حدیث نمبر: 12001
عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ عَنْ أُمِّ قَيْسٍ أَنَّهَا قَالَتْ تُوُفِّيَ ابْنِي فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لِلَّذِي يَغْسِلُهُ لَا تَغْسِلْ ابْنِي بِالْمَاءِ الْبَارِدِ فَتَقْتُلَهُ فَانْطَلَقَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهَا فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ ”مَا قَالَتْ طَالَ عُمْرُهَا“ قَالَ فَلَا أَعْلَمُ امْرَأَةً عُمِّرَتْ مَا عُمِّرَتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میرا بیٹا وفات پا گیا، میں اس پر بہت زیادہ غمگین ہوئی، میں نے غسل دینے والے سے کہا کہ میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل دے کر اسے مار نہ دینا، تو ان کے بھائی سیدہ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر تبسم کیا اور فرمایا: اس نے کیا کہا؟ اس کی عمر طویل ہو۔ ابو الحسن کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق جتنی عمر ان کو ملی، اتنی عمر کسی خاتون کی نہیں تھی۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کا نام امیہ ہے، یہ سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ ہیں، انہوں نے مکہ میں اسلام قبول کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کا شرف حاصل کیا اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی سعادت حاصل کی۔