرف با سلام بھی ہوئے، مگر آپ سے ملاقات نہ ہو سکی،(۷۴ ئا ۷۵) سن ہجری میں ان کا انتقال ہوا، یہ صالح مزاج بزرگ تھے۔ امام ابراہیم بن یزید بن قیس بن اسود بن عمرو بن ربیعہ بن ذہل بن سعد بن مالک بن نخع، یہ کوفی ہیں، اپنے جدا مجد نخع کی نسبت سے نخعی کی نسبت سے شہرت پائی، کوفہ کے فقیہ ہیں، ان کی کنیت ابو عمران ہے، جلیل القدر تابعی ہیں، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے لیکن ان سے ان کا سماع حدیث ثابت نہیں، اٹھاون سال کی عمر میں (۹۶) سن ہجری میں وفات پائی۔