کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خالہ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11993
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ أَنَّهَا قَالَتْ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَائِلًا فِي بَيْتِي إِذِ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ مَا يُضْحِكُكَ؟ فَقَالَ: ”عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ.“ فَقُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ.“ ثُمَّ نَامَ أَيْضًا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي مَا يُضْحِكُكَ؟ قَالَ: ”عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ.“ فَقُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: ”أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ.“ فَغَزَتْ مَعَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَكَانَ زَوْجَهَا فَوَقَصَتْهَا بَغْلَةٌ لَهَا شَهْبَاءُ فَوَقَعَتْ فَمَاتَتْ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں قیلولہ کر رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ مسکرا رہے تھے، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اس سمندر پر سوار ہو رہے ہیں، وہ بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں سے بنا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس کو ان میں سے بنا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ مجھ پر پیش کیے گئے، وہ اس سمندر پر سوار ہو رہے ہیں اور ایسے لگ رہا ہے کہ وہ تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہ ہیں۔ میں نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اوّلین لوگوں میں سے ہو۔ پھر سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا اپنے خاوند سیدنا عبادہ بن صامت کے ساتھ اس غزوے کے لیے نکلیں، شہباء خچر نے ان کو اس طرح گرایا کہ ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گئیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كنى الصحابيات / حدیث: 11993
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2799، 2800، ومسلم: 1912 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27572»
حدیث نمبر: 11994
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: اتَّكَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ابْنَةِ مِلْحَانَ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَضَحِكَ، فَقَالَتْ: مِمَّ ضَحِكْتَ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ: ”مِنْ أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ.“ قَالَتْ: ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ.“ فَنَكَحَتْ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ قَالَ: فَرَكِبَتْ فِي الْبَحْرِ مَعَ ابْنِهَا قَرَظَةَ حَتَّى إِذَا هِيَ قَفَلَتْ رَكِبَتْ دَابَّةً لَهَا بِالسَّاحِلِ، فَوَقَصَتْ بِهَا فَسَقَطَتْ فَمَاتَتْ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنت ِ ملحان کے پاس ٹیک لگائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسکراتے ہوئے سر مبارک اٹھایا، سیدہ بنت ِ ملحان رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ انھوں نے کہا: میری امت کے کچھ لوگ ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے اس سبز سمندر پر سوار ہو رہے ہیں، ان کی مثال تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کی سی ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس کو ان میں سے بنا دے۔ پھر اس خاتون نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے شادی کر لی اور اپنے بیٹے قرظہ کے ساتھ سمندری سفر شروع کیا، واپسی پر جب وہ ساحل کے پاس اپنی ایک سواری پر سوار ہوئی تو اس نے اس کو یوں گرایا کہ اس کی گردن ٹوٹ گئی، سو وہ گری اور فوت ہو گئی۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خالہ اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا، جن کا ذکر ابھی گزرا ہے، کی بہن ہیں۔ یہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے جاتے اور ان کے ہاں دوپہر کو آرام فرمایا کرتے تھے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی خالہ تھیں، (۲۷یا۲۸) سن ہجری میں بحری غزوہ سے واپسی پر ان کی وفات ہوئی۔
دیکھیں حدیث نمبر (۴۸۳۷)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كنى الصحابيات / حدیث: 11994
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13826»