حدیث نمبر: 12002
عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى فَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ عَنْ فَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَجَرْتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَحْمَائِي فَأَدْخَلْتُهُمَا بَيْتًا وَأَغْلَقْتُ عَلَيْهِمَا بَابًا فَجَاءَ ابْنُ أُمِّي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَتَفَلَّتَ عَلَيْهِمَا بِالسَّيْفِ قَالَتْ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَجِدْهُ وَوَجَدْتُ فَاطِمَةَ فَكَانَتْ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ زَوْجِهَا قَالَتْ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ أَثَرُ الْغُبَارِ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ”يَا أُمَّ هَانِئٍ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام ہانی فاختہ بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: فتح مکہ والے دن میں نے اپنے دو سسرالی رشتہ داروں کو پناہ دی اور ان کو گھر میں داخل کر کے دروازہ بند کر دیا، میری اپنی ماں کا بیٹا سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آئے اور ان پر تلوار سونت لی، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے نہ مل سکے، البتہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں، لیکن وہ میرے معاملے میں مجھ پر اپنے خاوند سے بھی زیادہ سختی کرنے والی تھیں، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گردو غبار کا اثر تھا، جب میں نے اپنی بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام ہانی! جن کو تو نے پناہ دی، ہم نے بھی ان کو پناہ دی اور جن کو تو نے امن دیا، ہم نے بھی ان کو امن دے دیا۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۵۱۳۶)
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہ کا اصل نام فاختہ ہے، نبوت سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا کو پیغام دے کر ان سے نکاح کی رغبت کا اظہار کیا اور اسی طرح ہبیرہ بن ابی وہب نے بھی ان سے نکاح کرنے کا پیغام بھیجا اور ہبیرہ سے ان کا نکاح ہو گیا تھا، سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا اور اسلام نے ان کے اور ان کے شوہر کے درمیان تفریق کر دی۔
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہ کا اصل نام فاختہ ہے، نبوت سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا کو پیغام دے کر ان سے نکاح کی رغبت کا اظہار کیا اور اسی طرح ہبیرہ بن ابی وہب نے بھی ان سے نکاح کرنے کا پیغام بھیجا اور ہبیرہ سے ان کا نکاح ہو گیا تھا، سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا اور اسلام نے ان کے اور ان کے شوہر کے درمیان تفریق کر دی۔
حدیث نمبر: 12003
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَدَعَا بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهَا فَشَرِبَتْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِيرُ نَفْسِهِ إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی طلب فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی پی کر باقی پانی ان کو واپس دیا تو انہوں نے (آپ کا جوٹھا پانی) پی لیا اور پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نفلی روزے دار اپنے نفس کا خود امیر ہوتا ہے، چاہے تو روزہ پورا کر لے اور چاہے تو روزہ توڑ دے۔
حدیث نمبر: 12004
عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ مَا أَخْبَرَنِي أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى غَيْرُ أُمِّ هَانِئٍ فَإِنَّهَا حَدَّثَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ يُخَفِّفُ فِيهِنَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ) مَا رَأَتْهُ صَلَّى صَلَاةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی نے مجھے خبر نہیں دی کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہو، انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن اس کے گھر میں داخل ہوئے،غسل کیا اور آٹھ رکعات نماز پڑھی، تخفیف کے ساتھ رکوع و سجود کیے، (بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ) اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے ہلکی نماز پڑھتے کبھی نہیں دیکھا تھا، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع و سجود مکمل کر رہے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۲۲۶۸)
حدیث نمبر: 12005
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ مَرَّ بِي ذَاتَ يَوْمٍ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ وَضَعُفْتُ أَوْ كَمَا قَالَتْ فَمُرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ وَأَنَا جَالِسَةٌ قَالَ ”سَبِّحِي اللَّهَ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ فَإِنَّهَا تَعْدِلُ لَكِ مِائَةَ رَقَبَةٍ تُعْتِقِينَهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَاحْمَدِي اللَّهَ مِائَةَ تَحْمِيدَةٍ تَعْدِلُ لَكِ مِائَةَ فَرَسٍ مُسْرَجَةٍ مُلْجَمَةٍ تَحْمِلِينَ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَكَبِّرِي اللَّهَ مِائَةَ تَكْبِيرَةٍ فَإِنَّهَا تَعْدِلُ لَكِ مِائَةَ بَدَنَةٍ مُقَلَّدَةٍ مُتَقَبَّلَةٍ وَهَلِّلِي اللَّهَ مِائَةَ تَهْلِيلَةٍ“ قَالَ ابْنُ خَلَفٍ أَحْسِبُهُ قَالَ ”تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَا يُرْفَعُ يَوْمَئِذٍ لِأَحَدٍ عَمَلٌ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ بِمِثْلِ مَا أَتَيْتِ بِهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ ہو گئی ہوں اور کمزور ہو گئی ہے، اس لیے مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں کہ بیٹھ کر کر لیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سو (۱۰۰) بار سُبْحَانَ اللّٰہ کہو، یہ عمل تمہارے لیے اولادِ اسماعیل سے سو گردنیں آزاد کرنے کے برابر ہو گا، سو (۱۰۰) دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہو، یہ عمل تمہارے لیے اللہ کے راستے میں سو لگام شدہ اور زین شدہ گھوڑے دینے کے برابر ہو گا، سو (۱۰۰) بار اَللّٰہُ اَکْبَر کہو، یہ عمل تیرے لیے ان سو (۱۰۰) اونٹوں کے برابر ہو گا، جن کو قلادے ڈال کر حج کے زمانے میں مکہ مکرمہ کی طرف بھیج دیا جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبول بھی کر لیے جائیں اور سو (۱۰۰) بار لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہو، یہ عمل آسمان و زمین کے درمیانی خلا کو ثواب سے بھر دے گا، اس دن کسی آدمی کا ایسا عظیم عمل اوپر کی طرف نہیں اٹھائے، الا یہ کہ وہ اسی طرح کا عمل کرے، جیسے تو نے کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَالْبَاقِیَّاتُ الصَّالِحَاتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَ خَیْرٌ اَمَلَا۔} (سورۂ کہف: ۴۶) … اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے اچھی اور توقع کے لحاظ سے بہتر ہیں۔
تمام فرائض و واجبات اور سنن و نوافل، باقیات صالحات ہیں، بلکہ ممنوعہ امور سے اجتناب کرنا بھی عمل صالح ہے، جس پر آخرت میں اجر و ثواب ملے گا۔ اس حدیث میں ایک مثال کا ذکر ہے۔
تمام فرائض و واجبات اور سنن و نوافل، باقیات صالحات ہیں، بلکہ ممنوعہ امور سے اجتناب کرنا بھی عمل صالح ہے، جس پر آخرت میں اجر و ثواب ملے گا۔ اس حدیث میں ایک مثال کا ذکر ہے۔